حرمین طیبین

مکّۂ مکرَّمہ ہویا مدینۂ منوَّرہ زاد ہمااللہ شرفاً وَّ تعظیماً دونوں کومحبوبِ خداصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسےنسبت ہے۔ ایک کو حضورِاکرمعلیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام کی جائے ولادت کا شرف ہے تو دوسرے کو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آخری آرام گاہ بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ خود سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دونوں شہروں سے بےحد لگاؤتھا۔مکۂ مکرَّمہ سے مدینہ شریف ہجرت کرتے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شہرِ مکۂ مکرَّمہکو مخاطب کرتے ہوئے  فرمايا: تو مجھے تمام شہروں سے زيادہ  پيارا ہے اگر ميری قوم مجھے  مجبور نہ کرتی تو ميں تیرےسوا کسی اور جگہ نہ رہتا۔(ترمذی،ج5،ص487،حدیث:3952) جبکہ مدینۂ منوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً وہ مقام ہے  کہ جسے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے مکّۂ مکرَّمہسے ہجرت کرکے شرفِ قیام  بخشا۔ بعض مہاجرصحابۂ کرامعلیہمُ الرِّضوان مکّہ شریف کو یاد کرتے تھے تو آپ علیہ الصلوۃ و السَّلام نے دعا فرمائی:الٰہی!مدینہ ہمیں ایسا پیارا کردے جیسے مکّہ پیارا تھا یا اس سے بھی زیادہ۔(بخاری،ج 1،ص621، حدیث: 1889)آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکسی بھی سفر سے واپسی پر معمول کے مطابق سواری چلاتے مگر جب  مدینہ شریف کے درودیوار دیکھتے تو محبتِ مدینہ کی  وجہ سے سواری کو تیز فرما دیتے۔(بخاری،ج1،ص620،حدیث:1886)

وہاں پیارا کعبہ یہاں سبز گنبد         وہ مکّہ بھی میٹھا توپیارامدینہ

                                              (وسائل بخشش مرمم،ص355)

 

Share

Articles

Comments


Security Code