لنگربانٹنے کا غلَط طریقہ / شوہر حاکم ہے

باتوں سے خوشبو آئے

جنّت میں داخلے کا نسخہ

ارشادِ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ:جن لوگوں کی زبانیں اللہ پاک کے ذکرسے تَررہتی ہیں وہ ہنستے ہوئے داخلِ جنّت ہوں گے۔(الزھد لامام احمد ، ص161،رقم:726)

دنیا سے بے رغبتی کا فائدہ

ارشادِحضرت سیّدُنا سلمان فارسیرضی اللہ عنہ:بندہ جب دنیا سے بے رغبت ہوجائے تو اس کا دل حکمت سے منوّر ہو جاتا ہے اور اس کے اعضاء عبادت کرنے میں اس کے مددگار بن جاتے ہیں۔(منہاج العابدین ،ص 29)

کامل انسان کی نشانیاں

ارشادِ حضرت سیّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ:انسان کے کامل ہونے کی تین نشانیاں ہیں : (1)مصیبت کے وقت شکوہ نہ کرنا (2) اپنی تکلیف سب کو نہ بتا نا اور (3) اپنی تعریف خود نہ کرنا۔ (الزھد لامام احمد ، ص166،رقم:773 )

دنیا و آخرت کی مثال

ارشادِ حضرت سیّدُنا امام غزالیرحمۃ اللہ علیہ:دنیا و آخرت مشرق و مغرب کی طرح ہیں ، تم ان میں سے ایک کی طرف جتنا بڑھو گے دوسری سے اتنا ہی دور ہوجاؤ گے۔(منہاج العابدین ،ص 28)

Share

لنگربانٹنے کا غلَط طریقہ / شوہر حاکم ہے

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

ماں کو باپ پر کس معامَلے میں ترجیح دی جائے؟

خدمت میں، دینے میں باپ پر ماں کو ترجیح دے مثلاً سو روپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانعِ تفضیلِ مادر(ماں کو ترجیح دینے میں رکاوٹ بننے والی کوئی خاص وجہ)نہیں توباپ کو پچّیس دے ماں کو پچھتّر، یا ماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا تو پہلے ماں کو پلائے پھر باپ کو، یا دونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھر باپ کے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص389)

لنگربانٹنے کا غلَط طریقہ

لنگر لٹانا جسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتّوں پربیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے(آتی) ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزق ِالٰہی کی بے تعظیمی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص521)

شوہر حاکم ہے

اﷲ عَزَّوَجَلَّ نے شوہر کو حاکم بنایا ہے، اُسے محکوم بنانا عورت پر حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،ج24،ص196)

عطّار کا چمن، کتنا پیارا چمن !

جنّت میں لے جانے والا کام

جنّت میں لے جانے والے کاموں میں سے ایک کام ”مسلمان کو اپنے شَر سے بچانا  ہے۔“(مَدَنی مذاکرہ، 3ربیع ُالاول1439ھ)

میلے کچیلے کپڑے پہننا سادگی نہیں ہے

دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں سادگی کو بہت اَہَمِّیَّت حاصل ہے مگر میلے کچیلے کپڑے پہننا سادگی نہیں ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 10ربیع ُالاول1439ھ)

عمامے یا کپڑوں پر نعلَین شریف لگانے کا مقصد

نقشِ نعلىن شرىف کے بَیج(badge) عمامے ىا کپڑوں پر لگانے کا مقصد زىنت حاصل کرنا نہىں ہے بلکہ برَکت حاصل کرنا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 11ربیعُ الاول1439ھ)

Share

Comments


Security Code