<span></span>

اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہْلِ سُنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کے ایک مکتوب میں ہے: شبِ بَرَاءَت قریب ہے، اِس رات تمام بندوں کے اَعمال حضرتِ عزَّت میں پیش ہوتے ہیں۔ مولا عَزَّ  وَجَلَّ بَطُفیلِ حضورِ پُر نُور، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسلمانوں کے ذُنُوب (یعنی گناہ) معاف فرماتا ہے مگر چند، ان میں وہ دو مسلمان جو باہَم دُنیوی وجہ سے رَنْجِش رکھتے ہیں، فرماتا ہے:”اِن کو رہنے دو، جب تک آپَس میں صُلْح نہ کرلیں۔“لہٰذا اَہلِ سنّت کو چاہئے کہ حتَّی الْوَسْع قبلِ غُرُوبِ آفتاب 14 شَعْبان باہم ایک دوسرے سے صفائی کر لیں، ایک دوسرے کے حُقُوق ادا کردیں یا مُعاف کرا لیں کہ بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی حُقُوقُ الْعِباد سے صحائفِ اَعمال (یعنی اعمالنامے) خالی ہو کر بارگاہِ عزَّت میں پیش ہوں۔ حُقُوقِ مولیٰ تعالیٰ کے لئے توبۂ صادِقہ(یعنی سچی توبہ) کافی ہے۔(حدیثِ پاک میں ہے:) اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ (یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہیں (ابن ماجہ،ج4، ص491،حدیث:4250)) ایسی حالت میں بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی ضرور اِس شب میں اُمّیدِ مغفرتِ تامّہ (یعنی مغفِرت کی پکّی اُمّید) ہے بَشَرْطِ صِحّتِ عقیدہ۔(یعنی عقیدہ درست ہونا شرط ہے) وَہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم۔(اور وہ گناہ مٹانے والا رحمت فرمانے والا ہے)(آقا کا مہینا،ص12تا13،بحوالہ کُلِّیاتِ مکاتیبِ رضا،ج1، ص356تا357)

Share

Comments


Security Code