مشکل حالات کا مقابلہ کیسے کریں؟

جنوری 2020کوسردیوں کے موسم میں لاہور کے ایک مکان میں گیس ہیٹر سے آگ لگ گئی جو اس قدر شدید تھی کہ دوبہنوں کا جہیز کا سامان جل کر راکھ ہوگیا اور گھر میں رکھی ہوئی نقدرقم بھی جل گئی ، ان میں سے ایک بہن کاچہرہ اپنے معذور باپ کی جان بچانے کی کوشش میں جُھلس گیا۔ پریشان حال معذور باپ نے بعد میں بتایا کہ ایک بیٹی کی شادی ڈیڑھ مہینے بعد طے تھی ، میں نے پائی پائی جوڑ کر بیٹیوں کا جہیز اکٹھا کیا تھا ، پتا نہیں اب کیا ہوگا ؟ ([i])

ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین! ربِّ کریم ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ بہرحال انسان کو اپنی زندگی میں مشکل اور آسان دونوں قسم کے حالات کا سامناہوتا ہے ، کبھی معاشی خوشحالی ، خوشگوار گھریلو زندگی ، تندرستی ، مقاصد میں کامیابی اور اولادکی فرمانبرداری جیسی سینکڑوں خوشیاں اس کی زندگی میں بہار بن کر داخل ہوتی ہیں اور کبھی حالات ایسا پلٹا کھاتے ہیں کہ مالی تنگدستی ، گھریلو ناچاقی ، امتحان میں ناکامی ، دفتری پریشانی ، بیماری ، خاندانی دشمنی ، ناجائز مقدمہ بازی اور کاروباری پیچیدگی جیسی کئی مشکلیں اس کی زندگی کو خزاں رسیدہ اور ویران بنادیتی ہیں۔ تین قسم کے لوگ : مشکل حالات کا سامنا کرنے کے حوالے سے ہمارا رویّہ مختلف ہوتا ہے ، پہلی قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو مشکل میں گھبراتے نہیں ، نروس نہیں ہوتےبلکہ اپنے اعصاب کو کنٹرول میں رکھ کر ہمت وجرأت کے ساتھ اس کا سامنا کرتے ہیں اور اس مشکل سے نکل آتے ہیں ، دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو مشکلات میں گھبرا جاتے ہیں ، ان کے ہاتھ پاؤں پُھول جاتے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟ اس طرح یہ لوگ اپنے لئے مزید مشکلات کھڑی کرلیتے ہیں۔ ان میں سے بعض کا مزاج اُس خرگوش کی طرح ہوتا ہے جس نے جنگل میں شور مچا دیا تھا کہ ’’آسمان گر گیا ، آسمان گرگیا!‘‘ دیگر جانوروں نے جب اُوپر نظر اُٹھا کر دیکھا کہ آسمان تواپنی جگہ پر ہے تو خرگوش سے پوچھا کہ آسمان کہاں گِرا ہے؟ خرگوش کہنے لگا کہ میں بیری کے درخت کے نیچے کھڑا تھا وہاں میرے سر پر آسمان گرا تھا ، جانوروں نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ درخت سے ایک بیر ٹوٹ کر خرگوش کے سر پر گرا تھا جسے اس نے بدحواسی میں آسمان سمجھا! اور تیسری قسم کے لوگ مشکل حالات سے گھبرا کر دل ہار بیٹھتے ہیں انہیں ہارٹ اٹیک ، ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریاں ہوجاتی ہیں اور بعض تو مایوس ہو کر خودکشی (Suicide)کرلیتے ہیں جو کہ حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ مشکلات کی دو قسمیں : مشکلات بھی دوقسم کی ہوتی ہیں : ایک وہ جن کا حل یا متبادل ممکن ہوتا ہے جیسے کیچڑ میں پھسل کر گر جانا ، بائیک کا پنکچر ہوجانا ، نوکری چلی جانا وغیرہ ، اور دوسری وہ جن کا کوئی حل یا متبادل نہیں ہوتا مثلاً گھر کے کسی فرد بیٹے یا بیٹی یا زوجہ کا انتقال ہوجانا ، کھیت میں فصل کا تباہ ہوجانا ، سیلاب میں سامان وغیرہ کا بہہ جانا۔ پہلی قسم کی مشکل پر قابو پانے کے لئے عملی قدم اُٹھانے ہوتے ہیں جبکہ دوسری قسم کی مشکل سے نکلنے کے لئے اپنی سوچ کو مثبت(Positive) بنانا ہوتا ہے۔

مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے 11 طریقے

اے عاشقانِ رسول!اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس پر مشکل آتی ہے اس کی پریشانی جیسی وہ سمجھ سکتا ہے کوئی اور نہیں محسوس کرسکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک زندہ ہیں مشکلات کا سامنا تو ہوتا رہے گا! اس لئے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے 11 ٹپس دئیے جارہے ہیں جن کی مدد سے ہم احسن انداز سےمشکل حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں : (1)خود پر قابورکھئے : کسی بھی قسم کی مشکل آنے پر ردِّ عمل(Reaction) کے طور پر ہمارے اندر دوقسم کے خیالات پیدا ہوتے ہیں ، ایک مثبت دوسرا منفی! منفی سوچ ہمیں شدید قسم کے خوف ، غم ، گھبراہٹ اور غصے میں مبتلا کرتی ہے جبکہ مُثْبَت سوچ ہمیں برداشت ، ہمّت اور مسئلے کے حل کا راستہ دکھاتی ہے چنانچہ کسی بھی قسم کی صورتحال میں منفی سوچ کو خود پر حاوی نہ ہونے دیجئے ، نہ ہی گھبراہٹ کا شکار ہوں ، کسی نے سچ کہا ہے کہ مشکل حالات میں گھبرانا اصل مشکل ہے۔ سیلف کنٹرول (خود پر قابورکھنے کی صلاحیت) کو بہتر بنا کر ہم مشکل کی شدّت کو 50 فیصد تک بھی کم کرسکتے ہیں۔ (2)اللہ کو یاد کریں : بے شک اللہ کی یاد میں دِلوں کا چین ہے ، اس لئے جب کبھی مشکل میں پھنس جائیں تو اپنے خالق و مالک ربِّ کائنات کو ضرور یادکریں ، دل کو ڈھارس ملے گی۔ اگر ہوسکے تو ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْن( ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) پڑھ لیجئے ، اس کی فضیلت نبیِّ کریم     صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم     نے یوں بیان فرمائی : جو مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْن “ کہتا ہے تو اللہ پاک اس کی پریشانی دُور فرمادیتا ہے اور اس کے کام کا انجام اچّھا فرماتا ہے اور اسے ایسا بدل عطا فرماتا ہے جس پروہ راضی ہوجاتا ہے۔ ([ii]) (3)کچھ نہ کچھ مشکل آتی ہے : اپنا ذہن بنالیجئے کہ مؤمن کی زندگی میں کچھ نہ کچھ مشکلات اور مصیبتیں ضرور آتی ہیں ، ہمارا پیارا ربِّ عظیم ارشاد فرماتا ہے : ( وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- )  تَرجَمۂ کنز الایمان : اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ ([iii])    (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  (4)پہنچنے والی پہنچ کر رہے گی : جس مشکل یا مصیبت کا پہنچنا تقدیر میں لکھا ہے وہ پہنچ کررہے گی ، یہ سوچ بنانے سے ایک تو ہمارا تقدیر پر ایمان مضبوط ہوگا اور دوسرا ہمارے دِل و دماغ میں یہ بات پختہ ہوجائے گی کہ یہ مشکل میرے ربِّ جلیل کی طرف سے ہے وہی اس کو دور بھی فرمائے گا۔ فرمانِ مصطَفےٰ     صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم     ہے : بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اچھی بُری تقدیر پر ایمان نہ لے آئے اوراس بات پر یقین نہ کرے کہ اسے جو مصیبت پہنچنے والی ہے وہ اس سے خطا نہ ہو گی (یعنی پہنچ کر رہے گی) اور جو اس سے خطا ہونے (یعنی نہیں پہنچنے)والی ہے وہ اسے نہیں پہنچ سکتی۔ ([iv]) (5)اگر مگر میں نہ پڑیں : بعض لوگ اگر مگرکےچکر میں پڑجاتے ہیں کہ اگر میں اپنا مال فُلاں وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غَلَطی کی کہ اب بیچا اور مجھے نقصان اُٹھانا پڑا یا “ اگر میں اپنے بیٹے کو بائیک نہ دیتا تو اس کا ایکسیڈنٹ نہ ہوتا “ یا “ اگرہم اپنے مریض کو فلاں اسپتال لے جاتے تو یہ زندہ بچ جاتا ‘‘اس طرح کے جملے بولنے سے مشکل کا احساس مزید بڑھ جاتا ہے اور صدمے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہ انداز اختیار کرنے سے ہمارے مَدَنی آقا     صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم     نے منع کرتے ہوئے فرمایا : اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ مت کہو : ’’اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا‘‘بلکہ یہ کہو : ’’قَدَرُ اللّٰہِ ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ یعنی اللہ نے ایسا ہی لکھاتھا اور اس نے جو چاہا وہی کیا۔ ‘‘کیونکہ : ’’اگر‘‘ کا لفظ شیطانی عمل کی ابتداء کرتا ہے۔ ([v]) (6)ہوسکتا ہے بڑی مشکل سے بچا لیا گیا ہو : مشکل آنے پر اپنا یہ بھی ذہن بنالیجئے کہ ہو سکتا ہے چھوٹی مصیبت میں مبتلا کر کے مجھ سے کوئی بہت بڑی مصیبت دُو ر کردی گئی ہو۔ مثلاً دورانِ سفر کارکا ٹائر پنکچر ہونے پر ذہن بنائیں کہ ہوسکتا ہے یہ گاڑی ایکسیڈنٹ سے تباہ ہونے والی تھی لیکن مجھے صرف ٹائر پنکچر ہونے کی چھوٹی مصیبت میں مبتلا کرکے ایکسیڈنٹ کی بڑی مصیبت کو ٹال دیا گیا ہو (حکایت) کسی نے حضرت سیّدنا محمد بن واسع   رحمۃ اللہ علیہ   کے پاؤں پر زخم دیکھ کہا : مجھے اس زخم کی وجہ سے آپ پر ترس آرہا ہے۔ ارشاد فرمایا : جس وقت سے یہ زخم ہوا ہے ، میں تو اسی وقت سے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوں کہ یہی زخم آنکھ میں نہیں نکلا! ([vi])(7)ایک دن مشکل ختم ہوجائےگی : مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس بات کا یقین رکھنا چاہئے کہ جس طرح دنیاوی زندگی عارضی اور مختصر ہے اسی طرح اس زندگی کے دوران پہنچنے والی مصیبتیں اور مشکلیں بھی عارضی ہیں جو آج نہیں تو کل ختْم ہوجائیں گی۔ اس کا ثبوت چاہئے تو اپنی گزشتہ زندگی میں جھانک کر دیکھ لیجئے کہ کیسی کیسی مشکلیں آئیں ہوں گی لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد آسان ہوگئی ہوں گی (8)قصور اپنا ہے : اپنی مشکلات کا ذمہ دارکسی اور کو ٹھہرانے کے بجائے یہ ذہن بنائیے کہ اس کا سبب میرے گناہ ہیں اور سچی توبہ کی طرف قدم بڑھائیے ، قراٰنِ پاک میں  ارشادہے : ( وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) ) تَرجَمۂ کنز الایمان : اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے([vii])  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   (9)پریشانی سے توجہ ہٹا لیجئے : ہم جب کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں تو وہ ہمارے دِل ودماغ پر حاوی ہوجاتی ہے ، اس لئے اگر آپ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کے بارے میں ہی سوچتے رہیں گے کہ میں تو سراپا مسائل ہوں ، مشکلات نے میرے گھر کا رستہ دیکھ لیا ہے تو ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوگا ، اس لئے اپنی توجہ کسی اور طرف پھیر لیں ، فرمانِ مصطِفٰے     صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم     ہے : مَن کَثُرَ ھَمُّہ ، سَقَمَ بَدَنُہیعنی جس کی فکریں زیادہ ہو جاتی ہیں اس کا بدن سَقِیم (یعنی بیمار)ہو جاتا ہے([viii]) (10)اپنا حوصلہ بڑھائیے : مشکل کے حل کی طرف قدم بڑھانے کے لئے اپنا ذہن بنائیے ، جذبہ اُبھارئیے۔ اس کے لئے بُزُرگانِ دین کی سیرت کی طرف نظر دوڑائیے کہ انہیں اپنی زندگی میں کیسی کیسی مشکلات کا سامنا ہوا جیسے حضرت ابراہیم   علیہ السَّلام   کو نمرود جیسے ظالم بادشاہ نے تکالیف دیں حتّٰی کہ آگ میں جلانے کی کوشش کی ، حضرت ایوب   علیہ السَّلام   طویل صبر آزما بیماری میں مبتلا رہے ، حضرت یعقوب   علیہ السَّلام   کو طویل عرصہ اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف   علیہ السَّلام   کی جدائی برداشت کرنا پڑی ، حضرت یوسف   علیہ السَّلام   کو ظلماً جیل میں ڈال دیا گیا ، حضرت یونس   علیہ السَّلام   ایک مدت تک مچھلی کے پیٹ میں رہے ، حضرت موسیٰ   علیہ السَّلام   کی زندگی کو فرعون جیسے ظالم و جابر بادشاہ نے مشکل بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، خود ہمارے پیارے آقا محمد مصطَفٰے     صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم     کو کافروں نے طرح طرح سے ستایا ، لیکن ان پاکیزہ شخصیات نے صبر و ہمت کا پیکر بن کر ان مشکلات کا سامنا کیا۔ (11)مشکل کے حل کی طرف عملی قدم : پہلے اپنے ربِّ کریم سے دعا مانگئے ، پھر ضرورتاً تجربہ کار اور مہارت رکھنے والےافراد سے مشورہ کیجئے اور ان مشکلات کے حل کی طرف قدم بڑھا دیجئے ۔

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے        پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

اللہ پاک ہمیں دنیا وآخرت دونوں جہانو ں کی مشکلات سے عافیت عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن     صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*مُدَرِّس مرکزی جامعۃالمدینہ ،  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

   



([i] )    سماء نیوزویب سائٹ ، 9جنوری 2020

([ii] )    معجم الکبیر ، 12 / 197 ، حدیث : 13027

([iii] )   پ2 ، البقرۃ : 155

([iv] )    ترمذی ،  4 / 57 ، حدیث : 2151

([v] )   مسلم ، ص1098 ، حدیث : 6774

([vi] )    احیاء العلوم ، 5 / 66

([vii] )   پ25 ، الشوریٰ : 30

([viii] )     شعب الایمان ، 6 / 342 ، حدیث : 8439

Share

Articles

Comments


Security Code