Share this link via
Personality Websites!
پہنچانے والے کام سے منع کر دے،ایسی صورت میں بھی اولاد کی سمجھ میں نہیں آتا،باپ خرچہ نہ دے پائے یا بڑھا پے کی دہلیز کو پہنچ جائےتو اولاد کے نزدیک اس کی اہمیت کسی بیکار چیز سے کم نہیں رہ جاتی، بچوں کی اَمّی کے انتقال کے بعد عُموماً باپکی دنیا بے رونق سی ہوجاتی ہے،اسے تنہائیاں چُبھتی ہیں،ایسے میں اسے اولاد کی ہمدردی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے مگر اولاداپنے آپ میں کچھ ایسی مگن ہوتی ہے کہ اس کے پاس باپ کا حال پوچھنے کے لئے چند لمحات بھی نہیں نکل پاتے،خصوصاً شادی کے بعد باپ پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے جاتےہیں اس کا تصور ہی دل دہلا دینے والا ہے،باپ لاکھوں روپے خرچ کرکے بچوں کی شادیاں کرواتا ہے مگرشادی ہوتے ہی اولاد اور ان کی بیویاں اس کا جینامشکل کردیتے ہیں،وہ اولاد جس کو باپ نے بڑے ناز نخروں سے پالا تھا،جسے رو رو کراللہ پاک سے مانگا تھا،علاج معالجے پر زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرڈالی تھی،اولیائے کرامرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہم اجمعین کے مزارات پر جاکر دُعائیں مانگی تھیں،اللہ پاک اوراُس کے نیک بندوں سے دعائیں کروائی تھیں،افسوس!ایک دن وہی اولاد اپنی بیوی کو خوش کرنے کی خاطر اپنے باپ کو ناراض کرتی،ان کا دل دکھاتی اوردھکے دے کر بے گھر کردیتی یا پھراولڈ ہاؤس(Old House)چھوڑآتی ہے، جہاں اسے اولاد کے ساتھ گزارے لمحات اور ان کی یادیں بے حد ستاتی اور خوب رُلاتی ہیں،باپ ہر گزرتے دن یہی امید لگاتا ہے کہ شاید آج میرا وہ لختِ جگرمجھے لینے آئے گا جس کومیں نے بڑی مشقتوں سے اپنے خونِ جگر سے پالاتھا،جس کی بیماری پراس کا علاج کراتے ہوئے میری رات کی نیندیں قربان ہوئی تھیں،آج میرا وہ بیٹا لینے آئے گا جس کی دِل لُبھاتی آوازسے میری دن بھر کی ساری تھکن دُورہوجاتی تھی،میرا بیٹامجھےسینے سے لگائے گا،مجھے گھرلے جائے گامگر آہ!صبح و شام گزرتے جاتے ہیں لیکن نہ کوئی لینے آتاہے نہ ہی کسی کا فون آتاہے۔اَلْاَمَانْ وَالْحَفِیْظ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami