بزرگانِ دین رحمہم اللہ المُبِین، اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت اور امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے انمول مدنی پھول

باتوں سے خوشبو آئے

زندگی میں موت کی تیاری کرلو

(1)ارشادِ حضرتِ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما: جب تُوشام کرے توآنے والی صبح کا انتظار مت کر اورجب صبح کرے توشام کا منتظر نہ رہ ، اورحالتِ صحت میں بیماری کے لئے اورزندگی  میں موت کے لئے تیاری کرلے۔

(بخاری ،ج4ص223،حدیث: 6416)

قبولیتِ دعا  کے لئے نیکی و بھلائی  کی اہمیت

(2) ارشادِحضرتِ سیّدناابوذَرغِفَاریرضی اللہ تعالٰی عنہ:دعاکی قبولیت کے لئے نیکی و بھلائی کی حیثیت ایسی ہے جیسی سالن میں نمک کی۔(مصنف ابنِ ابی شیبہ،ج7ص40،حدیث:4)

ذلت و رسوائی کا آغاز

(3)ارشادِحضرتِ سیّدناسلمان فارسیرضی اللہ تعالٰی عنہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی کوذلیل ورُسوا یاہلاک کرنے کاارادہ فرماتاہے تواس سے حیاچھین لیتاہے۔پھرتم اس شخص کو اس حال میں پاؤگے کہ وہ لوگوں سے نفرت کرتا ہےاورلوگ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ (مکارم الاخلا ق، ص94، رقم:113)

نیک لوگوں سے محبت کی فضیلت

(4) ارشادِ حضرتِ سیّدنا ابو دَرْدَاء رضی اللہ تعالٰی عنہ  :جب تک تم نیک لوگوں سے مَحبت رکھوگے بھلائی پر رہو گے اور تمہارے بارے میں جب کوئی حق بات بیان کی جائے تواسے مان لیاکروکہ حق کو پہچاننےوالا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔ (شعب الایمان ،ج6ص503،حدیث:9063)

علما کو حقیر سمجھنے کی نحوست

(5)ارشادِ حضرتِ سیّدنا عبد اللہ بن مُبارکرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: جس نے عُلَماکو حقیر سمجھا اس کی آخِرت کو نُقصان ہو گا۔(تاریخ الاسلام للذھبی،ج 12ص232)

بہادر کون؟

(6)ارشادِ حضرتِ سیّدنا فُضَیْل بن عِیَاض رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: اپنےمسلمان بھائیوں کی غلطیوں کو معاف کرنا بہادری ہے۔ (احیاء علوم الدین،ج2 ص221)

توبہ کی فضیلت

(7) ارشادِ حضرتِ سیّدنا عون بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ: توبہ کرنے والوں کے دل اس شیشے کی مانند ہوتےہیں جس میں ہر شے نظر آتی ہے، ان کے دل  نصیحت کو جلدی قبول کرتے ہیں اور وہ  نَرْمی کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔

(حلیۃ الاولیاء،ج4ص279،رقم:5571)

دل کی سختی کی علامت

(8) ارشادِ حضرتِ سیّدنا مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنان:جو شخص زبان کا بے باک ہو کہ ہر بُری بھلی بات بے دھڑک منہ سے نکال دے تو سمجھ لو کہ  اس کا دل سخت ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ،ج6ص641)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

صرف شہرت کافی ہے

(1) (سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سے منسوب تبرُّکات کی)تعظیم کے لئے  نہ یقین درکار ہے نہ کوئی خاص سندبلکہ صرف نامِ پاک سےاُس شےکااِشتہار(مشہورہوجانا)کافی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21ص415)

روزِ قیامت انصاف ہوگا

(2)دنیا گُزَشْتَنی (یعنی گزرجانے والی) ہے، یہاں احکامِ شرع (شریعت کی مُقَرَّر کردہ سزائیں) جاری نہ ہونے سے خوش نہ ہوں ۔ ایک دن انصاف کاآنے والا ہے جس میں شاخدار( یعنی سینگ والی) بکری سے مُنْڈی(بے سینگ کی) بکری کا حساب لیا جائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ،ج16ص310)

مستحب کام کے لئے حرام  کا ارتکاب

(3) کسی مستحب شے کے حاصل کرنے کے واسطے حرام (ذریعے)کواختِیِارنہیں کرسکتے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21ص419)

ظلماً مالِ وقف کھانے کا وبال

(4) مالِ وقف مثلِ مالِ یتیم ہے جس کی نسبت ارشادہوا کہ جواسے ظلماً کھاتاہے اپنے پیٹ میں آگ بھرتا ہے اور عنقریب جہنّم میں جائے گا۔(فتاویٰ رضویہ،ج16ص223)

مریدین کی امداد

(5)مشائخِ کرام دنیا و دین  و نزع و قبر و حشر  سب حالتوں میں اپنے مریدین کی امداد فرماتے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج21ص464)

دونوں جہاں  کی عزت کا حصول

(6)مسلمان ہونے سے دونوں جہان کی عزّت حاصل ہوتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج11ص719)

سنگ دلی

(7)بے درد کو پَرائی(یعنی دوسروں کی)مصیبت نہیں معلوم ہوتی۔ (فتاویٰ رضویہ،ج16ص310)

عطّار کا چمن، کتنا پیارا چمن!

اللہ کی نافرمانی سے پرہیز

(1)اللہ پاک کی نافرمانی سے ہر صورت میں بچنا چاہئے کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا جہنّم میں جھونک سکتا ہے۔

(مَدَنی مذاکرہ،16رمضان المبارک1437ھ)

افسوس کس پر کریں

(2)دنیاوی مال و دولت کم ہونے پر افسوس کرنے کے بجائے نیکیاں کم ہونے پر افسوس کیجئے۔

(مَدَنی مذاکرہ،29رمضان المبارک1437ھ)

اے کاش !

(3)اے کاش! ہم نیک اعمال کے ذریعے اور باطنی بیماریوں کا علاج کرکے اپنے دل کو چمکانے کی کوشش کریں۔

(مَدَنی مذاکرہ،7رمضان المبارک1437ھ)

سگریٹ نوشی کا نقصان

 (4)سگریٹ نوشی(Smoking)بہت نقصان دِہ ہے کہ اس سے ٹی بی (T.B) ہو سکتی ہے اور اس مرض میں مبتلا شخص کھانسنے کی وجہ سے نہ خود سو سکتا ہے نہ ہی دوسروں کو سونے دیتا ہے۔(مَدَنی مذ اکرہ،4رمضان المبارک1437ھ) 

غلطی تسلیم کیجئے

(5)غلطی تسلیم کرنے سے عزت گھٹتی نہیں، بڑھتی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ،4ربیع الآخر1437ھ)

انفرادی طور پر سمجھائیے

(6) کسی کو سمجھانا بھی ایک فَن ہے، اگر سمجھانا آتا ہے تو انفرادی طور پر سمجھائیےکہ یہ زیادہ فائدہ مند ہے۔

(مَدَنی مذاکرہ،27ربیع الآخر1437ھ)

Share

Comments


Security Code