غوثِ اعظم کی چار نصیحتیں

بزرگانِ  دین  رحمہم  اللہ المُبِین کے فرامین ہمارے لئے زندگی کے کثیر شعبہ جات میں راہنمائی مہیا کرتے ہیں، ان نفوسِ قُدسیہ کی طویل زندگیاں دنیا کے نَشیب وفَراز سے گزری اور دینداری سے واقفیت میں بِیتی ہوتی ہیں، اسی لئے ان کے فرامین بھی سالہا سال کے تجربات کا نچوڑ ہوتے ہیں، آئیے حضور غوثِ پاک علیہ رحمۃ اللہ الرَّزَّاق کے چار فرامین  پڑھتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں:

(1)لوگوں کی چارقسمیں

 لوگ چار طرح کے ہوتےہیں:

ایک وہ جن کے پاس نہ زَبان ہوتی ہے (جس کے ساتھ حکمت کی باتیں کرسکیں) نہ دل (جو علم ومعرفت اور اسرارِ الٰہی کا محل ہو)،ایسے عامی، غافل، غَبی اور ذلیل شخص کی اللہ پاک کے یہاں کوئی قدرومنزلت نہیں،ایسے لوگ تو بُھوسے کی مانند ہیں۔ان کی صُحبت سے بچنا لازِم ہے ہاں اگر تم عالمِ دین اور نیکی کی دعوت دینے والے مبلّغ ہوتو بیشک ایسے لوگوں کی صحبت اختِیار کرو،انہیںاللہ پاک کی اطاعت کی دعوت دو اور گُناہوں سے ڈراؤ تو تم مجاہد قرار پاؤ گے۔ رسولِ صابِر و شاکِر، محبوبِِ ربِِّ قادِرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اگر اللہ     پاک تمہارے ذَرِیعے کسی ایک شخص کوہدایت عطا فرمائے تو یہ تمہارے لئے اس سے اچّھاہے کہ تمہارے پاس سُرْخ اُونٹ ہوں۔(مسلم،ص1007، حدیث:6223)

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس زَبان تو ہے لیکن دل نہیں،علم وعمل کی نصیحت کے سلسلے میں بڑی حکیمانہ گفتگو کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے، دوسروں کو خدا کی طرف بلاتے ہیں لیکن خود اُس(کے حکم پر عمل) سے بھاگتے ہیں،غیبت کی مذمّت کرتے ہیں لیکن خود اس میں مشغول رہتے ہیں،لوگوں کے سامنے اپنی پارسائی کا اظہار کرتے ہیں لیکن تنہائی میں بڑے بڑے گُناہ کرکے اللہ پاک سے جنگ کا اعلان کرتے ہیں،ایسے لوگ دَرحقیقت انسانی لباس میں مَلبوس بھیڑئیے ہیں،ایسوں سے دُور بھاگواور ان کے شَر سے اللہ پاک کی پناہ طلب کرو۔

تیسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جن کے دل تو ہیں لیکن زَبانیں نہیں(یعنی ان کے دل علم وعرفان کے انوار سے روشن ہیں لیکن وہ ان کی تشریح کے مجاز نہیں بلکہ منہ پر خاموشی کا تالا لگا ہوا ہے تاکہ لوگوں کے اختلاط اوران سے گفتگو سے محفوظ رہیں)۔یہ ایمان دار لوگ ہیں،اللہ پاک نے انہیں مخلوق سے چُھپا رکھا ہے اور ان پر پردہ ڈال دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے نفس کے عُیوب سے آگاہ فرمادیا ہے اور عُجْب ورِیا کی باریکیوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے دِلوں کو روشن کردیا ہے۔ انہیں یقین ہوچکا ہے کہ خاموشی اور گوشہ نشینی میں ہی سلامتی ہے۔ ایسے لوگوں کی صُحبت اور خدمت کو لازِم پکڑلو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اپنے نیک لوگوں میں شامل کرلے گا،اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ۔ چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جن کے پاس زَبان اور دل دونوںموجود ہیں۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کی نشانیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ اللہ پاک نے انہیں اُن رازوں پر آگاہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں سے پوشیدہ ہیں اور انہیں انبیا ومرسلین علیہمُ الصَّلٰوۃ وَالتَّسلیم کا جانشین ہونے کا مرتبہ حاصل ہے۔ ان حضرات کو وہ بُلند وبالا مقام حاصل ہے جس سے اوپر صرف مقامِ نُبُوّت ہے۔

میں نے انسانوں کی چاروں قسمیں تمہارے سامنے بیان کردی ہیں،اگر تم صاحبِ فکر ونظر ہو تو ان میں غور کرو۔

اللہ پاک ہمیں ایسی باتوں کی توفیق عطا فرمائے جو دنیا و آخِرت میں اس کی مَحبو ب اور پسندیدہ ہیں۔

(شرح فتوح الغیب (مترجم)،ص356ملخصاً)

(2)فرائض کو چھوڑ کر نوافل پر توجہ نہ دے

ارشادِ غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم:مؤمن کو چاہئے کہ پہلے فرائض وواجبات ادا کرےپھر سُنتوں میں مشغول ہو،اس کے بعد نوافل کی طرف توجّہ کرے۔فرائض نہ پڑھنا اور سُنن ونوافل میں مصروف ہونا حَماقت اور رَعُونَت ہے۔اگر فرائض چھوڑ کر سُنن ونوافل بجا لائے گا تو نامقبول ہوں گے بلکہ اسے ذلیل کیا جائے گا۔اس آدمی کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے بادشاہ اپنی خدمت پر مامور کرے لیکن وہ اسے چھوڑ کر اس کے غلام کی خدمت میں مشغول ہوجائے۔ (شرح فتوح الغیب (مترجم)، ص511)

(3)زیادہ سونے کی مذمت

غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :جو شخص بیداری کے بجائے نیند کو اختِیار کرے وہ نہایت اَدْنیٰ اور ناقص چیز کو پسند کرتا ہے،نیند چونکہ موت کی بہن ہے اس لئے وہ تمام مصلحتوں سے بے خبر ہوکر مُردوں سے ملنا چاہتا ہے۔اللہ پاک نیند سے پاک ہے کیونکہ وہ تمام نقائص سے پاک ہے، ملائکہ بھی بارگاہِ ربُّ الْعزّت کے قریب ہونے کی وجہ سے نیند سے دور ہیں نیز جنّتیوں پر بھی نیند طاری نہیں ہوگی سب بھلائیاں بیداری میں اور سب بُرائیاں اور مصلحتوں سے بے خبری نیند میں ہے۔جو شخص اپنی خواہش کے مُطابق ضَرورت سے زیادہ کھانے پینے اور نیند میں مصروف رہے گاتو اس کے ہاتھ سے بہت سی بھلائیاں نکل جائیں گی۔ (شرح فتوح الغیب (مترجم)، ص518ملخصاً)

دن لَہْو میں کھونا تجھے،شب صبح تک  سونا تجھے

شرمِ نبی خوفِ خدا،یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

(4)دُعا مانگنے کی ترغیب

گیارھویں والے پیر غوثِ اعظم دستگیر  علیہ رحمۃ اللہ القَدیر فرماتے ہیں :یہ نہ کہو کہ میں خُدا سے دُعا نہیں مانگتا کیونکہ اگر وہ چیز میری قسمت میں ہے تو مل ہی جائے گی دُعا کروں یا نہ کروں! اور اگر وہ چیز میری قسمت میں نہیں تو میرا سوال مجھے وہ چیز نہیں دِلاسکتا۔دنیا وآخِرت کی بھلائی میں سے جس چیز کی ضرورت ہو اس کا سوال کرو جب کہ وہ چیز حرام یا باعِثِ فساد نہ ہو کیونکہاللہ تعالیٰ نے  تمہیں دُعا مانگنے کا حکم دیا ہے اور اس کی ترغیب دلائی ہے۔ قراٰنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ) اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-( ترجمۂ کنزالایمان:مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔(پ24، المؤمن:60) نیز فرمایا گیا:) وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ-(تَرجَمۂ کنزالایمان: اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ (پ5، النسآء:32)(شرح فتوح الغیب (مترجم)،ص666ملخصاً)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی        

Share

غوثِ اعظم کی چار نصیحتیں

 اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہتا ہے اس پر اپنا خاص فضل فرما کر ولایت سے  سَرفراز فرماتا ہے اور مخلوق  کے دل میں اس کی مَحَبّت پیدا کردیتا ہے پھر یہی مَحبت مخلوقِ خدا کو کھینچ کر ولایت کے ان دَرَخْشاں ستاروں کے دَر پر لے آتی ہے جہاں خَلْقِ خدا کو اپنی حاجت روائی، مشکل کشائی، راہ نُمائی  اور قربِ الٰہی پانے کے مختلف راستے نظر آتے ہیں ، اولیائے  کرام اللہ تعالٰی کی عطا سے مخلوقِ خدا کو فیض اوربرکات پہنچاتے ہیں اور اسے اللہتعالیٰ سے ملادیتے ہیں۔خلقِ خدا کبھی اس فیض و برکت کو وَعْظ و نصیحت سے پاتی ہے، کبھی اولیاءُ اللہ کے حسنِ اخلاق اور عمل سے اپنے باطن کو روشن کرتی ہے تو کبھی یہی مخلوق اس فیض کو کرامات کی صورت میں دیکھتی ہے اور اپنے ایمان کی کَلی کے کِھلنے اور عقیدت کی گرہ کےمضبوط ہونے کا سامان کرتی ہے۔غوثِ صمدانی، قطبِ ربّانی، مَحبوبِ سبحانی حضرت شیخ سیّد  عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی ذاتِ گرامی سےبھی بے شُمار افراد نے فیض پایاہے ، پارہے ہیں اور تا قِیامت پاتے رہیں گے بلکہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بروزِ قیامت بھی فیوض و برکات سے حصّہ پائیں گے۔آپ کی ذات سے بے شمار کرامتوں کا صدور ہوا ہے ان میں سے تین کرامتیں ملاحَظَہ کیجئے۔(1)ہوا میں اڑکر غائب ہوگیاشیخ عبد اللہ محمد حُسَینی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیبیان فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور شیخ علی بن ہِیْتی  علیہ رحمۃ اللہ القَوی حضور غوثِ اعظم علیہِ رحمۃُ اللہِ الاَکْرم کی خدمت میں حاضِر ہوئے تو دیکھا کہ ایک جوان دروازے پر پڑا ہے، اس نے ہمیں دیکھتے ہی کہا: میرے لئے حضور غوثِ اعظم سے سفارش کردینا، جب ہم اندر پہنچے تو حضور غوثِ اعظم علیہِ رحمۃُ اللہِ الاَکْرم سے شیخ علی بن ہِیْتی علیہ رحمۃ اللہ القَوینے اس شخص کا ذکر کیاتو  انہوں نے  فرمایا:ہم نے اسے تمہیں دے دیا۔ شیخ علی بن ہیتی علیہ رحمۃ اللہ القَوینے اس جوان سے آکر یہ بیان کیا کہ میری سفارش تمہارے حق میں قبول ہوگئی ہے، وہ شخص فوراًہَوا میں اُڑ کر غائب ہوگیا، پھر ہم نے حضور غوثِ اعظم علیہِ رحمۃُ اللہِ الاَکْرم سے اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: وہ مرد صاحبِ حال تھا، اِدھر سے گزرااور دل میں یہ خیال لایا کہ میری مثل یہاں کوئی نہیں ہے، ہم نے اس کا حال سَلَب کرلیا(چھین لیا) اگر شیخ علی بن ہِیْتی نہ آتے تو وہ یوں ہی پڑا رہتا۔  (بہجۃ الاسرار، ص142،  برکاتِ قادریت، ص57)  (2)اللہ کے حکم سے مرجا حضرتِ سیِّدُنا ابو العباس احمد بن محمد رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ بیان فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا غوثِ اعظم علیہِ رحمۃُ اللہِ الاَکْرم جامع مسجِد منصوری تشریف لے گئے جب واپس آئے تو چادر مبارک اُتاری اور ایک بچھو کو نکالااور فرمایا: مُوْتِیْ بِاِذْنِ اللّٰہِ تَعالٰی یعنی اللہ کے حکم سے مرجا، اسی وقت وہ مرگیا، پھر ارشاد فرمایا: اے احمد! جامع مسجِد منصوری سے یہاں تک اس نے مجھے 60مرتبہ ڈنک مارا ہے۔  (برکاتِ قادریت، ص66) (3)قافلہ ڈاکوؤں سے بچ گیا حضرتِ سیِّدُنا ابوعَمْر و عثمان اور حضرتِ سیِّدُنا ابومحمدعبدالحق رحمۃ اللہ تعالٰی علیہما  فرماتے  ہیں کہ ہم حُضُور سیِّدُنا غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کے دربار میں حاضِر تھے،آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے وُضُو کرکے کھڑاویں (لکڑی کی بنی ہوئی چپلیں) پہنیں اور دو رکعتیں پڑھیں، بعدِ سلام ایک زور دار نعرہ لگایا اور ایک کھڑاؤں ہوا میں پھینکی، پھر دوسرا نعرہ مارا اور دوسری کھڑاؤں پھینکی ، دونوں چپلیں آناً فاناًہماری نگاہوں سے غائب ہوگئیں، پھر تشریف فرماہوئے، ہیبت کے سبب کسی کو پوچھنے کی جُرّأت نہ ہوئی، کچھ دن کے بعد عَجَم سے ایک قافلہ حاضرِ بارگاہ ہوا اور کہا: اِنَّ مَعَنَا لِلشَّیْخِ نَذْرًا یعنی ہمارے پاس شیخ عبد القادر کی ایک نذر ہے، ہم نے غوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہسے اس نذر کے لینے میں اِذن طَلَب کیا ،آپرحمۃ اللہ تعالٰی علیہنے فرمایا: لے لو۔تاجروں نے ایک مَن ریشم ،کچھ کپڑے کے تھان، سونا اور حُضُورغوثِ پاک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکی وہ چپلیں جو اس روز ہوا میں پھینکی تھیں پیش کیں۔  ہم نے حیرت سے پوچھا: یہ چپلیں تمہارے پاس کہاں سے آئیں؟کہا: ہم سفر میں تھے کہ کچھ راہزن (یعنی ڈاکو)جن کے دو سردار تھے ہم پر آپڑے ہمارے مال لُوٹے اور کچھ آدمی قتل کئے اور ایک نالے میں تقسیم کو اُترے، ہم نے (آپس میں ) کہا:

 بہتر ہوکہ اس وقت ہم  اپنے شیخ حضور غوثِ اعظم کو یاد کریں اور نجات پانے پر ان کیلئے کچھ مال نذر مانیں، ہم نے حضورِغوثِ پاک کو یاد کیا ہی تھا کہ دو عظیم نعرے سنے جن سے جنگل گونج اٹھا اور ہم نے راہزنوں کو دیکھا کہ ان پر خوف چھاگیا ،ہم سمجھے ان پر کوئی اور ڈاکو آپڑے، وہ آکر ہم سے بولے، آؤ اپنا مال لے لو اور دیکھو ہم پر کیا مصیبت پڑی ہے، وہ ہمیں اپنے دونوں سرداروں کے پاس لے گئے ہم نے دیکھا وہ مَرے پڑے ہیں اور ہر ایک کے پاس ایک چپل پانی سے بھیگی رکھی ہے، پھر ڈاکوؤں نے ہمارا سارا مال لوٹا دیا ۔ (بہجۃ الاسرار ، ص132ملخصاً)

قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا

کہا ہم نے جس وقت یاغوثِ اعظم

(ذوق نعت،ص126)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی        

Share

Articles

Comments


Security Code