Share this link via
Personality Websites!
مشہور کہاوت ہے:”جیسی کرنی ویسی بھرنی“!تو آج اگر ہم اپنے باپ کے ساتھ اس طرح کا ناپسندیدہ سُلوک کریں گے تو ممکن ہے کہ کل کو ہمارے بچے بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کا سلوک کریں ،جیسا کہ
حدیثِ پاک میں ہے:کَمَا تَدِیْنُ تُدَانُ یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔([1])
حضرت علّامہ عبدُالرؤف مُناوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ” کَمَا تَدِینُ تُدَانُ“کی وضاحت میں لکھتے ہیں : یعنی جیسا تم کام کرو گے ویسا تمہیں اس کا بدلہ ملے گا،جو تم کسی کے ساتھ کرو گے وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔(التیسیر بشرح الجامع الصغیر،۲/۲۲۲)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں :بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے۔(فتاوی رضویہ ،۲۴/۴۲۴)
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت
سچ ہے کہ بُرے کام کا اَنجام بُرا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے!اب دل تھام کر باپ سے بدسلوکی کرنے کے عبرت ناک انجام پر مشتمل3فکر انگیز حکایات سنئے اور عبرت حاصل کیجئے،چنانچہ
(1)باپ کے ساتھ بدسلوکی کا انجام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami