Share this link via
Personality Websites!
تھا کہ ہم اللہ پاک اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین پر لبیک کہتے ہوئے دل و جان کے ساتھ ماں باپ کی خدمت کرکے ان سے دعائیں لیتے،ماں باپ کے حقوق کو پورا کرتے،ماں باپ کے ہر جائز حکم کی بجاآوری کرتے،ماں باپ کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ان کی بارگاہ میں دوڑےدوڑے چلے آتے،ماں باپ کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھتے،ماں باپ کی نافرمانی سے اپنے آپ کو بچاتے،مشکل حالات،بیماری اور بڑھاپے میں اُن کا سہارا بنتے،الغرض ہر طرح سےماں باپ کو راضی رکھنے کی کوشش کرتےمگرافسوس!صد ہزارافسوس!عِلْمِ دِین سے دُوری کے باعث آج باپ مظلوم ترین لوگوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے،بیٹیاں تو عموماً باپ کا خیال کرتی ہیں مگر بیٹوں کی جانب سے اکثر باپ کو دکھوں اور تکلیفوں کا ہی منہ دیکھنا پڑتا ہے،افسوس! کُفّاراوراِسلام دُشمنوں کی دیکھا دیکھی اب باپ جیسی عظیم ہستی کے ساتھ نوکروں والا سُلوک کیاجارہا ہے،بدقسمتی کے ساتھ باپ کے ساتھ بدسُلوکی کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے،گھر کے سارے کام باپ سے کروائے جارہے ہیں ،حتّٰی کہ گھر کا کچرا اُٹھانے اور گٹر کھلوانے کا کام بھی باپ سے لیا جارہا ہے،پہلے کے دور میں بچے ڈرتے تھے کہ کہیں باپ ناراض نہ ہوجائے مگر اب حال یہ ہے کہ باپ ڈرتا ہے کہ کہیں بچے ناراض نہ ہوجائیں،ایک اکیلا باپ 5بچوں کو تو پال لیتا ہے مگر5 بچے ایک باپ کوسنبھال نہیں پاتے،باپ نصیحت کردے تو جھڑک کر اس کی بات کو سُنی اَنْ سُنی کردیا جاتا ہے،باپ خرچہ مانگے تو طرح طرح کے حیلے بہانوں سے معذرت کر لی جاتی ہے،باپ اولاد کی بہتری کے لئے کچھ سخت کلمات کہہ دے توپیشانی پر بل آجاتے ہیں اور نادان اولاد زبان درازی پر اُتر آتی ہے،باپ بیمار ہوجائے تو اسے ہسپتال لے جانے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا،باپ جب تک کمانے کی مشین بنا رہے تو بہت اچھا لگتا ہے لیکن اگر بیمار ہوجائے،کام کاج کے لائق نہ رہے،اولاد کے مزاج کے خلاف کوئی فیصلہ کر دے،اولادکو کسی نقصان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami