اچھوں سے نسبت /حقیقی خوشی

(1)اچھوں سے نسبت بڑی اچھی بات ہے، ایک کُتا صرف اصحابِِ کہف رَحِمَھُمُ اللہ تَعَا لٰی کی نسبت کے سبب داخلِ جنت ہوگا۔([1])

(2)سانچ کو آنچ نہیں، جھوٹا آدمی اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔

(3)نماز کے بغیر انسان کس کام کا!

(4)لوگوں کے درمیان بیٹھو تو اپنی  زبان قابو میں رکھو، کسی کے گھر جاؤ تو اپنی  آنکھوں کو قابو میں رکھو، نماز میں اپنے  دل  کو قابو میں رکھو۔

(5)مسلمان کی  دل آزاری  میں جہنّم کی حقداری ہے۔

(6)اگر کسی کو  خوش  نہیں کرسکتے تو ناراض  بھی مت کیجیے۔

(7)جسمانی بیماریوں سے جس طرح ڈر لگتا ہے کاش! اُسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ  گناہوں کی بیماریوں سے  ڈر لگا کرے۔

(8)کھانے کے بعد  ٹھنڈا پانی پینے سے باز نہیں رہ سکتے تو  پتّے کی پتھری کے اِستقبال کے لیے تیار رہیے۔

(9)ہوسکے تو روزانہ ایک پارہ کم اَز کم ضرور  تلاوت  کرنا چاہیے۔

(10)مدینے کی حاضری عاشقوں کی  مِعراج ہے۔

(11)کولڈ ڈرنک  خوش ذائقہ  زہر ہے۔

(12)بے ضرورت گفتگو سے  دل سخت ہوجاتا ہے۔

(13)خاموشی، سنجیدگی اور نیچی نگاہیں رکھنے کی عادت ڈالئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ خشوع و خضوع  میں اضافہ ہوگا۔

(14)سُسرال میں زبان چلانے والی، سُسرال کی کمزوریاں مَیکے میں بیان کرنے والی اور سُسرال میں مَیکے کی تعریفیں کرنے والی کو  شادی خانہ بربادی  کا سامنا ہوسکتا ہے۔

(15)یاد رہے! حقیقی خوشی اُس کے لیے ہے جو ایمان سلامت لے کر قبر میں جانے میں کامیاب ہوگیا۔

(16)صابرہ، شاکرہ، میٹھے بول بولنے اور خُلوصِ دل سے سُسرال میں خدمت بجالانے والی کا گھر اَمْن کا گہوارہ بنا رہتا ہے۔



[1]…اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اصحابِ کہف کا کُتا ”بلعم باعور“ کی شکل میں جنت میں جائے گا اور بلعم اس کتے کی شکل ہو کر جہنم میں جائے گا۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص 535)

Share

Articles