مسواک شریف کے فضائل

(۱)مِسواک کر کے دو رَکْعتیں پڑھنا بغیرمِسواک کی 70 رَکعتوں سے اَفضل ہے([1]) (۲)مِسواک کے ساتھ نَماز پڑھنا بغیر مِسواک کے نَمازپڑھنے سے70گُنا افضل ہے([2]) (۳) چار چیزیں رَسولوں کی سُنَّت ہیں :(۱)عِطْر لگانا (۲)نِکاح کرنا (۳) مِسواک کرنا  اور (۴)حیا کرنا  ([3]) (۴)مِسواک کرو!مِسواک کرو! میرے پاس پیلے دانت لے کر نہ آیا کرو([4]) (۵)مِسواک میں موت کے سوا ہر مرض سے شفا ہے([5]) (۶) اگر مجھے اپنی اُمت کی مَشَقَّت و دشواری کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کوہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا([6])(۷)مسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو کیونکہ اِس میں منہ کی صفائی ہے اور یہ ربّ تعالیٰ کی رِضا کا سبب ہے([7])(۸) وضو نصف (یعنی آدھا)اِیمان ہے، اور مِسواک کرنا نِصف (یعنی آدھا) وضو ہے([8]) (۹)بندہ جب مِسواک کرلیتا ہے پھر نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ اُس کے پیچھے کھڑا ہو کر قِراء ت (قِرا۔ءَ ت) سنتا ہے، پھر اُس سے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے([9]) (۱۰)’’ جس شخص نے جمعے کے دِن غسل کیا اور مسواک کی ،خوشبو لگائی ، عُمدہ کپڑے پہنے، پھر مسجِد میں آیا اور لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگا ،بلکہ نماز پڑھی اور امام کے آنے کے بعد ( یعنی خطبے میں اور)نماز سے فارِغ ہونے تک خاموش رہا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے تمام گُناہوں کو جو اُس پورے ہفتے میں ہوئے تھے، مُعاف فرمادیتا ہے۔‘‘ (مُسندِ احمد بن حنبل ج۴ص۱۶۲حدیث۱۱۷۶۸)(مسواک شریف کے فضائل ،ص2،از امیرِاہلسنّت)

 

 

 

 



[1]۔۔۔ اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۱ص۱۰۲حدیث۱۸ 

[2]۔۔۔ شعب الایمان ج۳ص۲۶حدیث۲۷۷۴ 

[3]۔۔۔ مُسندِ احمد بن حنبل  ج۹ص۱۴۷حدیث

[4]۔۔۔ جَمْعُ الْجَوامِع ج۱ص۳۸۹حدیث۲۸۷۵

[5]۔۔۔ جامعِ صغیر ص۲۹۷حدیث۴۸۴۰ 

[6]۔۔۔ بُخاری ج۱ص۶۳۷ 

[7]۔۔۔ مُسندِ احمد بن حنبل ج۲ص۴۳۸حدیث۵۸۶۹

[8]۔۔۔ مُصَنَّف ابنِ اَبی شیبہ ج۱ص۱۹۷حدیث۲۲ 

[9]۔۔۔ البحر الزخار ج۲ص۲۱۴حدیث:۶۰۳

Share

Articles

Comments


Security Code