حضرت سیّدنا لعل شہباز قلندر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ

جن اولیائے کرام  کی برکت سے صوبۂ سندھ کفر و شرک کےاندھیروں سے پاک ہوا،مظلوموں کو ظلم سے نجات نصیب ہوئی اور سندھ کو ”بابُ الاسلام“کہا گیا ان ہستیوں میں سے ایک حضرت سیّدمحمدعثمان مَرْوَنْدی کاظمی حنفی قادِرِی لعل شہباز قلندر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ذاتِ گرامی بھی ہے۔

نام و نسب

 آپ کی ولادتِ باسعادت ساداتِ کرام کے مذہبی گھرانے میں538ھ بمطابق1143ءکوہوئی۔چہرۂ انور سے مشہور پتھر ”لعل“ کی طرح سرخ کرنیں  نکلتی  محسوس ہوتی تھیں جس کی وجہ سے”لعل“ کے لقب سےشہرت پائی،”شہباز“ کا لقب بارگاہِ امامِ حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عطا ہوا جبکہ سلسلۂ قلندریہ نسبت سے قلندر مشہور ہوئے۔ آذربائیجان کے قصبہ مَروَند میں پیدا ہوئے اس لئےآپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مَروَندِی کہا جاتاہے۔(فیضانِ عثمان مَروندی، ص9،8،7،5 ملخصا) آپ کے والدِ گرامی حضرت مولانا سیّد کبیرالدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے وقت کے مشہورعالمِ دین اورسنّتوں کے زبردست عامل تھے جبکہوالدہ ماجدہ حاکمِ مروند کی صاحبزادی ہونے کے باوجود بہت نىک، عبادت گزار اور قناعت و سخاوت جیسی کئی عمدہ صفات کی حامل تھیں۔والدین کےاِن قابل ِرشک اَوصاف کا نتیجہ تھا کہ  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی  شخصیت میں  بچپن ہی سےشوقِ علم اور ذوقِ عبادت جیسے عمدہ خصائل رَچ بس گئے تھے۔(شان قلندر، ص268،262،اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص524ماخوذا)

تعلیم و تربیت

 آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت والدِ گرامی کے زیرِ سایہ ہوئی، سات سال کى عمر مىں قراٰن مجىد حفظ کىا اور  جلد ہی مُرَوَّجہ عُلُوم و فُنُون مىں بھى مہارت حاصل کرلی۔ حصولِ علم کے سفر کے دوران امام علی رضا،امامِ اعظم ابوحنیفہ،داتا علی ہجویری اور غوثِ اعظم رَحِمَہُمُ اللہ تعالٰی کے مزارات پر بھی حاضری دی۔ بیتُاللہ شریف پہنچ کر حج کرنے اور مدینۂ منورہ میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے روضۂ اقدس پر حاضر ہونے کا شرف بھی حاصل کیا۔ (اللہ کے خاص بندے عبدہ، ص529،526،525)

بیعت و خلافت

حضرت لعل شہباز قلندر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیّدابواسحاق ابراہىم قادری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہِ الْقَوِی کے دستِ اَقدس پر بیعت ہوئےاورخلافت سے نوازےگئے۔(فیضانِ عثمان مَروندی،ص14)

دینی خدمات

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زبردست مُبلِّغ، بہترین مدرس اوربلند پایہ مصنف تھے،آپ  کی تمام عمر نیکی کی دعوت عام کرنے اور علم ِ دین کی اشاعت میں گزری۔ ایک مدت تک مدرسہ بہاؤ الدىن (مدینۃ الاولیاء ملتان)اورسىہون شرىف مىں قائم مدرسہ’’فقہ الاسلام“ میں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔آپ کی نیکی کی دعوت سے متأثر ہو کر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی تصانیف ”صرفِ صغیر“ اور” میزانُ الصرف“درسی نصاب میں بھی شامل رہیں۔ (اللہ کےخاص بندےعبدہ، ص522، 531)

وصال و مدفن

آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال 21شعبان المعظم 673ھ میں ہوا۔ (تذکرۂ صوفیائے سندھ،ص205)آپ کا مزار پُرانوار سیہون شریف (ضلع دادو،باب الاسلام، سندھ)میں  آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام ہے ۔

Share