کیسا ہونا چاہئے؟

مسجد انتظامیہ کو کیسا ہونا چاہئے؟(قسط : 2)

*   ابوالنّور راشد علی عطاری مدنی

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

مسجد انتظامیہ کے اوصاف و ذمّہ داریوں کو 7 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے : (1)مسجد انتظامیہ کا انتخاب اور انفرادی اوصاف (2)مسجد کے عملہ (خطیب ، امام ، مؤذن اور خادم) کا انتخاب (3)مسجد کے عملہ کے ساتھ انتظامیہ کا برتاؤ (4)تعمیراتی کاموں میں احتیاطیں (5)مساجد کے عُمومی مسائل (الیکٹرک ، سینٹری ، مائیک و اسپیکر وغیرہ) پر توجہ اور ان کا حل (6)مسجد انتظامیہ کا اہلِ محلہ و علاقہ کے ساتھ رویہ (7)مسجد کی آبادکاری میں انتظامیہ کے لئے چند اہم مدنی پھول۔

(1)مسجد انتظامیہ کا انتخاب اور انفرادی اوصاف

جیساکہ پہلی قسط میں سُوْرَۃُ التَّوبَۃ کی آیت نمبر18کے حوالے سے بیان ہوا کہ “ اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم رکھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سِوا کسی سے نہیں ڈرتے “ چنانچہ ضروری ہے کہ مسجد انتظامیہ کے افراد انفرادی طور پر بھی چند اہم اور ضروری صفات کے مالک ہوں تاکہ مسجد کی آباد کاری قراٰنی اُصولوں کی روشنی میں ہوسکے۔ *مسجد انتظامیہ کے انتخاب کے معاملے میں اہلِ علاقہ کو ہمیشہ مسجد اور تعلیماتِ اسلامیہ کو ترجیح دینی چاہئے ، مسجد کے لئے ان ہی افراد کو منتخب کیا جائے جو ربِّ کریم کے فرمان پر پورے اترتے ہوں۔ اللہ و رسول پر ایمان رکھنے والے اور پکے صحیحُ الْعقیدہ سُنّی ہوں ، بدمذہبوں سے دور رہنے والے اور عقائدِ اہلِ سنّت جاننے اور سمجھنے والے اور باشرع ہوں۔ ہر مسلمان کی طرح مسجد انتظامیہ پر بھی پنجگانہ نماز فرض ہے ، لہٰذا انہیں بھی پنجگانہ نماز کا پابند ہونا چاہئے اور ممکنہ صورت میں ہر نمازِ باجماعت میں لازمی شریک ہوں۔ *اسی طرح رَمَضانُ المبارَک میں روزوں کا اہتمام بحیثیتِ مسلمان تو فرض ہے ہی جبکہ مسجد کا نمائندہ ہونے کے ناطے اس فریضے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ عوامُ النّاس نماز ، روزے کے پہلو سے مسجد انتظامیہ پر بہت توجہ رکھتے اور کمی کی صورت میں اعتراضات کرتے ہیں ، بعض لوگ تو مساجد ہی میں محافل لگا لیتے ہیں کہ انتظامیہ کیسی ہے! نہ نماز پڑھتے ہیں! نہ روزہ رکھتے ہیں وغیرہ۔ *اَخلاقِ حَسَنہ ایک مسلمان کا لازمی و قیمتی زیور ہے ، حُسنِ اَخلاق رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا پیارا بننے اور ان کا قُرب پانے کا ذریعہ ہے ، اللہ کے پیارے نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : “ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ مَحبوب اور بروزِ مَحْشَر میرے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اچھے اَخلاق والے ہوں ، وہ لوگوں سے اُلفت رکھتے ہوں اور لوگ بھی ان سے محبت کرتے ہوں۔ اور تم میں سے میرے لئے سب سے زیادہ قابلِ نفرت اور قیامت کے دن میری مجلس میں مجھ سے زیادہ دُور وہ لوگ ہوں گے جو باطِل چیزوں میں زیادہ گفتگو کرتے ہوں گے ، لوگوں کے ساتھ بَدکلامی و بدزبانی کرتے  ہوں گے اور تکبر کرتے ہوں  گے۔ “ ( مکارم الاخلاق للطبرانی ، ص314 ، حدیث : 6) چنانچہ مسجد انتظامیہ کو بھی حُسنِ اَخلاق والا ، نرم خُو اور پیار و محبت اور اپنائیت والا ہونا چاہئے ، مسجد میں کسی مقتدی یا عملہ سے واسطہ ہو یا باہَر کسی ذاتی معاملے میں مصروف ہوں ہر جگہ حُسنِ اَخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ *گالی گلوچ تو کسی پاگل سے بھی لوگ برداشت نہیں کرتے ، مسجد انتظامیہ میں سے کسی کا اس قبیح فعل میں مبتلا ہونا انتہائی تشویش ناک ہے ، ایسا انداز مساجد کی آبادکاری کی ترقی کا باعث کبھی نہیں ہوسکتا ، بلکہ خدانخواستہ اگر مسجد انتظامیہ کا ایک فرد بھی گالی گلوچ والا رویہ رکھتا ہے تو امام ، مؤذن ، مقتدی بلکہ اہلِ محلہ بھی انہیں سپورٹ کرنے اور مسجد کی بہتری کے لئے کام کرنے سے کتراتے ہیں جو کہ سَراسَر مسجد بلکہ دینِ اسلام کے لئے نقصان دہ ہے۔ ایسے افراد کو ڈرنا چاہئے کہ گالی گلوچ کرنے کو حدیث پاک میں پکے منافق کی نشانی بتایا گیا ہے۔ (بخاری ، 1 / 25 ، حدیث : 34) اللہ کریم ہماری مساجد کی انتظامیہ کو قراٰن و سنّت کی تعلیمات کا پابند بنائے اور انہیں خدمتِ مسجد کے سبب برکتیں نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔ ۔ ۔ اِنْ شَآءَ اللہ)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   ناظم ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share