تاریخ کے اوراق

جنگِ موتہ

*   ابو الحسین عطاری مدنی

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

آج نگاہِ فلک اِک عجب منظر دیکھ رہی تھی ، دو لاکھ کے ظالم اور متکبردشمن کے مقابلے کے لئے  3ہزار کا مختصر مٹھی بھر دستہ دینِ مصطفوی کی خاطر رواں دواں تھا ، ان کے ہر اٹھتے قدم پر وقت انگشت بدنداں تھا ، آخر یہ کون ہیں جنہیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں ، نہ تو بہت زیادہ اسلحہ پاس ہے اور نہ ہی گھوڑوں اور سواریوں کی کثرت ، اپنے گھروں سے ایک ہزار کلو میٹر  سے بھی زیادہ فاصلے کی دوری پر جانوں کے نذرانے راہِ خدا میں دینے کے لئے بے تاب چلتے جارہے ہیں۔ آسماں کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئی ہوں گی کہ غزوۂ بدر میں 1000کے مقابلے میں 313 تو دیکھے تھے ، غزوۂ اُحد میں 3000 کے مقابلے میں 700 تو دیکھے تھے ، غزوۂ خندق میں مدینۂ طیبہ کے صرف 3000 مجاہدین پر 10ہزار کے لشکر کو حملہ آور ہوتے تو دیکھا تھا ، لیکن آج تو حد ہی ہوگئی تھی ، ایک کے مقابلے میں 66 دشمن اور وہ بھی اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔ جی ہاں! یہ جنگِ موتہ کا منظر ہے جہاں رومی اور عرب عیسائیوں کے دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ  صرف 3ہزار مسلمان ٹکرا گئے تھے۔ ([i])

یہ لوگ آخر اتنی دور کیوں آئے تھے ، جی ہاں! اس کا ایک بہت بڑا سبب اور مقصد تھا ، ہوا یوں کہ امن و سلامتی کا پیغام دینے والے رسول جنابِ محمد مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حضرت حارث بن عمیر  رضی اللہ عنہ  کو سفیر و قاصد بنا کر قیصرِ روم کے نام ایک خط دے کر روانہ فرمایا۔ راستے میں قیصرِ روم کے ایک امیر شرحبیل بن عمرو غسانی نے حُضورِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اس قاصد کو روک کر پوچھا : “ کیا تم محمد ( صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کے قاصد ہو؟ “ انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو اس بدبخت نے قاصدِ رسول کو رسیوں میں باندھ کر نہایت بےدردی کے ساتھ شہیدکردیا۔ اس حادثہ سے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بہت صدمہ پہنچا۔ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر تیار فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے سفید رنگ کا جھنڈا باندھ کر حضرت زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کے ہاتھ میں دیتے ہوئے انہیں فوج کا سپہ سالار بنا کر روانہ فرمایا اور فرمادیا تھا کہ ان کی شہادت ہوجائے تو قیادت حضرت جعفر ( رضی اللہ عنہ ) کریں گے اور پھر ان کے بعد حضرت عبدُاللہ بن رَواحہ   رضی اللہ عنہ  اور ان کے بعد جسے مسلمان  منتخب کرلیں۔ ([ii])

اس مٹھی بھر لشکر  کو رخصت کرنے کے لئے جنابِ رحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  خود “ ثَنِیَّۃُ الْوَدَاع “ تک تشریف لے گئے اور لشکر کے سپہ سالار کو حکم فرمایا کہ تم ہمارے قاصد حارث بن عمیر ( رضی اللہ عنہ ) کی شہادت گاہ میں جاؤ۔ پہلے وہاں کے کفار کو اسلام کی دعوت دینا ، اگر وہ لوگ اسلام قبول کرلیں تو بہتر  ورنہ تم اللہ کریم  کی مددطلب کرتے ہوئے ان سے جہاد کرو۔ ([iii])

رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے اس اقدام نے رہتی دنیا تک کے لئے سفیر اور قاصد کے منصب کی حفاظت فرما دی۔ اللہ کریم نے رسولِ مکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو ہر ہر وصف میں کامل و اکمل بنایا ، انہی اوصاف میں سے ایک نظامِ حکومت چلانا اور قوانین وضع کرنا بھی ہے۔ ایک سفیر کے شہید کئے جانے پر دنیا کی  ظاہری سپرپاور کے ساتھ ٹکرانا اس بات کا درس تھا کہ بہادری اور دلیری تعداد سے نہیں نظریات و عقائد اور  قوانین  سے ہوتی ہے۔

سپہ سالارِ رسول حضرت زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ  نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے کُفّار کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے جارحانہ حملہ شروع کردیا۔ یہ منظر دیکھ کر آپ  رضی اللہ عنہ  گھوڑے سے اتر کر میدانِ جنگ میں کُود پڑے ، ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی نہایت جوش و خروش کے ساتھ لڑنا شروع کردیا ، کافروں نے آپ  رضی اللہ عنہ  پر نیزوں اور بَرچھیوں کی برسات کردی یوں آپ  رضی اللہ عنہ  جوانمردی سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ([iv])

حضرت زید بن حارثہ  رضی اللہ عنہ  کی شہادت کے بعد حضرت  جعفر طیار  رضی اللہ عنہ  نے پرچم تھاما تو شیطان نے آپ کے دل میں موت سے نَفرت اور زِندہ رہنے کی مَحبّت بڑھانے کی کوشش کی ، آپ  نے فرمایا : مؤمنین کے دلوں میں ایمان پختہ ہونے کا وقت تو اب ہے اور تو مجھے دنیا کی لالچ دے رہا ہے۔ ([v]) یہ کہہ کر دُشمنوں پر ٹوٹ پڑے پھر جذبۂ شہادت سے سرشار ہوکر گھوڑے سے نیچے  اُترے اور  آگے بڑھ کر مَردانہ وار مُقابلہ کرنے لگے۔  ایک رومی شخص نے آگے بڑھ کر آپ کے بازو پر ایسا وار کیا کہ بازو جسم سے جدا ہوگیا ، آپ نے جھنڈا دوسرے ہاتھ میں لے لیا ، اس نے دوسرے بازو پر وار کرکے اسے بھی جسم سے جُدا کردیا تو آپ نے پرچم اپنی گود میں رکھ کر کٹے ہوئے بازؤں سے اسے تھامے رکھا ، کفارِ ناہنجار نے اور وار کئے اور آپ کا جسمِ مبارک دو حصے کردیا یوں  رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے یہ عظیم مجاہد صرف 33سال کی جواں عمر میں جامِ شہادت نوش کرگئے۔ آپ  رضی اللہ عنہ   کے جسم کے ایک حصے پر 80سے زیادہ زخموں کے نشانات تھے۔ ([vi])

اللہ کریم نے انہیں کٹے ہوئے بازؤں کے بدلے دو پَر عطا فرمائے۔ ([vii])   اسی وجہ سے آپ کو “ جعفر طیّار “ بھی  کہا جاتا ہے۔ ([viii])

حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد بمطابقِ فرمانِ نبی قیادت کا جھنڈا حضرت عبدُاللہ بن رَواحہ  رضی اللہ عنہ  نے سنبھالا ، جنگ سے پہلے جب مسلمانوں کو کافروں کی اتنی زیادہ تعداد کا علم ہوا تو آپ نے  فرمایا : اے لوگو! تم شہید ہونے کے لئے نکلے ہو ، ہم دشمن کی کثرت اور طاقت دیکھ کر جنگ نہیں کرتے ، ہم اُس دین کی خاطر لڑتے ہیں جس کے سبب اللہ پاک نے ہمیں عزت عطا فرمائی ، اب دو اچّھی باتوں میں سے صرف ایک ہوگی فتح یا شہادت! ([ix])

حضرت سیّدُنا جعفر  رضی اللہ عنہ  کی شہادت ہوگئی تو مسلمانوں نے پکارا : “ یا عبدَاللہِ بْنَ رَوَاحہ “ اس وقت آپ لشکر کی دوسری جانب تھے اور تین دن سے بھوکے تھے ، اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا کھانے کے لئے ہاتھ میں پکڑا ہی تھا کہ حضرت سیّدُنا جعفر  رضی اللہ عنہ   کی شہادت کا سُن کر بےتاب ہوکر اسے   چھوڑ دیا اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے : اے عبداللہ! جعفر شہید ہوگئے اور تیرے پاس ابھی تک دنیاوی شے ہے ، فوراً پرچم ِاسلام ہاتھ میں لیا اور لشکر کی کمان سنبھال کر بےجگری سے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے ، لڑتے لڑتے انگلی کٹ گئی تو فرمایا : ابھی صرف انگلی کٹی ہے اور یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے ، اے نفس! آگے بڑھ ورنہ موت کا فیصلہ تجھے قتل کرڈالے گا اور تجھے ضرور موت دی جائے گی۔ پھر انتہائی دلیری اور جاں بازی کے ساتھ لڑنے لگے بالآخر زخموں سے نڈھال ہوکر زمین پر گر پڑے اور جامِ شہادت نوش کرگئے۔ ([x])

رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے جب مدینۂ منورہ سے روانہ فرمایا تھا  اور ایک کے بعد دوسرے کو قیادت کرنے کی وصیت فرمائی تھی تو وہیں ایک “ نعمان “ نام کا یہودی بھی یہ سب سُن رہا تھا ، اس نے کہا : “ اے ابوالقاسم! اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ تینوں ضرور شہید ہوں گے ، کیونکہ بنی اسرائیل کے نبی جب یوں کسی کا نام لیتے تھے اگر سو افراد کا نام بھی لے دیتے تو وہ سبھی شہید ہوتے تھے۔ “ ([xi])

چشمِ فلک نے دیکھا کہ رسولِ صادق و امین جنابِ سیّد المرسلین  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی نبوت کی صداقت ایک یہودی کے کہنے سے بھی واضح ہوگئی اور یہ تینوں عظیم سپہ سالار میدانِ موتہ میں شہید ہوگئے۔ تینوں معزز صحابہ کی شہادت کے بعد حضرت سیّدُنا ثابت بن ارقم  رضی اللہ عنہ  نے جھنڈا اٹھا لیا اور مسلمانوں کو آواز دے کر فرمایا کہ اپنے میں سے کسی کو سپہ سالار چُن لو ، تو مسلمانوں نے فوراً حضرت خالد بن ولید کو چُن لیا اور لشکر کی قیادت ان کے سپرد کردی۔ ([xii])

ادھر حضرت خالد بن ولید نے جھنڈا تھاما اور ادھر غیب کی خبریں دینے والے رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے یہاں سے ایک ہزار کلومیڑ سے بھی زیادہ دوری پر مدینۂ طیبہ میں منبرِ مسجد نبوی پر بیٹھے ہوئے فرمایا : “ اب جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایکتلوار یعنی خالد بن ولید کے ہاتھ میں ہے۔ “ ([xiii])

حضرت خالد بن ولید نے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو جمع کیا ،  لشکر کی ترتیب تبدیل کرتے ہوئے دائیں ، بائیں اور آگے پیچھے کے

مجاہدین کی آپس میں جگہ بدل دی ، دشمن نے سمجھا شاید مسلمانوں کو مزید مدد مل گئی ہے  جس سے ان کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا اور وہ شکست کھاتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے۔ ([xiv])

مسلمانوں نے شدید لڑائی لڑی ، یہاں تک کہ صرف حضرت خالد بن ولید کے ہاتھ میں اس دن نو تلواریں ٹوٹیں([xv]) اور یہ جنگ سات دن تک جاری رہی۔ ([xvi])دو لاکھ کے مقابلے میں صرف تین ہزار کا لشکر سات دن تک ڈٹا رہا اور صرف تیرہ مجاہدین شہید ہوئے۔ سات دن کے بعد  جب دشمن کا لشکر ہزیمت اٹھاتا ہوا  پیچھے ہٹنے لگا تو حضرتِ سیّدُنا خالد بن ولید  رضی اللہ عنہ  نے بھی کمال حکمت و دانائی سے کام لیتے ہوئے  لشکر کو پیچھے ہٹانا شروع کیا ، دشمن کی خود سے 66گنا زیادہ تعداد کے ساتھ ٹکرانا ، سات دن تک ڈٹے رہنا ، صرف 13 مجاہدین کا شہید ہونا ، پھر دشمنِ لشکر کا پلٹ کر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرسکنا اور حضرت خالد بن ولید کا اپنے لشکر کو صحیح وسالم مدینۂ طیبہ لے آنا کسی واضح و بین فتح و کامیابی سے کم نہیں ہے۔ ([xvii])

نیز اس فتح کا اعلان تو مدینے کے سلطان  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے جنگ کے حالات بتاتے ہوئے خود ہی فرمادیا تھا کہ “ اب جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے  پکڑ لیا ہے یہاں تک کہ اللہ نے فتح عطا فرمائی۔“([xviii])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i])معجم  کبیر ، 13 / 132 ، رقم : 428 ، سيرت ابنِ ہشام ، ص457 ، دلائل النبوة للبیھقی ، 4 / 360

([ii])سیرت حلبیہ ، 3 / 96 ، مواھب لدنیہ ، 1 / 301

([iii])مواھب لدنیہ ، 1 / 301

([iv])شرح ابی داؤد للعینی ، 6 / 41 تا 42 ، تحت الحدیث : 1557 ملخصاً ، سیرتِ مصطفیٰ ، ص404

([v])دلائل النبوۃ لابی نعیم ، جز2 ، 1 / 316

([vi])مواھب لدنیہ ، 1 / 301 ، تاریخ الخمیس ، 2 / 459

([vii])معجمِ اوسط ، 5 / 164 ، حدیث : 6932

([viii])الترغیب والترہیب ، 2 / 206

([ix])دلائل النبوة للبیھقی ، 4 / 360 ، سیرت ابنِ ہشام ، ص457

([x])تاریخ الخمیس ، 2 / 459

([xi])دلائل النبوۃ لابی نعیم ، جز2 ، 1 / 316

([xii])سیرت حلبیہ ، 3 / 97

([xiii])بخاری ، 3 / 96 ، حدیث : 4262 ، مسند احمد ، 37 / 257 ، حدیث : 22566

([xiv])دلائل النبوة للبیھقی ، 4 / 370

([xv])بخاری ، 3 / 97 ، حدیث : 4265

([xvi])سبل الھدیٰ والرشاد ، 6 / 151

([xvii])زرقانی علی المواھب ، 3 / 348ملخصاً

([xviii])بخاری ، 3 / 96 ، حدیث : 4262

Share