حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مشورے

ہمارے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اَنَامَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌ بَابُھَا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔(معجم کبیر ،ج11ص65،حدیث: 11601)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیرِ خدا حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کی ذاتِ مُقَدّسہ میں دیگر اوصافِ حمیدہ اور خَصائلِ کریمہ کی طرح بہترین مشورہ اور دُرُست رائے دینے کی صلاحیت بھی کامل درجے کی تھی۔ حضرتِ سیّدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا 2برس3ماہ کا  دورِ خلافت ہو یا حضرتِ سیّدنا عمر فاروق اعظم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا ساڑھے دس سالہ زمانۂ خلافت یا پھر حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی بطورِ خلیفہ  بارہ سالہ خدمات ہوں، جنگ، قضا، اُمورِ سلطنت، شرعی احکام اور اسلامی سزاؤں کے نِفاذ (Implementation)جیسے ہر میدان میں حضرتِ سیّدنا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم اپنے دُرُست مشوروں اور بہترین رائے کے ذریعے ان اکابرین صحابۂ  کرام علیہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ شانہ بشانہ نظر آتے ہیں۔ چند جھلکیاں ملاحظہ کیجئے:

 مُنکرِین سے جہادخلیفہ اوّل حضرت سیدنا ابو بکرصدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے زمانۂ خلافت میں بعض  قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور کفر و اِرْتِداد کے لباس کو اوڑھا تو  حضرتِ سیدنا ابو بکرصدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اِسْتِفْسار فرمایا: اے ابوالْحَسَن! آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرتِ سیّدنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے رائے دی: رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ان لوگوں سے جو چیز لی ہے اگرآپ اسے نہیں لیں گے تو یہ رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے طریقے کے خلاف ہوگا۔ یہ سن کر حضرتِ سیّدنا صدیقِ اکبر رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے فرمایا: دیگر لوگوں نےمجھے جنگ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر آپ نے یہ کہا ہے تواب میں ان لوگوں سے ضرور جہاد کروں گا۔ (ریاض النضرۃ،ج1ص147)

ایک  روایت کے مطابق حضرتِ سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے یوں کہا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نمازاور زکوٰۃ کو ایک ساتھ ذکر کیا ہےاور میں نہیں سمجھتا کہ آپ انہیں الگ الگ کریں گے۔(کنزالعمال،جز:6،ج3ص227، حدیث: 16841)

لشکر بھیجنے کا مشورہ غزوۂ رُوم کے لئے لشکر اسلام روانہ کرنے سے پہلے حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان سے مشورہ کیا تو حضرتِ سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے لشکر روانہ کرنےکی رائے دیتے ہوئے کہا: آپ خود اس جنگ میں شرکت کریں یا لشکرِ اسلام بھیجیں، اللہ تعالیٰ  نے چاہا تو کامیابی آپ کے قدم چُومے گی، یہ سن کر حضرتِ سیّدنا ابو بکرصدیق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اچھی خبر سنائے، پھر آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر خُطبہ ارشاد فرمایا اور لشکرِ اسلام کی تیاری کا حکم دیا۔ (تاریخ ابن عساکر،ج2ص64)

خلیفہ کا وظیفہ حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے کندھوں پر خلافت کا بار آیا تو آپ نے اپنے گزر اوقات کے لئے بیت المال سے کچھ نہ لیا مگر اُمورِ خلافت میں مشغول ہونے کے سبب  گزر اوقات میں دشواری ہونے لگی تو صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان سے مشورہ کیا، دیگر مشوروں کے ساتھ ایک مشورہ یہ بھی تھا کہ آپ بیت المال سے صبح   شام کے کھانے کے برابر لے لیا کریں حضرتِ سیّدنا عمر فاروق اعظم رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کو یہ رائے زیادہ پسند آئی اور اسی پر عمل کیا ۔ یہ رائے پیش کرنے والی شخصیت شیرِِ خدا حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کی تھی۔ (طبقات ابن سعد،ج3ص233)

ہجری سِن کی ابتدا حضرتِ سیّدنا عمر فاروق اعظمرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے صحابہ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان کو جمع کرکے مشورہ مانگا کہ ہم  تاریخ لکھنے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں، کب سے شروع کریں؟ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے مشورہ دیا: اس دن سے جس دن نبی کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ہجرت کی،حضرت عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے مشورہ دیا کہ مُحَرَّم کے مہینے سے ابتداء ہو یوں ہجری سن کا آغاز ہوگیا۔(مستدرک،ج3ص549، حدیث:4344۔ تلقیح فہوم لابن جوزی،ج1ص14)

شام جانے کا مشورہ جب مسلمانوں  نے بیت المقدس کا مُحاصَرہ کیا اور قَلْعَے والوں  کو دشواری وتنگی  ہونے لگی تو انہوں نے یہ شرط پیش کی کہ  مسلمانوں کے امیر حضرت عمر بن خطاب رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تشریف لائیں گے تو وہ مسلمانوں سے صلح کرلیں  گے، حضرت سیدنا ابو عُبَیدہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے پوری صورت حال  لکھ کر روانہ کردی، امیر المؤمنین حضرتِ سیّدنا عمر فاروق اعظمرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اس بارے میں مشورہ طلب کیا توکسی نے یہ مشورہ دیا کہ آپ ان کے پاس نہ جائیں کہ وہ آپ کو حقیر جانیں گے، حضرتسیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے مشورہ دیا کہ آپ ان کی طرف جائیں تاکہ ان کے قلعے میں انہیں  شکست دینا مسلمانوں پر آسان ہوجائے، حضرت عمرفاروقرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کی رائے پر عمل کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ ،ج5ص126)

شرابی کی سزا حضرت سیّدنا عمرفاروق رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے شراب کی سزا کے متعلق صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان سے مشورہ کیا تو حضرتِ سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے رائے دی کہ  اسے 80 کوڑے مارے جائیں کیونکہ جب پئے گا نشہ ہوگا اور جب نشہ ہوگاتو بیہودہ بکے گا اور جب بیہودہ بکے گا تو تُہمت لگائے گا، لہٰذا حضرت سیّدنا عمر  فاروق اعظمرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے اس شخص کو 80کوڑے لگانے کا حکم دیا۔

(موطأ امام مالک،ج2ص351، حدیث: 1615)

جھگڑا نمٹانا امیر المؤمنین حضرتِ سیّدنا عثمان غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے پاس جب لوگ کوئی جھگڑا لے کر آتے تو ایک فریق سے فرماتے: حضرت علی کو بلاؤ ،دوسرے فریق سے فرماتے: حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور دیگر صحابہ کرام کو بلاؤ۔ (تاریخ ابن عساکر،ج39ص182)

جمعِ قراٰن میں تعاون حضرت سیدنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا: حضرت عثمان(رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ) کو جمع قراٰن کے بارے میں اچھا ہی کہو ،خدا کی قسم ! انہوں نے جو کچھ کیا وہ ہمارے ہی تعاون سے کیا ہے۔(فتح الباری،ج10ص16، تحت حدیث: 4988)

 

روزہ کس چیز سے افطار کرنا چاہئے؟

 فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:جب تم میں کوئی روزہ اِفطار کرے تو کَھجور یا چُھوہارے سے اِفْطار کرے کہ وہ بابَرَکت ہے اور اگر کھجور نہ مِلے تو پانی سے کرے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔(ترمذی،ج2ص142، حدیث:658)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس جامعۃ المدینہ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

 

Share