تفسیرقراٰن کریم

اللہ عز وجل اور بندوں کے حقوق

*   مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

( وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶))   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ترجمہ : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ ) بیشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر ، فخر کرنے والا ہو۔ (پ5 ، النسآء : 36)

موضوعِ آیت : اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اور بندوں دونوں کے حقوق کی تعلیم دی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور عبادت کے جملہ طریقے اسی کےلئے خاص کردئیے جائیں یعنی جانی ، مالی ، زبانی ، قلبی ، ظاہری ، باطنی ہر طرح کی عبادت اُسی پاک پروردگار کےلئے خاص ہو اور کسی قسم کی عبادت میں اصلاً اس کے ساتھ کسی کو  شریک نہ کیا جائے۔

اور بندوں کے حقوق میں بنیادی اصول دوسروں کو تکلیف سے بچانا اور سہولت و راحت پہنچانا ہے۔ اپنی زبان اور ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں ، بدکلامی اور بدگمانی سے بچیں ، کسی کا عیب نہ بیان کریں ، کسی پر الزام تراشی نہ کریں ، تلخ کلامی سے بچیں ، نرمی سے گفتگو کریں ، مسکراہٹیں بکھیریں ، جو اپنے لئے پسند کریں وہی دوسروں کےلئے پسند کریں ، دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں اور ان کے لئے باعثِ خیر بنیں۔ ۔ ۔ پھر  بندوں کے حقوق میں درجہ بدرجہ تفصیل ہے مثلا ًماں باپ کا حق سب سے مقدم ہے اور کسی اجنبی کا حق سب سے آخر میں ہے۔ آیتِ کریمہ میں کثیر افراد کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں والدین ، رشتے دار ، یتیم ، محتاج ، قریب اور دور کے پڑوسی ، ساتھ بیٹھنے والے ، مسافر ، اجنبی لوگ ، اپنے خادمین وغیرہ سب شامل ہیں۔ ان کے جدا جدا حقوق یہ ہیں :

(1)والدین کے ساتھ احسان کرنا : ان کے ساتھ احسان یہ ہے کہ والدین کا ادب اور اطاعت کرے ، نافرمانی سے بچے ، ہر وقت ان کی خدمت کے لئے تیار رہے اور ان پر خرچ کرنے میں بقدرِ توفیق و استطاعت کمی نہ کرے۔ حضرت ابو ہریرہ   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ، سرورِ کائنات   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے تین مرتبہ فرمایا : اُس کی ناک خاک آلود ہو۔ کسی نے پوچھا : یارسولَ اللہ!  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ، کون؟ ارشاد فرمایا : جس نے ماں باپ دونوں کو یاان میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا اور جنت میں داخل نہ ہوا۔

(مسلم ، ص1060 ، حدیث : 6510)

(2)رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا : ان سے حسن سلوک یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی کرے اور قطع تعلقی سے بچے۔ حضرت انس   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ، نبیِّ اکرم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر لمبی ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (بخاری ، 2 / 10 ، حدیث : 2067)

حضرت جُبَیر بن مطعم   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ، سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا “ رشتہ کاٹنے والا جنّت میں نہیں جائے گا۔ “ (مسلم ، ص1062 ، حدیث : 6520)

صلہ رحمی کا مطلب بیان کرتے ہوئے صدرُالشریعہ مولانا امجد علی اعظمی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : صلۂ رحم کے معنی رشتہ کو جوڑنا ہے ، یعنی رشتہ والوں کے ساتھ نیکی اور سلوک کرنا ، ساری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صلہ رحم  واجب ہے اور قطع رحم (یعنی رشتہ کاٹنا) حرام ہے۔ (بہارِ شریعت ، حصہ 16 ، 3 / 558)

(3 ، 4)یتیموں اور محتاجوں سے حسنِ سلوک کرنا : یتیم کے ساتھ حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی پرورش کرے ، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئے اور ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے۔ حضرت سہل بن سعد   رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے ، رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : جو شخص یتیم کی کفالت کرے میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے۔ حضور سیدُ المرسلین   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے کلمہ کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ کیا۔

 (بخاری ، 3 / 497 ، حدیث : 5304)

اور مسکین سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ ان کی امداد کرے اور انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹائے ۔ حضرت ابو ہریرہ    رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ، رسولُ اللہ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : بیوہ اور مسکین کی امداد و خبر گیری کرنے والا راہ ِخدا  عَزَّوَجَلَّ  میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ (بخاری ، 3 / 511 ، الحدیث : 5353)

(5)ہمسایوں سے حسنِ سلوک کرنا : قریب کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا ہوا ور دور کے ہمسائے سے مراد وہ ہے جو محلہ دار تو ہو مگر اس کا گھر اپنے گھر سے ملا ہوا نہ ہو یا جو پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی وہ قریب کا ہمسایہ ہے اور وہ جو صرف پڑوسی ہو ، رشتہ دار نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ یا جو پڑوسی بھی ہو اور مسلمان بھی وہ قریب کا ہمسایہ اور وہ جو صر ف پڑوسی ہو مسلمان نہ ہو وہ دور کا ہمسایہ ہے۔

 (تفسیرات احمدیہ ، النسآء ، تحت الآیۃ : 36 ، ص275)

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ   رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : جبرئیل  عَلَیْہِ السَّلَام  مجھے پڑوسی کے متعلق برابر وصیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔    (بخاری ، 4 / 104 ، حدیث : 6014)

(6)پاس بیٹھنے والوں سے حسنِ سلوک کرنا : اس سے مراد بیوی ہے یا وہ جو صحبت میں رہے جیسے رفیقِ سفر ، ساتھ پڑھنے والا یا مجلس و مسجد میں برابر بیٹھے حتّٰی کہ لمحہ بھر کے لئے بھی جو پاس بیٹھے اس کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم ہے۔

(7)مسافر کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا : اس میں مہمان بھی داخل ہے۔ مسافر کی حاجت پوری کی جائے ، راستہ پوچھے تو رہنمائی کی جائے اور مہمان کی خوش دلی سے خدمت کی جائے۔ حضرت ابوہریرہ   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ، نبیِّ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اِکرام کرے۔ (مسلم ، ص48 ، حدیث : 173)

(8)لونڈی غلام کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا : ان سے حسنِ سلوک یہ ہے کہ انہیں اُن کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے ، سخت کلامی نہ کرے اور کھانا کپڑا وغیرہ بقدرِ ضرورت دے۔ حدیث میں ہے ، حضور پُرنور   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : غلام تمہارے بھائی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تو جو تم کھاتے ہو اس میں سے انہیں کھلاؤ ، جو لباس تم پہنتے ہو ، ویسا ہی انہیں پہناؤ ، اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالو اور اگر ایسا ہو تو تم بھی ساتھ میں ان کی مدد کرو۔ (مسلم ، ص700 ، حدیث : 4313)

( اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) ) ترجمہ : بیشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر ، فخر کرنے والا ہو۔ کسی کو خود سے حقیر سمجھنا اور حق بات قبول نہ کرنا تکبر ہے ، یہ انتہائی مذموم وصف اور کبیرہ گناہ ہے ، حدیث میں ہے : قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند ا ٹھایا جائے گا ، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہو گی ، انہیں جہنم کے “ بُولَس “ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ  انہیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آجائے گی ، انہیں “ طِیْنَۃُ الْخَبَالْ “ یعنی جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔

 (ترمذی ، 4 / 221 ، حدیث : 2500)

اس آیتِ  مبارکہ پر مزید دو اعتبار سے تدبُّر (غور و فکر) کریں : ایک تدبُّر یہ کہ اسلام کی تعلیمات کس قدر حسین اور جامع ہیں اور اسلام میں بندوں کے حقوق کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔  دوسرا تدبُّر اس اعتبار سےکہ ہم اس آیت میں بیان کردہ احکام پر کتنا عمل کرتے ہیں۔ اللہ کے حقِ عبادت کی ادائیگی میں ہماری کیا حالت ہے؟ اور بندوں کے حقوق پورا کرنے میں ہماری کیفیت کیا ہے؟ اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری زندگی ہونی کیسی چاہئے؟

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share