علم کے خزانے کیسے حاصل ہوئے؟/علماء کا دیگر مسلمانوں سے زیادہ احترام کیوں؟

باتوں سے خوشبو آئے

نماز کا ثواب

ارشادِ حضرتِ سیِّدُناکعب الاحبار علیہ رحمۃ اللہ الغفَّار: اگر تم جان لو کہ دورکعت نفل نماز کا ثواب کتناہے تو اسےمضبوط پہاڑوں سے بھی بڑاسمجھواور فرض نماز کا اجر تم جتنا بیان کر سکتے ہو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔

(حلیۃ الاولیاء،5/421،رقم: 7596)

عبادت کی بنیاد

٭ارشادِ حضرت سیِّدُنا امام غَزالی علیہ رحمۃ اللہ الوَالی:ہر عبادت کی بنیاد علم پر ہے۔(منہاج العابدین،ص 16)

علم کے خزانے کیسے حاصل ہوئے؟

٭ارشادِ حضرت سیِّدنا امام حُلْوانی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی: میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کے ذریعے حاصل کیا، وہ اس طرح کہ میں نے کبھی بغیر وُضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا۔

(البحر الرائق،1/350)

دولت کی مستی سے پناہ مانگو!

٭ارشادِ حضرت سیِّدُنا ضِیاءُ الدّین احمد مَدَنی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی: دولت کی مَستی سے خدا کی پناہ مانگو، اس سے بہت دیر میں ہوش آتا ہے۔(سیّدی قطبِ مدینہ،ص 18)

احمد رضا کا تازہ گُلستاں ہے آج بھی

کان بجنے کا سبب

٭کان بجنے کا یہی سبب ہے کہ وہ آوازِ جانگداز (اُمّتی اُمّتی) اس معصوم عاصی نواز (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی جو ہر وقت بلند ہے، گاہے (کبھی کبھار) ہم (میں) سے کسی غافل و مدہوش کے گوش (کان) تک پہنچتی ہے، روح اسے اِدْراک کرتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 30/712)

علماء کا دیگر مسلمانوں سے زیادہ احترام کیوں؟

٭علماء سادات کو ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّنے اِعزاز و اِمتِیاز بخشا تو ان کا عام مسلمانوں سے زیادہ اِکرام امرِ شرع کا اِمْتِثَال (یعنی عزت کرنا حکمِ شریعت پر عمل کرنا) اور صاحبِ حقّ کو اس کے حقّ کا اِیفا (حقدار کو اس کا حق پہنچانا)ہے۔(فتاویٰ رضویہ،23/718)

خود کو دوسروں سے بڑا سمجھنا تکبر ہے

٭علماء و سادات کو یہ ناجائز و ممنوع ہے کہ آپ اپنے لئے سب سے اِمتِیاز چاہیں اور اپنے نفس کو اور مسلمانوں سے بڑا جانیں کہ یہ تکبّر ہے اور تکبّر مَلِک جبّار جلت عظمتہ کے سوا کسی کو لائق نہیں۔(فتاویٰ رضویہ،23/719)

عطّار کا چمن کتنا پیارا چمن

زیتون کے تیل کا فائدہ

٭کولیسٹرول کے مریضوں کے لئے زیتون شریف کا تیل استعمال کرنا فائدہ مند ہے۔(مدنی مذاکرہ، 4ذوالقعدۃ الحرام 1435ھ)

تھکاوٹ کا علاج

٭تھکاوٹ ہوجائے تو کىلا کھالیجئے۔ کہا جاتا ہے کہ دوکىلے کھانے سے تقریباً ڈىڑھ گھنٹے کى توانائى حاصل ہوتى ہے۔

(مدنی مذاکرہ، 5ربیع الاول1439ھ)

اخلاص کی برکت

٭رِیاکاری سے بچتے ہوئے اِخلاص کے ساتھ نیک اَعمال کرنے کی عادت بنائیے کہ مُخلص شخص 1000پردوں میں چُھپ کر بھی نیک کام کرے، اللہ پاک اسے لوگوں میں مشہور فرما دیتا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ،25ذوالحجۃ الحرام1435ھ)

Share

علم کے خزانے کیسے حاصل ہوئے؟/علماء کا دیگر مسلمانوں سے زیادہ احترام کیوں؟

کھانا جہاں ہمارےپیٹ کی آگ بُجھاتا ہے وہیں جسمانی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے لیکن گلی محلوں اور چوکوں پر یہاں تک کہ کچرا کونڈیوں پر بھی ضائع ہوتا دکھائی دیتا ہے لہٰذا ضرورت کے مطابق ہی کھانا پکانا چاہئے، پھر بھی اگر بچ جائے اور اسے کچھ وقت کے لئے محفوظ کرنا ہو تو فریز کرکے اسے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے حوالے سے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے۔ کھانا فریز کرنے کی چنداحتیاطیں (1) فریزر میں گرم کھانا رکھنے سے احتیاط کیجئے کہ گَرْم اشیاء رکھنے سے اس کا دَرَجۂ حرارت بڑھ جاتا اور بجلی زیا دہ خَرْچ ہوتی ہے (2) بہت سارا کھانا ایک ساتھ رکھنےسےاحتیاط کیجئے کہ مکمل طور پر ٹھنڈا نہیں ہوپاتا اور جلد خراب ہوجاتا ہے (3)کھانے کو پلاسٹک کے چھوٹے سائز کے ڈبوں میں فریز کرنا چاہئے کیونکہ ڈبے کا سائز جس قدر بڑا ہوگا اسی قدر اشیاء کے جمنے کا عمل سُست ہوگا نتیجۃًکھانا جلد خراب ہوگا (4)فریز کی گئی تمام خوراک کی فہرست بناکر اسے فریزر پر چسپاں کر دیجئے یا پھر کچن میں لگا لیجئے، ہر بار نئی اشیاء رکھنے سے پہلے ان کو فریز کرنے کی تاریخ ضرور لکھ لیجئے اور ساتھ ہی تھوڑے تھوڑے عرصے بعد معائنہ کرتے رہئے تاکہ غیر ضروری یا ناقابلِ استعمال خوراک سے فریزر بھرا نہ رہے (5) سبزیوں کو ریفریجریٹر میں رکھنے سے پہلے نہ دھویئے اور نہ ہی انہیں کاغذ کی تھیلیوں میں بند کرکے رکھئے کیونکہ اس طرح کاغذ ریفریجریٹر کی نمی جذب کرلیتا ہے اور کھانے کی چیزوں سے چپک جاتا ہے (6)اس اصول کو اپنی زندگی کا حصّہ بنا لیجئے کہ بچ جانے والا کھانا صرف ایک بار استعمال کیجئے۔ مثال کے طور پر پگھلی ہوئی آئسکریم کو دوبارہ فریز نہ کیجئے، کیونکہ ایک بار پگھلنے کے بعد اس میں بیکٹیریا کی اَفزائش ہونے لگتی ہے۔ فریز کی ہوئی ہر قسم کی غذا کو صرف ایک بار پکایا یا گرم کیا جا ئے،کیونکہ انہیں دوبارہ فریز کرکے کھانے سے پیچیدہ اَمْراض کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کھانا فریز کیجئے مگر! کھانا فریز کرنے کےمدنی پھول اپنی جگہ مگرہمیں شریعتِ مُطَہَّرہ کے مِزاج کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو شخص اُس چیز کو جس کی خود اِسے حاجت ہو دوسرے کو دیدے تو اللہ پاک اسے بخش دیتا ہے۔ (اتحاف السّادۃ المتقین، 9/779) حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: مومِن ایک ننّھی سی بکری کی طرح ہے جس کو مٹھی بَھر خُشک کھجور، ایک مٹھی جَو اور ایک گُھونٹ پانی کافی ہے اور منافِق ایک درندے کی طرح ہڑپ ہڑپ کھاتا اور نگلتا ہے۔ اس کا پیٹ اپنے پڑوسی کی خاطِر نہیں سُکڑتا اور وہ اپنے بھائی پر اپنی کسی چیز کا ایثار نہیں کرتا۔ (قوت القلوب، 2/324)امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ارشاد فرماتےہیں: کاش ہمارے اندر بھی جذبۂ ایثار پیدا ہو جائے۔ ہائے ہائے! ہم تو ٹھونس ٹھونس کر پیٹ بھر لینے کے بعد بچا ہوا کھانا بھی ایثارکرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے بلکہ آئندہ کھانے کیلئے اُس کو فریزر میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ کاش! ایثار کا عظیمُ الشّان ثواب حاصل کرنے کا ہمارا بھی ذہن بن جاتا۔(پیٹ کاقفلِ مدینہ،ص789)

اللہ پاک سےدُعاہے کہ ہم اس کی نعمتوں کی قدرکرنے والے اوردیگرعاشقانِ رسول کاخیال کرنےوالے بن جائیں۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Share