Book Name:Musibaton Pr Sabr ka Zehen kese Bane

(1)جب بھی کوئی مصیبت و پریشانی آجائے، ہمیں گھبراکر ربِّ کریم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں رُجوع کر کےکثرت سے توبہ و اِستِغفار کرنا چاہئے۔ زَبان تو زَبان دل میں بھی ایسی بات نہیں لانی چاہئے کہ میں نے تو کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، میں تو سب کے ساتھ اچّھائی کرتا ہوں آخِر”کیا خطا مجھ سے ایسی ہوئی ہے جس کی مجھ کو سزا مل رہی ہے!“ایسی نادانی بھری باتیں سوچنے کے بجائے عاجِزی بھرا مَدَنی ذِہن بنانا چاہئے، اپنے آپ کو سراپا خطا تصوُّر کرتے ہوئے ،ہر حال میں  اللہ کریم کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ میں تو سخت ترین مجرِم ہونے کے سبب شدید عذاب کا حقدار ہوں ، مجھ پر آئی ہوئی مصیبت اگر میرے گناہوں کی سزا ہے تو میں بَہُت ہی سستا چُھوٹ رہا ہوں،ورنہ دنیا کے بجائے آخِرت میں جہنَّم کی سزا ملی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔

میرے اعمال کا بدلہ تو جہنَّم ہی تھا                                               میں تو جاتا مجھے سرکار نے جانے نہ دیا

(سامانِ بخشش،ص۶۱)

(2)رحمتِ عالم،نورِ مُجسّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اورصحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور آزمائشوں کو یاد کرنا بھی مصیبتوں پر صبر کا ذہن بنانے میں بے حد مفید ہے۔رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اصحاب کو کس کس طرح سے ستایا گیا،آئیے! اس کی چند دلخراش جھلکیاں ملاحظہ کیجئے،چنانچہ

جب مکی مدنی سلطان،رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مکے کی وادیوں میں لوگوں کو خُدائے پاک کی عِبَادت کی طرف بُلانا شروع فرمایا تو شرک وکفر کی فضاؤں میں پروان چڑھنے والوں کو یہ بات سخت ناگوار گزری اور وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جان کے دشمن ہو گئے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی راہ میں کانٹے بچھائے،جسمِ نازنین پر پتھر برسائے، تکالیف ومَصَائِب کے پہاڑ توڑ ڈالے اور طعن