محدث اعظم پاکستان اور خدمت حدیث

دنیا میں کچھ ایسے با کمال لوگ بھی ہوتے ہیں جواپنی زندگی سےبھرپور فائدہ اٹھاتے اورایسے کارہائے نمایاں سر انجام دے جاتے ہیں  کہ ظاہری  زندگی میں ان کے  فیضان کا سورج آب و تاب کے ساتھ چمکتا ہے  اور وصال کے بعد بھی  لوگ ان کا فیض پاتے ہیں۔ مُحدّثِ اعظم پاکستان   حضرت مولانا  ابو الفضل  محمد سردار احمدچشتی  قادری  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار بھی ایسی با کمال   شخصیات میں ہوتا ہے ۔ 1323ھ/1905ء میں آپ کی ولادت ہوئی۔(1) ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایف۔اے کرنے مرکزالاولیا لاہور گئےاور وہاں سےشہزادۂ اعلیٰ حضرت  حُجّۃ الاسلام  مولانا حامد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ حصولِ علمِ دین  کے لئے بریلی شریف(یوپی، ہند) روانہ ہو گئے۔(2) حضرت مولانا  ابو الفضل  محمد سردار احمد ذَکی(ذہین) و مُحدّثِ با کمال تھے۔(3) تمام عُلوم و فُنونِ مُروَّجہ  میں آپ کو مہارت حاصل تھی  لیکن حدیث ِ رسول سے محبت آپ کا خاص وَصف تھا،آپ  خودفرماتے ہیں: لوگ جب بیمار ہوتے ہیں تو دوائی کھاتے ہیں اور میں حدیثِ مصطفےٰ پڑھاتا ہوں تو مجھے آرام ہو جاتا ہے۔ (4) حدیث پاک سے محبت ہی کے باعث آپ نے زندگی کا اکثر حصّہ درسِ حدیث میں  گزارا۔ دس سال تک دارالعلوم مظہر اسلام بریلی شریف (ہند) میں(5)اور قیامِ پاکستان کے بعد  تادمِ حیات جامعہ رَضَوِیّہ مظہرِِ اسلام سردارآباد ( فیصل آباد) میں درسِ حدیث کی خدمات سر انجام دیں(6) اس عرصےمیں سینکڑوں  فُضَلا نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے حدیث پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔(7) حدیثِ رسول  کی خدمت کی وجہ سے آپ کو مُحدّثِ اعظم پاکستان کہا گیا(8)  آپ کی حدیث ِ رسول سے محبت کا یہ عالم تھا  کہ دورانِ درس جیسی حدیث ہوتی ویسی ہی  آپ  کی کیفیت ہوتی، اگر حدیث میں سرکار صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تبسّم کا ذکر ہوتاتوآپ بھی مسکراتے، اگر گِریَہ و علالت کا تذکرہ ہو تاتو آپ بھی روتے۔(9) دورانِ درس بارہا ایسا نور ظاہر ہوتا کہ جس کے سامنے سورج کی روشنی بھی مدھم پڑ جاتی۔(10)

حکایت

ایک مرتبہ ایک عقیدت مند نے آپ کی دعوت کی، آپ نے دعوت قبول فرمائی، کھانے کے بعد خُدّام حاضرین جو کھانا کھا چکے تھے ان سے فرمایا : مولانا  خوب کھائیں ، خوب کھائیں ، خُدّام نے آپ کے ارشاد پر دوبارہ کھاناکھایا ، پھر فرمایا :آج میں نے نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سرکارِ ابو ہریرہ والی سنّت ادا کی ہے۔(11) اِس حکایت میں  محدّثِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا اشارہ بخاری شریف کی اس حدیث پاک کی طرف ہےجس میں سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دودھ کے ایک پیالے سے ستر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو سیراب فرمایا اورآخر میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے فرمایا : پیو! انہوں نے سیر ہو کر پیا ، پھر فرمایا : پیو!آپ نے سیر ہو کر پیا ، پھر فرمایا پیو! ۔۔الخ۔(12) فنِ حدیث میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو یَدِ طُولیٰ (کمال) حاصل تھا(13) جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے  بُخاری  شریف کی صرف پہلی  جلد سے  علمِ غیب ِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ثبوت پر 220، اختیارو فضائلِ رسول پر 150،معجزات و کرامات پر 50، فضائلِ صحابہ پر 40، اصولِ حدیث ، اسماءُ الرجال اور تقلید پر 150احادیث جمع فرمائیں۔ (14)حدیث میں شہرت و کمال ہی کی وجہ سے  حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جیسے شارِح و مُفسّر بھی  آپ سے حدیث پڑھنے کے خواہشمند  تھے۔ (15) عُلمائے عرب و عجم نے آپ کو حدیث کی اجازت دی، آپ کے تَلامِذہ(شاگرد) جلیلُ القدر مُحدّث بنے، آپ نے اُمّہاتِ کُتُب (صحاح ستّہ) پر تعلیقات لکھیں، آپ کے تَلامِذہ نے کُتُبِ حدیث کی شُروحات اور قراٰن پاک کی تفاسیر  لکھیں(16) جو اِس بات کا بَیِّن ثُبوت ہے کہ آپ حقیقتاً مُحدّثِ اعظم تھے۔(17) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے فیضان سے فیض یاب ہونے والوں میں  شارِحِ بُخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی، مفسّرِ قراٰن علّامہ محمد رِیاض الدّین قادری، مُصنّف و مترجم کُتُبِ کثیرہ علّامہ مفتی  فیض اَحمد اُویسی، مُفسّر قراٰن علّامہ جلال الدّین قادری، شہزادۂ صدرُ الشّریعہ شیخ الحدیث مفتی عبدالمصطفےٰ ازہری، شیخ الحدیث مفتی عبدالقیوم ہزاروی، شارِحِ بخاری علّامہ غلام رسول رَضَوی، مولانا  محمد عبد الرّشید جھنگوی، مُصنّفِ کُتُبِ کثیرہ،شیخ الحدیث  علّامہ عبدالمصطفےٰ اعظمی اورمفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدّین قادری رَضَویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن جیسی  جلیل  القدر شخصیات کے نام  قابلِ ذِکر ہیں۔(18) تما م عُمْردرس و تدریس اور  خدمتِ حدیث میں  مشغول رہنے کے بعد یکم شعبان المعظم  1382ھ کو آپ کا وصال ہوا۔ سُنّی رَضَوی جامع مسجد  سردار آباد ( فیصل آباد) سے متّصل آپ کا مزارِ مبارک  مَرجَع  خلائق ہے۔(19)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)حیاتِ محدثِ اعظم ،ص27 ، (2) حیاتِ محدثِ اعظم ، ص33ملخصاً (3)تذکرۂ محدث اعظم پاکستان،ج2، ص35 (4) حیاتِ محدثِ اعظم ،ص153 (5) حیاتِ محدثِ اعظم ، ص54 (6) تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان،ج2، ص11 (7)تذکرہ محدثِ اعظم پاکستان،ج1، ص13 (8) حیاتِ محدثِ اعظم، ص65ملخصاً  (9)حیاتِ محدثِ اعظم ، ص62ملخصاً (10)حیاتِ محدثِ اعظم ، ص63ملخصاً (11) تذکرہ محدثِ اعظم پاکستان،ص228 (12)بخاری،ج4، ص234، حدیث: 6452ملخصاً (13)تذکرۂ محدث اعظم پاکستان،ج2، ص36ملخصاً (14)حیاتِ محدثِ اعظم ، ص137ملخصاً (15)حیاتِ محدثِ اعظم ، ص62 ملخصاً (16)تذکرہ محدث اعظم  پاکستان،ج2، ص10 (17) تذکرہ محدث اعظم  پاکستان،ج2، ص39 (18)تذکرہ محدث اعظم  پاکستان ،ج2، ص43ملخصاً،حیاتِ محدثِ اعظم،ص65ملخصاً (19)حیاتِ محدثِ اعظم،ص334 ،339 ماخوذاً،

Share

Articles

Comments


Security Code