تذکرۂ صالحات

 حضرت  سیّدتنا اُمِّ عُمارہ  رضی اللہ عنہا  

*   محمد بلال سعید عطاری  مدنی

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

تاریخِ اسلام کی عظیم خواتین میں ایک اہم نام “ حضرتِ سیِّدتُنا اُمِّ عُمارہ   رضی اللہ عنہا  کا بھی ہے ، آپ   رضی اللہ عنہا   کا نام نسیبہ بنتِ کعب ہے ، لیکن آپ کی کنیت زیادہ مشہور ہے ، آپ   رضی اللہ عنہا   کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ آپ نے بیعتِ عُقبہ ، بیعتِ رِضوان اور غَزوۂ اُحد میں شرکت کی۔ آپ بہت محنت و کوشش کرنے والی ، بہادُر ، راہِ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والی ، نماز و روزہ کی پابند اور اللّٰہ پاک پر بھروسا کرنے والی خاتون تھیں۔ ([i])

آقا کریم نے حوصلہ افزائی فرمائی : حضرت سیِّدتُنا اُمِّ عُمارہ انصاریہ   رضی اللہ عنہا   فرماتی ہیں کہ ایک بار سَرورِ کائنات  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی خدمت میں کھانا پیش کیا ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : “ تم بھی کھاؤ “ میں نے عرض کی : “ میں روزے سے ہوں “ تو رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : “ جب تک روزہ دار کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے فرشتے اس روزہ دار کے لئے دُعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ “ ([ii])

دُعائے مصطفےٰ : ایک مرتبہ حضرت اُمِّ عُمارہ   رضی اللہ عنہا   نے حُضُورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں عرض کی کہ یارسولَ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! آپ دعا فرمائیے کہ اللہ پاک ہمیں جنّت میں آپ کی ہمراہی نصیب فرما دے ، چنانچہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اس طرح دُعا فرمائی : “ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِی فِی الجَنَّۃِ یعنی اےاللہ! ان سب کو جنّت میں میرا رفیق بنا دے۔ “

دُعائے مُصطفٰے کےبعد جذبات : حضرت بی بی اُمِّ عُمارَہ  رضی اللہ عنہا  سرکارِ دو عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اس دعا کے بعد یہ کہتی تھیں : “ مَا اُبَالِی مَا اَصَابَنِی مِنَ الدُّنْیَا یعنی دنیا میں جو بھی مصیبت مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ “ ([iii])

حُضور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے عقیدت : صلحِ حُدیبیہ کے موقع پر رَحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حلق کروا کر اپنے سَرِانور کے بال مبارک ایک کھجور کے درخت پر رکھ دیئے ، صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  اس درخت کے پاس جمع ہوگئے اور اُن بالوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگے ، حضرت اُمِّ عمارہ   رضی اللہ عنہا   کہتی ہیں کہ میں نے بھی چند بال حاصل کرلئے ، آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے وصالِ ظاہری کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں اُن مبارک بالوں کو پانی میں ڈُبو کر وہ پانی مریض کو پلاتی تو اللہ پاک اُسے صحت عطا فرما دیتا۔ ([iv])

نکاح مبارک و سلسلہ اولاد : آپ   رضی اللہ عنہا   کی پہلی شادی صحابیِ رسول حضرت سیّدُنا زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اُن سے آپ کے ہاں دو بیٹے حضرت حبیب اور حضرت عبداﷲ  رضی اللہ عنہما ہوئے اور پہلے شوہر کی وفات کے بعد آپ کی دوسری شادی حضرت غَزِیَّہ بن عَمرو سے ہوئی ان سے بھی آپ کے ہاں دو بچے تمیم اور خولہ پیدا ہوئے۔ ([v])

اللہ کریم کی آپ   رضی اللہ عنہا   پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں اور آپ کے صدقے ہمیں بھی دینِ اسلام کی خوب خوب محبت نصیب ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت ، المدینۃالعلمیہ ، کراچی

 



([i])استیعاب4 / 502 ، حلیۃ الاولیاء ، 2 / 77

([ii])الاحسان بترتیب ابن حبان ، 5 / 181 ، حدیث : 3421

([iii])طبقات ابن سعد ، 8 / 305

([iv])مدارج النبوۃ ، 2 / 217 ملخصاً

([v])طبقات ابن سعد ، 8 / 303۔

Share

Articles

Comments


Security Code