فریاد

شکی مزاج

دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے نگران مولانا محمد عمران عطاری

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے ساتھ کسی نہ کسی تعلق و رشتے کے ذریعے جڑا ہوتاہے ، ان رشتوں میں ایک اہم ترین رشتہ زوجیت یعنی میاں بیوی  کا ہے۔ اس رشتے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ یہی رشتہ قوموں کی بقا و آبادی اور نسل بڑھنے   کا سبب بنا اور بن رہا ہے۔ یہ رشتہ بہت توجہ اور احتیاط کا تقاضا کرتاہے مگر بدقسمتی سےآج کل  زوجین  کا اندازِ  زندگی  ایسا بن  چکا ہےکہ  ایک کا دوسرے پراعتماد وبھروسا اٹھتا جارہا ہے اور آپس کی محبت ختم ہوتی نظر آرہی ہے ، ہوناتویہ چاہئےتھاکہ زوجین کےآپسی تعلق کی  رسی اتنی مضبوط ہوتی  کہ  آپس کی وقتی رنجشیں  یابدخواہوں کی بھاری تعداد مل کربھی زورلگاتی تووہ نہ ٹوٹتی مگر آج کل اس اہم رشتے کی  ڈور   اتنی کمزور ہوچکی ہےکہ ذرا سی حالات کی آندھی اسے توڑ کر  بکھیردیتی  ہے۔

میاں بیوی میں عمومی طور پر کسی  بات پر اختلاف ہو جاتا ہے اور رفع دفع بھی ہوجاتاہے  لیکن ایک معاملہ ایسا ہے کہ جس کا رفع دفع ہونا بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ ہے ایک دوسرے پر شک ہونا۔ یہ ایک ایسا مرض ہے کہ اگر بروقت ختم نہ ہو یا اس کا مناسب حل نہ ڈھونڈا جائے تو بالآخر گھر برباد کردیتاہے۔   بغیرکسی وجہ اور سبب کے  شک  کرنا نہایت ہی  بُری عادت ہے ، البتہ اگر کوئی ایسا سبب واقع ہو جس کی وجہ سے شک ہو اور بندے کی غیرت اسے شک کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے پر مجبور کرے تو یہ اچھی بات ہے۔

 اللہ پاک کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    نے ارشادفرمایا : ’’کچھ غیرتیں  وہ ہیں جنہیں اللہ کریم پسند فرماتا ہے اور جبکہ کچھ غیرتیں وہ ہیں جنہیں وہ ناپسند فرماتا ہے۔ وہ غیرت جسے اللہ پاک پسند فرماتا ہے وہ مشکوک چیزوں میں غیرت کرناہے  اور جسے ناپسند فرماتا ہے وہ غیر مشکوک  چیزوں میں غیرت کرنا ہے۔ “

(سنن نسائی ، ص420 ، حدیث : 2555)

 اس حدیثِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان   رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں :  مومن کی بعض شرم و حیا  رب کو پیاری ہیں اس پر اسے ثواب ملے گا اور بعض غیرتیں رب تعالیٰ کو ناپسند ہیں جن سے بندہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ مزید فرماتے ہیں : غیر مرد کا گھر میں آنا اپنی بیوی کو اس سے کلام کرتے دیکھنا اس پر غیرت کھا جانا قوتِ ایمانی کی دلیل ہے اسی طرح خود اجنبی عورت سے خلوت (علیحدگی اختیار) کرنے پر غیرت کرنا کہ اس سے دوسروں کو ہم پر شبہ ہوسکتا ہے یہ غیرت خدا کی پیاری ہے۔ بلاوجہ کسی پر بدگمانی کرنا غیرت نہیں بلکہ فتنہ و فساد کی جڑ ہے ، بعض خاوندوں کو اپنی بیویوں پر بلاوجہ بدگمانی رہتی ہے جس سے ان کے گھروں میں دن رات جھگڑے رہتے ہیں یہ غیرت رب تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 5 / 143 ، 142ملتقطاً)

بعض شوہر ایسےشکی مزاج ہوتے ہیں کہ  وہ اپنے گھرمیں چُھپ کرداخل ہوتےہیں ، گھر کا دروازہ آہستہ سےکھولتےہیں تاکہ  دیکھیں کہ  بیوی گھر میں اکیلے کیا کررہی ہے ،  بلاوجہ موبائل ، میسجز ، واٹس ایپ وغیرہ چیک کریں گے ،  انجان نمبر سے اگر کال آجائے تو فوراً لڑائی کے انداز میں پوچھیں گے کہ کون ہے؟ کیوں ہے؟ تھوڑی دیر کے لئے بیوی فون نہ اٹھائےتوبھی شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، حالانکہ وہ باتھ روم میں ہوسکتی ہے ، نماز میں مصروف ہوسکتی ہے ، ایسے افراد کو سوچ سمجھ سے کام لینا چاہئے اور اگر کسی معاملے میں واقعی شک پیدا ہوتا  ہو تو باہمی رضامندی سے اس معاملے کو سلجھانا چاہئے۔

میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے! بلاوجہ کی شکی اوربدگمانی والی  طبیعت کو اپنے اندر سے نکال پھینکئے ، اپنےگھر کے سکون کواپنے ہی ہاتھوں برباد مت کیجئے۔ اللہ پاک ہمیں اپنی پسندکاغیرت مند بنائے اوربلاوجہ کےشکّی مزاج سے ہمیں اپناپیچھا چھڑانے کی توفیق عطافرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share