تین مقدس بیبیاں

تذکرہ صالحات

تین مقدس بیبیاں

* مولانا بلال سعید عطاری مدنی

ماہنامہ اپریل 2021

سیّدہ خدیجۃُ الکبریٰ ، سیّدہ عائشہ صدّیقہ اور سیّدہ فاطمۃُ الزّہرا  رضی اللہُ عَنہُنَّ  وہ ہستیاں ہیں جن کا وصال رمضانُ المبارک میں ہوا لہٰذا اس مناسبت سے ان نفوسِ قدسیہ کے احوالِ کریمہ ملاحظہ کیجئے۔

سیّدہ خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہُ عنہا وہ عظیمُ الشان ہستی ہیں جنہیں حضورِ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی پہلی زوجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آپ نے اپنے دور کے نامور سرداروں کے مقابلے  میں پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی زوجیت میں آنے کو ترجیح دی نیز پیارے آقا کی ہر قدم پر مدد فرمائی اور اپنا جان و مال آپ کی خدمت کے لئے پیش کردیا ، اسی بنا پر پیارے آقا نے سیّدہ عائشہ  رضی اللہُ عنہا  سے فرمایا : بخدا! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی ، یہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب لوگوں نے میرا انکار کیا ، جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی مجھے کچھ دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا مال دے دیا اور انہی کے شکم سے اللہ  کریم نے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ [1] نیز جب آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پر پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپ کے قلب پر لرزہ طاری ہوگیا ، آپ نے غار میں پیش آنے والا واقعہ بی بی خدیجہ سے بیان کیا اور فرمایا کہ “ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے! “ یہ سُن کر بی بی خدیجہ  رضی اللہُ عنہا  نے کہا : کہ نہیں ، ہر گز نہیں ، خدا کی قسم! اللہ پاک آپ کو کبھی بھی رُسوا نہیں کرے گا ، آپ تو رشتہ داروں کے ساتھ بہترین سلوک کرتے ہیں ، دوسروں کا بار خود اٹھاتے ہیں ، اپنا مال محتاجوں کو عطا فرماتے ہیں ، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے راستے میں آنے والی مشکلات میں مدد فرماتے ہیں۔  [2]معلوم ہوا ہماری امّی جان بی بی خدیجہ   رضی اللہُ عنہا  دینِ متین کی سر بلندی اور آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دل جوئی کے لئے کس طرح کوشاں رہیں ، یہی وجہ ہے کہ پیارے آقا کو ان سے بے حد محبت تھی اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کو یاد فرماتے تھے ، جیساکہ ایک بار بی بی خدیجہ کی بہن حضرت ہالہ بنتِ خُوَیْلِد  رضی اللہُ عنہا  نے سرکارِ دو عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حاضِر ہونے کی اجازت طلب کی ، تو آپ کو بی بی خدیجہ کا اجازت طلب کرنا یاد آ گیا اور آپ پر رقّت طاری ہوگئی۔  [3]

سیّدہ عائشہ صدّیقہ رضی اللہُ عنہا حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہُ عنہ  کی صاحبزادی ہیں ، آپ کی والدہ کا نام “ اُمِّ رومان “ ہے ، آپ کا نکاح حضورِ اقدس  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے نبوت کے دسویں سال مکۂ مکرّمہ میں ہوا لیکن رخصتی شوال 2 ھ میں ہوئی ، آپ کےعلاوہ کسی کنواری لڑکی سے نبیِّ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے نکاح نہیں کیا۔ [4] اللہ پاک نے آپ کو بے شمار خصوصیات سے نوازا تھا ، آپ کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ حضور ِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے سيّدہ فاطمۃُ الزّہراء   رضی اللہُ عنہا   سے فرمایا : اے فاطمہ! جس سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی؟ سیّدہ فاطمہ نے عرض کی : ضرور یارسولَ اللہ! میں محبت کروں گی ، اس پر آقا کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : تو عائشہ سے محبت رکھو۔ [5] تقویٰ و پرہیزگاری : زہد و تقویٰ و پرہیزگاری میں بھی آپ  رضی اللہُ عنہا  نمایاں مقام پر فائز تھیں جیساکہ آپ نے سرکارِ دو عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے عرض کی : یارسولَ اللہ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ مجھے جنّت میں آپ کی ازواجِ مطہّرات میں رکھے! آقا کریم نے فرمایا : اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچاکر نہ رکھو اور کسی کپڑے کو جب تک اس میں پیوند لگ سکتا ہے بے کار نہ سمجھو ، سیّدہ عائشہ صدّیقہ حضور نبیِّ کریم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اس وصیت ونصیحت پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔ [6] علمی شان و شوکت : قراٰنِ کریم ، احادیثِ کریمہ اور شرعی علوم و احکام میں مہارت کا جو ملکہ آپ کو عطا ہوا وہ اور کسی خاتون کے حصے میں نہ آیا ، یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ صدّیقہ پہلی مفتیۂ اسلام ہیں ، صحابۂ کرام  بھی آپ  رضی اللہُ عنہا  کی جانب رجوع فرمایا کرتے تھے  جیساکہ حضرت ابوموسیٰ  رضی اللہُ عنہ  فرماتے ہیں : ہمیں کسی حدیث کے بارے میں مشکل پیش آتی تو حضرت عائشہ سے دریافت کرتے تو ان کے پاس اس کے متعلق علم پاتے۔  [7] آپ  رضی اللہُ عنہا  سے  2210 احادیث مروی ہیں ان میں سے 174 متفق علیہ ہیں یعنی بخاری و مسلم دونوں میں ہیں۔ [8]

سیّدہ فاطمۃُ الزّہراء  رضی اللہُ عنہا پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی لاڈلی اور سب سے چھوٹی شہزادی ہیں۔ [9]  آپ نے بحیثیتِ ماں ، بیوی اور بیٹی ایسی زندگی گزاری جو تمام مسلمان خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہے ، نیز ہمیشہ آپ کا تذکرہ عقیدت و احترام سے کیا جاتا رہے گا۔ بیوی ہونے کی حیثیت سے آپ کا کردار ملاحظہ ہو! چنانچہ بی بی فاطمہ نکاح کے بعد جب حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم  کے گھرمیں تشریف لائیں تو گھر کے تمام کاموں کی ذمّہ داری آپ پر آگئی ، آپ نے اس ذمّہ داری کو بہت اچھے طریقے سے نبھایا اور زندگی کے ہر موڑ پر اپنے شوہر کا ساتھ دیا ، اسی طرح “ ماں “ ہونے کی حیثیت سے آپ نے جس طرح اپنی اولاد بالخصوص حسنینِ کریمین  رضی اللہُ عنہما کی اعلیٰ وعمدہ تربیت و پرورش کی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بحیثیت ِبیٹی بھی آپ کی زندگی انتہائی شاندار تھی ، چنانچہ سیّدہ بی بی فاطمہ  رضی اللہُ عنہا  صبر ، شکر ، توکّل اور سنجیدگی کے ساتھ ساتھ کئی مبارک اوصاف بالخصوص محبتِ رسول سے سرشار تھیں ، رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ذرا سی تکلیف سے بےچین ہو جایا کرتی تھیں ، نیزآپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے وصال شریف کے بعد حضرت فاطمہ کبھی ہنستی نہ دیکھی گئیں۔ [10]  اسی طرح آپ کی اپنے بابا جان سے محبت کی ایک مثال یہ بھی ہےکہ جب رسو لِ کریم بی بی فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ حضورِ پاک کی تعظیم و تکریم کے لئے کھڑی ہوجاتیں ، آپ کے مبارَک ہاتھوں کو تھام کر بوسہ دیتیں اور اپنی نشست پر بٹھاتیں۔ [11]

اللہ کریم ان تینوں بزرگ خواتین کا خصوصی فیضان ہمیں نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ بیاناتِ دعوتِ اسلامی ، المدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر) ، کراچی



[1] الاستیعاب ، 4 / 384

[2] بخاری ، 1 / 8 ، حدیث : 3

[3] بخاری ، 2 / 565 ، حدیث : 3821

[4] اجمال ترجمہ اکمال ، 8 / 69

[5] مسلم ، ص1017 ، حدیث : 2442

[6] مدارج النبوہ ، 2 / 472

[7] ترمذی ، 5 / 471 ، حدیث : 3909

[8] اجمال ترجمہ اکمال ، 8 / 70

[9] اصابہ ، 8 / 263

[10] معجم کبیر ، 22 / 399 ، حدیث : 995

[11] ترمذی ، 5 / 466 ، حدیث : 3898

Share

Articles

Comments


Security Code