عاشُورا کے فضائل

اسلامی سال کا پہلا مہینا مُحرّمُ الْحَرَام ہے جو  نہایت عظمتوں اوربرکتوں والا ہےبِالخصوص اس ماہ کی10 تاریخ  یعنی عاشُوْرا کےدن کو دینِ اسلام میں غیرمعمولی حیثیت حاصل ہے چنانچہ نبیِّّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود اس دن روزہ رکھا اورصحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کو بھی اس دن روزہ رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا۔ (بخاری،ج 1،ص656، حدیث: 2004 ماخوذاً) بلکہ اسلام سے قبل بھی لوگ اس دن کا اَدب و اِحترام کرتے اور اس دن  روزہ رکھا کرتے تھے۔

ہمیں بھی چاہئے کہ عاشورا (10مُحَرَّمُ الْحَرَام) کا روزہ رکھیں اور  خوب عبادات کریں، ذیل میں عاشورا  میں کی جانے والی چند نیکیاں بیان کی جارہی ہیں تاکہ عمل کی ترغیب ملے:

عاشورا  کا روزہ گُناہ مِٹاتاہے:نبیِّ رَحْمت، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:مجھے اللہ پاک کے کرم سے اُمّید ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گُناہ مِٹا دیتا ہے۔(مسلم، ص454، حدیث: 2746)

شبِ عاشورا کاعمل: عاشوراکی رات آئے تو  یہ عمل  کیجئے: عاشوراء کی رات میں چارنفل اس طرح ادا  کیجئے کہ ہر رَکْعَت میں سُورۂ فاتحہ کے بعد آیۃُ الکرسی ایک بار اور سُورۂ اِخْلَاص ( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌپوری سورت) تین تین بار پڑھئے پھر نماز سے فارغ ہوکر سو مرتبہ سُورۂ اِخْلَاص( قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌپوری سورت) پڑھئے۔ اس کی برکت سے گناہوں سے پاک ہوگا اور بِہِشْت (جنّت) میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی۔ (جنتی زیور،ص157بتغیر)

رِزْق میں فراخی کانسخہ: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو دس محرم  کو اپنے بچّوں کے خرچ میں فَراخی (یعنی کشادگی) کرےگا تو اﷲ پاک سارا سال اس کو فراخی دےگا۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا۔(مشکاۃ المصابیح،ج1،ص365، حدیث:1926)

عاشورا کے دن کی دس نیکیاں:عاشورا کے دن 12 چیزوں کو عُلَما نے مستحب لکھا ہے:(1)روزہ رکھنا(2)صدقہ کرنا (3) نفل نماز پڑھنا (4)ایک ہزارمرتبہ قُلْ ہُوَ اللہُ پڑھنا (5)عُلَما کی زیارت کرنا (6)یتیم کے سَر پر ہاتھ پھیرنا (7)اپنے اہل و عِیال کے رِزْق میں وُسْعت کرنا (8)غسل کرنا (9) سُرمہ لگانا (10)ناخن تراشنا (11)مریضوں کی بیمار پُرسی کرنا (12)دشمنوں سے مِلاپ (یعنی صلح صفائی ) کرنا۔(جنتی زیور، ص158ملخصاً)

شہدا ئے کربلا کو ایصالِ ثواب  کیجئے:عاشورا کے دن نواسۂ رسول،جگر گوشۂ بتول،امامِ عالی مقام،حضرت سیِّدُنا امام حسین رضی اللہ عنہ نےاپنے رُفَقا (ساتھیوں) کے ہمراہ گلشنِ اسلام کی آبیاری کی خاطراپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، لہٰذا ہمیں اس دن شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لئے قراٰن خوانی، ذِکْر و دُرُوْد اور نذر ونیاز کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔

کچھ نیکیاں کمالےجَلْد آخرت بنالے

کوئی نہیں بھروسا اےبھائی زندگی کا

(وسائلِ بخشش(مُرَمَّم)ص195)

Share

Articles

Books

Comments


Security Code