Book Name:Musibaton Pr Sabr ka Zehen kese Bane

طرف سےگھیراڈال دیں تب بھی حرفِ شکایت زبان پر ہرگزنہ آئے بلکہ ان پر صبرکرکے اس کے بدلے میں  ملنے والے ثواب کے تصور میں ایسے گم ہوجائیں کہ تکلیف کا احساس تک باقی نہ رہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سیرتِ طیّبہ سے بھی ہمیں یہی مدنی پھول ملتا ہے کہ جب ان پر کوئی مُصیبت آجاتی تو یہ حضرات اس پر صبرکے بدلے ملنے والے ثواب کے تصوُّر میں ایسے گُم ہوجاتے کہ انہیں تکلیف کا احساس تک نہ رہتا۔بلکہاللہ پاک کے یہ  نیک بندے مُصیبتوں کے آنے پر خوش ہوتے۔آئیے!بطورِ ترغیب3ایمان افروز واقعات ملاحظہ کیجئے اور اپنے آپ کو  صبر و رضا کا پیکر بنانے کی کوشش کیجئے،چنانچہ

زخمی ہوتے ہی ہنس پڑنا

منقول ہے،حضرت سیِّدُنا فتح مَوصِلی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی اَہلیۂ محتر مہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہا ایک مرتبہ زور سے گِریں، جس سے ناخُن(Nail) ٹُوٹ گیا، لیکن دَرد سے کَراہنے اور”ہائے“،”اُوہ“وغیرہ کرنے کے بجائے وہ ہنسنے لگیں! کسی نے پوچھا : کیا زَخم میں دَرد نہیں ہو رہا ؟ فرمایا :صَبْر کے بدلے میں ہاتھ آنے والے ثواب کی خوشی میں مجھے چوٹ کی تکلیف کا خیال ہی نہ آسکا۔(کیمیائے سعادت،رکن چہارم،منجیات، ۲/۷۸۲)

بیٹے کی موت پر مسکراہٹ

سِلْسِلَۂ عَالِیَہ چِشْتِیَہ کے عظیم پیشوا حضرت سَیِّدُنا  فُضَیْل بِن عِیَاض رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو کبھی کسی نے مسکراتے نہ دیکھا تھا،لیکن جس دن آپ کے شہزادے حضرت سَیِّدُنا علی بِن فُضَیْل رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ہوا تو آپ مسکرانے لگے،لوگوں نے عرض کی: یہ خوشی کا کونسا موقع ہے،جو آپ