خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور اندھا فقیر

کہتے ہیں :ایک بار اَورنگ زَیب عالمگیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر  سلطانُ الہند خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے مزارِ پُر انوار پر حاضر ہوئے۔ احاطہ میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگارہا تھا: یا خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ! آنکھیں دے۔آپ نے اس فقیر سے دریافت کیا: بابا! کتنا عرصہ ہوا آنکھیں مانگتے ہوئے؟ بولا، برسوں گزر گئے مگر مراد پوری ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا: میں مزارِ پاک پر حاضِری دے کر تھوڑی دیر میں واپَس آتا ہوں اگر آنکھیں روشن ہوگئیں فَبِہا (یعنی بَہُت خوب) ورنہ قتل کروا دوں گا۔ یہ کہہ کر فقیر پر پہرالگا کر بادشاہ حاضِری کے لئے اندر چلے گئے۔ اُدھر فقیر پر گِریہ طاری تھا اور رو رو کر فریاد کررہا تھا: یاخواجہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ! پہلے صرف آنکھوں کا مسئلہ تھا اب تو جان پر بن گئی ہے، اگر آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے کرم نہ فرمایا تو مارا جاؤں گا۔ جب بادشاہ حاضری دے کر لوٹے تو اُس کی آنکھیں روشن ہوچکی تھیں۔ بادشاہ نے مُسکرا کر  فرمایا: کہ تم اب تک بے دِلی اور بے توجُّہی سے مانگ رہے تھے اور اب جان کے خوف سے تم نے دل کی تڑپ کے ساتھ سوال کیا تو تمہاری مُراد پوری ہوگئی۔

اب چشمِ شِفا سُوئے گنہگار ہو خواجہ         عِصیاں کے مرض نے ہے بڑا زور دکھایا

(خوفناک جادوگر اور دیگر حکایات،ص19)

Share

Articles

Comments


Security Code