<span></span>

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ ربّ العزّت نے حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو3شہزادے(بیٹے)اور4شہزادیاں(بیٹیاں)عطا فرمائیں، جن کا مختصر تعارف یہ ہے:(1)حضرتِ سیّدناقاسم رضی اللہ تعالٰی عنہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیّدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے بطنِ مبارک سے اعلانِ نبوت سے پہلے پیدا ہوئے۔حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کنیت ابوالقاسم ان ہی کے نام پر ہے،  جمہور کے قول کے مطابق پاؤں پر چلنا سیکھ گئے تھے کہ ان کا وصال ہوگیا۔ (زرقانی علی المواھب،ج4 ،ص316) (2) حضرتِ سیّدنا عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ : اعلانِ نبوت سے قبل مکّۂ معظّمہ میں پیدا ہوئے اور بچپن ہی میں وصال فرمایا، طیّب و طاہرانہی کا لقب ہے۔(ایضاً) (3)حضرتِ سیّدنا ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہ : یہ سب سے چھوٹے شہزادے ہیں، ذوالحجۃ 8ھ میں مدینۂ منورہ کے قریب مقام ’’عالیہ‘‘  میں حضرت سیّدتنا  ماریہ قِبطیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے اور 17 یا 18 ماہ کی عمر 10ربیع الاوّل10ہجری کو وصال فرماگئے۔ (مدارج النبوت،ج 2،ص452-453،سیرت سیدالانبیاء،ص593) (4)حضرتِ سیّدہ زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا: یہ سب سے بڑی شہزادی ہیں، اعلانِ نبوت سے دس سال پہلے مکّۂ مکرمہ میں پیدا ہوئیں اور ہجرت کے آٹھویں سال وصال ہوا۔(زرقانی علی المواھب،ج 4،ص318تا 319 ملتقطاً) (5)حضرت سیّدہ رُقَیَّہ رضی اللہ تعالٰی عنہا : یہ اعلانِ نبوت سے سات برس پہلےپیدا ہوئیں، یہ حضرت سیّدناعثمانِ غنیرضی اللہ تعالٰی عنہ  کی زوجیت میں تھیں کہ 19 رمضان2ہجری میں فتحِ بدر کےتیسرے دن بیس سال کی عمر میں وصال فرماگئیں۔(سیرتِ مصطفیٰ،ص694،زرقانی علی المواھب،ج 4،ص322 تا324 ملتقطاً، سیرت سیدالانبیاء،ص257)  (6)حضرت سیّدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ تعالٰی عنہا: حضرت بی بی رُقَیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا  کی وفات کے بعد ربیع الاوّل 3ہجری میں آپ کا نکاح حضرتِ سیّدناعثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سےہوا،شعبان9ہجری میں وصال فرماگئیں۔(زرقانی علی المواھب،ج 4،ص325تا327ملقتطاً)(7) حضرت سیّدہ فاطمہ بتول رضی اللہ تعالٰی عنہا : یہ شہنشاہِ کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سب سے چھوٹی،پىارى اور لاڈلى شہزادى ہىں۔ان کا نکاح 2ہجری کو مولائے کائنات حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم سے ہوا۔آج دنیا بھر میں جلوہ فرما ساداتِ کرام انہی کے شہزادوں امامِ حسن و حسین رضی اللہ تعالٰی عنہما   کی اولاد ہیں۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے 6ماہ بعد 3رمضان المبارک11ہجری کو آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئیں۔(زرقانی علی المواھب ،ج4،ص333تا337،مدارج النبوۃج 2،ص461 ملتقطاً)

اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کی ان پر رحمت ہو ان کے صدقے  ہماری بے حساب مغفرت ہو، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share

Comments


Security Code