روشن مستقبل

ملزم حاضر ہو!

*   حیدر علی مدنی

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

ملزم کو حاضر کیا جائے، حسّان نے یہ آواز سُنی اور پھر دو آدمی اسے پکڑ کر ایک کمرے میں لے گئے، حسان کمرہ دیکھ کر حیران ہوگیا کہ یہ تو بالکل کسی عدالت جیسا تھا، اس نے دائیں طرف والے آدمی سے پوچھا، مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ اس آدمی نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اسے پکڑ کر لکڑی کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔

پھر کالا کوٹ پہنے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا: جج صاحب! یہی وہ لڑکا ہے جس پر الزام ہے کہ یہ کاپیوں اور کتابوں کا ادب و احترام نہیں کرتا۔

سامنے بڑی سی کُرسی پر جج صاحب بلیک گاؤن پہنے اور چشمہ لگائے بیٹھے تھے، اس شخص کی بات سُن کر کہنے لگے: گواہ پیش کئے جائیں۔

کمرے کا دروازہ پھر سے کُھلا تو حسان یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی اُردو کی کاپی چلتی ہوئی لکڑی کے دوسرے جنگلے میں آکر کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی: جج صاحب میں حسان کی اُردو کی کاپی ہوں جس پر یہ سبق لکھتا ہے لیکن کبھی مجھے زمین پر پھینک دیتا ہے تو کبھی وَرَقے (Pages) پھاڑ کر ان سے کشتی یا جہاز بناتا رہتا ہے۔

کوئی اور گواہ بھی ہے؟ جج صاحب نے پوچھا تو کمرے کا دروازہ پھر سے کُھلا اور اب کی بار حسان کی انگلش، ریاضی اور اُردو کی کتابیں اندر آ گئیں اور جنگلے میں کھڑی ہوکر بولیں: جج صاحب ہمیں بھی حسان سے یہی شکایت ہے بلکہ ہمارے اوپر تو یہ ٹیڑھی میڑھی لکیریں بھی بناتا رہتا ہے جن سے ہمارا چہرہ خراب ہو جاتا ہے۔

جج صاحب ساری بات سُن کر بولے: سارے گواہوں کے بیانات سُن کر میں یہ فیصلہ سناتا ہوں کہ کتابیں اور کاپیاں جو کہ علم کا ذریعہ ہیں ان کا ادب نہ کرنے پر حسان کو یہ سزا دی جاتی ہے کہ پندرہ دنوں تک اس کی بریک بند ہے، اس دوران وہ کلاس میں ہی بیٹھ کر اپنا سبق یاد کرے گا۔

جج صاحب کا فیصلہ سُن کر تو حسان کے ہوش اُڑ گئے اور جلدی سے بولا: جج صاحب! پلیز مجھے ایک موقع دیں، آئندہ میں کتابوں، کاپیوں کا خیال رکھوں گا، لیکن جج صاحب نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور تبھی کسی نے اس کا  کندھا زور سے پکڑا۔

کندھے پر دباؤ کی وجہ سے حسان کی آنکھ کھلی تو دیکھا اس کا دوست ”بلال“ اس کے پاس کھڑا کہہ رہا تھا: اٹھ جاؤ، بریک ختم ہوچکی ہے، ٹیچر آنے والے ہیں۔

بلال کی بات سُن کر حسان کو یاد آیا کہ عدالت کی سزا والی بات تو صرف ایک خواب تھی اس بات پر اسے بہت خوشی ہوئی لیکن اب یہ احساس بھی ہو چکا تھا کہ آئندہ اسے کتابوں اور کاپیوں کا ادب و احترام کرنا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code