آخر درست کیاہے؟

مذہب اور عقل

*   مفتی  محمد قاسم عطاری

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

بعض لوگ یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ  مذہب اور عقل  ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اگر آپ مذہب پر چلنا چاہتے  ہیں ، تو آپ کو عقل کو چھوڑنا ہوگا اور اگر عقل کی پیروی کرنی ہے ، تو مذہب کو چھوڑے بغیر نہیں ہوسکتی۔ یہ سوچ کس حد تک درست ہے؟ آئیے! اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔

یہ کہنا کہ اسلام عقل کی مخالفت کرتا ہے ، ایسے ہی ہے ، جیسے یہ کہا جائے کہ مال و دولت کا سب سے بڑا مخالف قارون   تھا یا یہ  کہ ٹیلیفون کا سب سے بڑا مخالف گراہم بیل (Graham Bell) تھا یا اسمارٹ فون کا سب سے بڑا مخالف اسٹیوجابز (Steve Jobs) تھا یا یہ کہ سائنس کے سب سے بڑے مخالف نیوٹن اور آئن اسٹائن تھے۔ یہی معاملہ اسلام کو عقل کا مخالف قرار دینے کا ہے۔ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے ، جس نے قرآنِ پاک کو توجہ سے تو دور کی بات ہے ، سرسری بھی نہیں پڑھا ، کیونکہ اگر کوئی قرآنِ پاک کو معمولی سی توجہ سے بھی پڑھے ، تو چند چیزیں اتنی واضح ، غیر مبہم اور نمایاں انداز میں اس کے سامنے آئیں گی کہ وہ کبھی یہ بات کہہ ہی نہیں سکتا کہ اسلام عقل کے خلاف ہے۔

لفظ “ عقل “ اور اس کے خاندانی الفاظ (Derived Words) قرآن پاک میں بڑی کثرت سے ذکر کئے گئے ہیں جن سے عقل و فہم اور تفکر و تدبر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ آئیے ان کی کچھ تفصیل جانتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہوئے لفظ عَلِمَ ، یَعْلَمُ ، یَعْلَمُوْنَ ، تَعْلَمُ ، تَعْلَمُوْنَ ، عَالِمٌ ، عَالِمِیْنَ ، عَالِمُوْنَ ، عَلِیْمٌ ملیں گے ، جن سب کا بنیادی مادہ “ علم “ بنتا ہے۔ قرآنِ  مجید نے پوری صراحت کے ساتھ فرما دیا : (قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-)  کیا علم والے اور بےعلم برابر ہیں؟( پ 23 ، الزمر : 9) مراد یہ ہے  کہ عالم و جاہل برابر نہیں ہیں۔

دوسرا لفظ “ عقل “ لے لیں ، قرآنِ پاک میں لفظ “ عقل “ مختلف صیغوں کی صورت میں تقریباً انچاس مرتبہ مذکور ہوا ہے اور بار بار “ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ، اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ، لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ، فَہُمْ لَایَعْقِلُوْنَ ، اَکْثَرُہُمْ لَایَعْقِلون “ سے عقل کے استعمال کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔

تیسرا لفظ “ تفکر “ ہے ، جس کا معنیٰ “ غور و فکر کرنا ، قوتِ فکریہ کا استعمال کرنا ، حقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین کرنا “ ہے ، قرآنِ پاک میں کثرت سے موجود ہے ، بار بار فرمایا “ غور و فکر کرو ، کائنات میں تفکر کرو ، آسمان و زمین میں تفکر کرو ، شجر و حجر میں تفکر کرو ، انسانوں ، جانوروں کی پیدائش میں تفکر  کرو۔ “ غور و فکر کرنا کیا ہے؟ عقل ہی کا تو استعمال ہے۔

چوتھا لفظ “ فہم “ ہے ، جس کی قرآن نے تعریف فرمائی اور اپنے پیارے بندوں کو “ فہم “ عطا کرنے کو اپنی نعمت و احسان کے طور پر بیان کیا۔

پانچواں لفظ “ تدبر “ ہے۔ تدبر کا مطلب بھی غور و فکر کرکے سمجھنا ، کسی شے کی حقیقت تک پہنچنا ہے۔ یہ بھی عقل ہی کا استعمال ہے۔

چھٹا لفظ “ نظر “ ہے۔ قرآنِ پاک میں لفظ “ نظر “ غور و فکر اور عقل استعمال کرنے کے لئے موجود ہے ، جیسے فرمایا :

(اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ(۱۷))  تو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسا بنایا گیا ہے۔ ( پ 30 ، الغاشیۃ : 17)

اس کے علاوہ ساتواں لفظ “ تذکر “ قرآنِ پاک  میں بار بار آیا ہے۔ تذکر کا مطلب ہوتا ہے ، نصیحت حاصل کرنا اور  نصیحت حاصل ہوتی ہے جب بندہ کسی چیز کو سوچتا ہے اور اس کے متعلق غور و فکر کرتا ہے۔

آٹھواں لفظ “ عبرت “ ہے فرمایا : ( فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ(۲) ) تو اے آنکھوں  والو! عبرت حاصل کرو۔ (پ28 ، الحشر : 2) عبر ت کا مطلب یہ ہوتا ہے ، کسی شے کا مشاہدہ کرکے اپنی عقل سے نتیجہ و نصیحت حاصل کرنا۔

ان الفاظ پر مشتمل آیات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس سے یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ علم و فہم ، عقل و شعور اور تفکر و تدبر کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے۔ ان امور کی بار بار ترغیب اور مختلف انداز میں فضیلت کا بیان کلامِ الٰہی میں اتنی کثرت سے ہے کہ اگر کوئی قرآنِ پاک کو سرسری بھی پڑھ لے ، تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسلام عقل کے خلاف ہے۔ اسلام تو عقل کے استعمال کی ترغیب دیتا ہے ، اس کی تعریف بیان کرتا ہے ، اس کی طرف راغب کرتا ہے ، بلکہ جو لوگ عقل استعمال نہیں کرتے ، کائنات میں پھیلے تخلیقِ خداوندی کے مظاہر و علامات کے متعلق عقل استعمال نہ کرکے خالق کی معرفت سے محروم رہتے اور اس کی قدرتیں دیکھ کر قادرِ مطلق کے وجود پر استدلال کرنے کے لئے عقل استعمال نہیں کرتے ، ایسے لوگوں کے متعلق قرآن بتاتا ہے کہ یہ انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں ، کیونکہ انسان تو ہے ہی وہ ، جو عقل استعمال کرے ، سمجھ بوجھ سے محرومی تو جانوروں کی خصلت ہے ، اس لئے عقل کا مادہ موجود ہونے کے باوجود اسے استعمال نہ کرنے والے صرف شکل و صورت میں انسان ہیں لیکن جانوروں سے بھی بدتر ہیں ، چنانچہ ایسوں کے بارے میں فرمایا : (اُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّؕ-)  یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں ، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے۔ (پ9 ، الاعراف : 179) اب بتائیے! دینِ اسلام کی سب سے بنیادی کتاب قرآن تو عقل استعمال نہ کرنے والوں کو جانوروں سے بدتر قرار دے رہا ہے ، تو کیا اسلام عقل کے خلاف ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

اب رہی یہ بات کہ اگر کوئی کہے ، جناب ، دین فلاں فلاں بات سے منع کرتا ہے اور یہ عقل کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی جگہ یہ دیکھیں کہ وہاں بنیادی طور پر عقل کی مذمت کی جارہی ہے یا اس کے غلط اور مذموم استعمال کی؟ ایسی کسی بھی جگہ مذمت صرف عقل کے استعمال کی ہوگی۔ اس طرح کی دلیلوں سے استدلال کرنا ایسے ہی ہے ، جیسے قرآنِ پاک میں ایک مسجد کی مذمت بیان کی گئی ہے ، فرمایا : ( وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُؕ-) جنہوں نے نقصان پہنچانے کے لئے اور کفر کے سبب اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے اور اس شخص کے انتظار کے لئے مسجد بنائی ، جو پہلے سے اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے۔ (پ11 ، التوبۃ : 107) یہ  اُس مسجد کے مذموم استعمال  کی مذمت ہے  کہ وہ مسجد   ضرار ہے ، یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے ،  جدائیاں ڈالنے ، کفر پھیلانے  اور خدا و رسول سے دشمنی  کے کام کرنے کيلئے ہے۔ اب کوئی اگر قرآنِ پاک کی یہ آیت  پڑھ  کر کہے کہ  اسلام مسجدوں کے خلاف ہے ، تو اسے کیا کہا جائے گا؟ یہی کہ بھائی! اسلام مسجدوں کےخلاف  نہیں ، بلکہ  اسلام تو مسجدیں بنانے کا حکم دیتا ہے۔ وہ جو مذمت ہے ، وہ ایک ایسی جگہ کی ہے ، جو مسجد کا نام لے کر انتشار ، تفریق ، نفرت ، منافقت اور کفر پھیلانے کے لئے بنائی گئی تھی۔ مسجدیں تو اسلام کی نشانیاں اور مراکز ہیں۔

یونہی کسی ہسپتال میں آپریشن کے دوران مریضوں کے گردے نکالنے کا مکروہ دھندا شروع ہوجائے اور لوگ اس ہسپتال کے خلاف احتجاج کریں اور ایک دوسرے کو اس ہسپتال میں جانے سے روکیں ، تو کیا کوئی عقل مند یہ کہہ سکتا ہے کہ فلاں شہر کے لوگ میڈیکل کے خلاف ہیں ، وہ علاج معالجے اور صحت کے  دشمن ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ میڈیکل اور صحت کی مخالفت نہیں ، بلکہ ہسپتال اور نظامِ صحت کو گردے چوری کرنے کے مکروہ دھندے میں استعمال کرنے کی مخالفت ہے۔

ایک اور مثال لیں ، اگر کسی  اسکول کے نصاب میں  وہ کتابیں رکھی جائیں ، جو اس ملک سے نفرت سکھاتی ، تاریخ کو مسخ کرتی اور صوبائی  یا  لِسانی تعصب پھیلاتی ہوں اور اس وجہ سے  اگر وہاں کریک ڈاؤن کیا جائے ، ایسے سارے اسکول بزورِ بازو بند کردئیے جائیں اور ان کی کتابیں ضبط کرلی جائیں اور اس پر اسکول مالکان شور مچائیں کہ دیکھو ، یہ حکومت تعلیم کی دشمن ہے ، تو کیا یہ اعتراض مان لیا جائے گا؟ ہرگز نہیں ، کیونکہ  ریاست کا ایکشن ، علم دشمنی کی وجہ سے نہیں ، بلکہ اسکول و تعلیم کے غلط نصاب و انداز اور وطن دشمنی کی حرکتوں کے خلاف ہے۔

یہی معاملہ عقل کا ہے کہ اسلام عقل کے غلط استعمال سے منع کرتا ہے۔ یہ عقل کی مخالفت نہیں ، بلکہ عقل کے منفی استعمال کی مخالفت ہے۔ اب بات یہ ہے کہ جو عقل ملک و ملت کے خلاف استعمال ہو ، بلکہ وطن سے دشمنی سکھاتی ہو ، اگر وہ عقل مذموم ہے ، تو جو عقل احکم الحاکمین سے باغی بناتی ، خالقِ کائنات کے وجود کے انکار کی طرف لے جاتی اور مالکِ حقیقی کے احکام سے دشمنی سکھاتی ہو ، وہ بھی یقیناً مذموم و مردود ہے اور ایسی عقل کی ضرور مذمت کی جائے گی اور یہ حقیقتاً عقل کی نہیں بلکہ عقل کے غلط استعمال کی مذمت ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code