Book Name:Mufti Farooq or Naikeyoun ke Hirs

تھے،  اس دوران بھی آپ  کا معمول تھا کہ  جب اپنی دُکان پر تشریف لے جاتے توپردہ گِرا کر چارسو  (400)  رکعت نمازِ نَفْل ادا فرماتے،  ایک مُدّت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا۔   پھر آپ دُکان چھوڑ کر حَضْرتِ سِرّی سَقَطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضرہوئے اوران کے مکان کی ایک کوٹھڑی میں عبادت میں مصروف ہوگئے ۔    اس طرح آپ نے چالیس   (40)  سال کاطویل عرصہ گزارا۔    تیس  (30) سال تک آپ کا معمول تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر صبح تک اللہ  اللہ   کہا کرتے اور اسی وضو سے صبح کی نماز ادا کرتے۔    آپ خود فرماتے ہیں کہ بیس  (20)  برس تک مجھ سےتکبیرِ اُولیٰ فوت نہیں ہوئی۔     (شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ،        ص: ۷۳ ملخصاً)  

میں ساتھ جماعت کے پڑھوں ساری نمازیں                               اللہ! عبادت میں مرے دل کو لگا دے

  (وسائل بخشش مرمم،        ص۱۱۴)

حَضْرت سیِّدُنا ابوبَکْرعطَّاررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب حضرت سیِّدُنا جُنید بغدادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا تو  میں اورمیرے کچھ دِینی دوست وہاں مَوجُود تھے ،  ہم نے دیکھا کہ اِنتقال سے کچھ دیر قبل کمزوری کی وجہ سے آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے ۔   آپ کے دونوں پاؤں سُوجے ہوئے تھے۔    جب رُکوع وسُجود کرتے تو ایک پاؤں موڑلیتے جس کی وجہ سے بہت تکلیف اور پریشانی ہوتی۔     دوستوں نے یہ حالت دیکھی تو کہا:  اے ابُو قاسم!یہ کیا ہے؟آپ کے پاؤں سُوجے ہوئےکیوں ہیں؟ فرمایا: ’’اللہ اَکْبَر،        یہ تو نعمت ہے۔   ‘‘حضرت سیِّدُناابُو محمدحَرِیری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: ’’اے ابو قاسم ! اگر آپ لیٹ جائیں تو کیا حرج ہے؟‘‘فرمایا:  ’’ابھی وَقْت ہے،  جس میں کچھ نیکیاں کر لی جائیں،        اس کے بعد کہاں موقع ملے گا۔   ‘‘پھر اللہ اَکْبَر کہا اور آپ کی رُوح اس دارِفانی سے عالَمِ بالا کی طرف پرواز کرگئی ۔    یہ بھی منقول ہے کہ جب آپ سے کہا گیا: حُضُور!اپنی جان پر کچھ نرمی کیجئے ،  تو فرمایا :  اب میرا نامۂ اعمال بند کیا جارہا ہے ،  اس وَقْت نیک اعمال کا مجھ سے زِیادہ کون حاجت مندہوگا۔      (عیون الحکایات،        ص۲۵۰ ملخصاً)

مِری زندگی بس تِری بندگی میں

ہی اے کاش! گُزرے سدا یا اِلٰہی