دنیا کی لذات کی حقیقت/ نعتیہ اشعار کون لکھے وغیرہ

شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں:

(1) حقیقت میں دنیا کی لذّتیں خواب کی طرح ہیں جو اس کی رنگینیوں میں کھویا ہوا ہے وہ یقیناً غفلت کی نیند سویا ہوا ہے، موت آنے پر وہ جاگ اُٹھے گا۔(چار سنسنی خیز خواب، ص 17)

(2) نعتیہ اشعار وہی لکھے جو فنِّ شعری(یعنی شعر کے متعلق فن) جانتا ہو، عالِم ہو اور جس کی قراٰن و حدیث پر گہری نظر ہو (یا کلام لکھ کر ماہِر عالم سے چیک کروا لے)۔(مَدَنی مذاکرہ، 6 شوال المکرم 1435)

(3) وَقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فَرّاٹے بھرتا ہوا جارہا ہے نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے، جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا۔(انمول ہیرے، ص 5)

(4) یاد رکھیں! قیامت کے روز فضول نظری(یعنی بلاضرورت اِدھراُدھر دیکھنے)  کا بھی حساب ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 9 شوال المکرم 1435)

 (5) حَیا ایک ایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچّھائیوں کی تکمیل، ایمان کی مضبوطی کا باعِث اور اس کی عَلامات میں سے ہے۔(با حَیا نوجوان، ص 13)

(6) یاد رکھئے! دولت سے دوا تو خریدی جاسکتی ہے، شِفا نہیں خریدی جاسکتی۔ دولت سے دوست تو مل سکتے ہیں، مگر وفا نہیں مِل سکتی۔(پُر اسرار بھکاری، ص 13)

(7) شیطان نے ہزاروں سال عبادت کی،اپنی رِیاضت اور عِلمیّت کے سبب مُعَلِّمُ المَلَکُوت (یعنی فرشتوں کا اُستاد) بن گیا تھا لیکن اس بدبخت کو تکبُّر لے ڈوبا اور وہ کافِر ہوگیا۔(بُرے خاتمے کے اسباب، ص 25)

(8) مجھے روزوں اور رمضان سے بہت پیار ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں رمضان کی(حقیقی) محبّت عطا فرمائے۔اٰمین(مَدَنی مذاکرہ، 12 شوال المکرم 1435)

(9) کاش! ہماری موت قابلِ رشک ہو، قابلِ عبرت نہ ہو۔(مَدَنی مذاکرہ، 17 شوال المکرم 1435)

 (10)کسی پیرِ کامل کا مُرید بن جانا چاہئے کہ اُس کی برکت سے عذابِ قبر دُور ہونے کی امّید ہے۔(خوفناک جادو گر، ص 9)

(11)وہ خوش نصیب ہےجس کو صحیح نماز ادا کرنا آتی ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 20 شوال المکرم 1435)

(12)حاجی جب  اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گھر کا اِرادہ کرے،اُس کے دِل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت کا چراغ (روشن)  ہو اور اس کا سینہ عشقِ رسول کا مدینہ ہو تو بات ہی کچھ اور ہوگی۔(مَدَنی مذاکرہ، 4 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(13)غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر ایک کی روزی تو اپنے ذِمّۂ کرم پر لی ہے مگر ہر ایک کی مغفِرت کا ذمّہ نہیں لیا۔ وہ مسلمان کس قَدَر نادان ہے جو رِزق کی کثرت کے لئے تو مارا مارا پھرے مگر مغفِرت کی حسرت میں دل نہ جلائے۔(خود کُشی کا علاج، ص 58 تا 59)

(14)ہمارے پیارےآقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سب سے زیادہ صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پیار تھا۔(بتغیّر قلیل مَدَنی مذاکرہ، 18 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

(15)مزاراتِ اولیا پر گنبد بنانے چاہئیں تاکہ عوام کے دل ان کی طرف مائل ہوں اور وہ فیضانِ اولیا سے مُسْتَفِیْض ہوں۔(مَدَنی مذاکرہ، 25 ذوالقعدۃ الحرام 1435)

Share

Articles

Comments


Security Code