مہمان نوازی اوراخلاص

مکتوبات امیرِ اہل سنّت

مہمان نوازی اور اخلاص

ماہنامہ صفر المظفر1442ھ

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ

اللہ پاک آپ کو دونوں جہانوں کی بھلائیوں سے مالا مال  فرمائے اور بے  حساب بخشے  اور میرے ساتھ بھی یوں ہی ہو ۔ اٰمین ۔

سات مدنی پھول : (1) “ کہاں ، کیا اور کتنا بولنا چاہئے “ ، جس کو یہ گُر آجائے وہ بہت سارے فتنوں سے بچا رہتا ہے (2) اپنے عُیوب کی اصلاح میں جو مشغول ہوگا اُسے  دوسروں کے عیب نظر ہی نہیں آئیں گے (3)کسی کے ساتھ کئے ہوئے احسان (مثلاً مالی تعاون ، طعام و قیام یا سُواری کی فراہمی) کا دوسروں کےآگے تذکرہ نہیں کرنا چاہئے کہ جس پر احسان کیا گیا ہے اگر     ا ُسے پتا چلے گا تو اُس کو سخت ایذا پہنچ سکتی ہے (4)اللہ پاک کی رضا کے لئے احسان ہونا چاہئے ، اگر کسی کی مہمان نوازی کی اور اُس نے جوابی مہمان نوازی نہیں کی تو اِس کا دوسرے کے آگے  گِلہ و شکوہ کیا تو گویا وہ مہمان نوازی یا تعاون وغیرہ اللہ پاک کے لئے نہیں بلکہ اس لئے تھا کہ  یہ بھی اِس کے ساتھ ایسا ہی  کرے تاکہ اَدلا بَدلا ہوجائے (5)اِخلاص تو یہ ہے کہ جس کے ساتھ بھلائی کی اُس سے شکریہ کی بھی طلب نہ رکھے (6) یہ بھی اخلاص کا تقاضا ہے کہ نیک کام کرنے والا کسی کے ذریعے حوصلہ افزائی کی طمع نہ رکھے  بلکہ کوئی تعریف کرے تب بھی یہ چیز اُسے دلی طور پر ناپسند ہو (7)فرمانِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : عُجْب (یعنی خود پسندی) 70سال کے اعمال برباد کرتی ہے۔  

(جامع صغیر ، ص127 ، حدیث : 2074)

خود پسندی کی تعریف : “ اپنے کمال (مثلاً علم ، عمل ، دولت ، ذہانت ، خوش اِلحانی اور منصب وغیرہ) کو اپنا کارنامہ سمجھنا اور اِس کے چِھن جانے سے بے خوف ہوجانا “ ، گویا خود پسند شخص نعمت پاکر عنایت کرنے والے ربُّ العزّت کی طرف اس کی نسبت کرنا ہی بھول جاتا ہے۔  

(شیطان کے بعض ہتھیار ، ص17بتصرف)

شہزادوں اور تمام اسلامی بھائیوں کی خدمتوں میں میرا سلام!

اللہ پاک کی بارگاہ میں مجھ گناہ گار کی بے حساب مغفِرت کی دعا فرماتے رہئے۔         وَالسَّلَام مَعَ الْاِکْرَام        books

 

وضو كا ايك اہم مسئلہ

(وضو کرتے ہوئے) آنکھ کے کوئے (یعنی ناک کی طرف والے آنکھ کے کونے) پر پانی بہانا فرض ہے مگر سُرمہ کا جِرم  کوئے یا پَلک میں رہ گیا اور وُضو  کرلیا اور اِطلاع نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی تو حَرج نہیں نماز ہوگئی ، وُضو بھی ہو گیا اور اگر معلوم ہے تو اسے چُھڑا کر پانی بہانا ضرور ہے۔ (بہار شریعت ، 1 / 290)

 

Share

Articles

Comments


Security Code