اعلیٰ حضرت کی اردو،عربی اور فارسی شاعری/اعلیٰ حضرت کی بعض منفرد عادتیں/اعلیٰ حضرت کی فنِ حدیث  میں مہارت

مُلکِ سُخَن کی شاہی تم  کو رضٓا مُسَلَّم

(اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ  رب العزّت کی اردو،عربی اور فارسی شاعری)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن چودھویں صدی ہجری کے مُجدّد،بہت بڑے عالِم ا ور مفتی ہونے کے علاوہ اعلیٰ درجے کے نعت گو شاعر بھی تھے، رِوایتی  شُعرا کی طرح آپ غوروتفکُّر کرکے اور باقاعدہ اہتمام سے اشعار نہیں لکھتے تھے بلکہ جب  عشقِ رسول کے جذبات غالب آتے اور مدینۂ منورہ کی یاد ستاتی تو اپنے جذبات کو اشعار کی صورت میں بیان فرمادیتے تھے۔ (اکسیر اعظم مع مجیر معظم مترجم، ص115مفہوماً)

کلامِ رضا کا ایک حصہ نہ مل سکا :افسوس کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا سارا کلام محفوظ نہیں رہ سکا اور آپ کی حیاتِ ظاہری میں ہی کئی کلام گم ہوگئے تھے،خود فرماتے ہیں: بے زحمتِ فکر خدا جو چاہتا ہے بندہ عرض کرتا ہے، پھر اسے جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کی فکر نہیں ہوتی، بہت ایسا ہوتا ہے کہ مُتفرِّق (Different) اوراق پر لکھ ڈالتا ہوں یہاں تک کہ عربی، فارسی اور اردو منظُومات کی چار بِیاضیں گم کرچکا ہوں اور فکرِ تلاش سے آزاد ہوں کہ جو کچھ رقم ہوگیا وہ اِنْ شَآءَ اللہ العزیز اس کثیرُ السَّیِّاٰت (گناہگار) کے  نامۂ حَسَنات (نیکیوں کے رجسٹر) میں ثَبت ہوگیا، میرے اعمال سے وہ باہر جانے والا نہیں، خواہ میرے ساتھ رہے یا نہ رہے۔(اکسیر اعظم مع مجیر معظم مترجم،ص115)

چار زبانوں میں نعت: اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے اردو کے علاوہ عرَبی اور فارسی میں بھی کلام تحریر فرمائے جبکہ ایک کلام ایسا ہے جو بَیَک وقت چار زبانوں عربی، فارسی، ہندی اور اردو پر مشتمل ہے۔ مولانا سیّد ارشاد علی اور مولانا سیّد محمد شاہ ناطق کی فرمائش پر آپ نے وہیں بیٹھے بیٹھے فی البدیہہ یہ نعتِ پاک قلمبند فرمائی،اس نعت کا مَطْلَع (پہلا شعر) یہ ہے:

لَمْ یَاتِ نظیرُکَ فی نَظَرٍ مثلِ تَو نہ شُد پیدا جانا

جگ راج کو تاج تَورے سر سو ہے تجھ کو شہِ دوسرا جانا

جبکہ مقطع (آخری شعر) میں نعت کہنے کا سبب بننے والے دونوں حضرات یعنی ارشاد اور ناطق کا بھی ذکر فرمادیا:

بس خامۂ خامِ نوائے رضا، نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا

ارشادِاحبّا ناطق تھا، ناچار اس راہ پڑا جانا

(تجلیاتِ امام احمد رضا،ص93ملخصاً)

اعلٰی حضرت کا عربی کلام:اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا عربی دیوان گم ہوگیا تھا،بعد میں جامعہ ازہر مصر کے استاذ ڈاکٹر حازم محمد احمد عبدالرحیم محفوظ نے  آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے عربی قصائد، تاریخی قطعات، رُباعِیات اور مُتفرِّق اشعار مختلف کُتُب اور مَخْطوطات سے جمع کئے، جنہیں 1416ھ مطابق 1996ء میں مرکزالاولیاء( لاہور) سے”بَسَاتینُ الغُفْرانکے نام سے شائع کیا گیا۔

آپ کے عربی اشعار کی مجموعی تعداد مختلف اقوال کے مطابق 751یا 1145ہے۔(مولانا امام احمد رضا کی نعتیہ  شاعری،ص210 )

اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے عربی کلام میں سے قصیدَتان رائِعَتان مشہور ہیں جو آپ نے 1300ھ میں عالِمِ کبیرمولانا شاہ فضلِ رسول قادری بدایونی علیہ رحمۃ اللہ الغنِی کے سالانہ عرس مبارک کے  موقع پر 27 سال 5ماہ کی عمر میں پیش کئے تھے۔ اصحابِ بدر کی نسبت سے دونوں قصیدے 313 اشعار پر مشتمل ہیں۔ دونوں مبارک قصیدوں میں قراٰن و حدیث کے اشارات اور عربی امثال و محاورات  کا  خوب استعمال کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک قصیدے کا آغاز حمد و صلوٰۃ پر مشتمل ان دو اشعار سے ہوتا ہے:

اَلْحَمْدُ لِلْمُتَوَحِّدٖ                                                           بِجَلَالِہِ الْمُتَفَرِّدٖ

وَصَلَاۃُ مَوْلَانَا عَلٰی                                                    خَیْرِ الْاَنَامِ مُحَمَّدٖ

ترجمہ:تمام تعریفیں ا س تنہا ذات کے لئے جو عظمت و جلال میں مُتَفَرِّد ہے اور ہمارے مولیٰ کی رحمتِ کاملہ محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل ہو جو مخلوق میں سب سے افضل وبہتر ہیں۔(ماخوذ ازمقدمہ قصیدتان رائعتان مع ترجمہ و شرح)

اعلٰی حضرت کا فارسی کلام: اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے دستیاب فارسی کلام کا کچھ حصّہ حدائقِ بخشش میں موجود ہے جبکہ آپ کی منتخب فارسی نعتوں کا ایک مجموعہ 1994ء میں ”ارمغانِ رضا“ کے نام سے شائع کیا گیا جس میں 12 منتخب نعتیں اور ایک مثنوی ہے لیکن ابھی بہت سا فارسی کلام منتشر ہے۔(تاریخِ نعت گوئی میں امام احمد رضا کا مقام،ص21)

اِکسیرِ اعظم: اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے کلام میں حضور سیّدنا غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاَکرم کے مناقب کی بڑی تعداد شامل ہے، اُردو کی طرح آپ نے فارسی زبان میں بھی بارگاہِ غوثیت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہےجن میں سے ”اِکْسِیرِاعظم“ نامی قصیدےکو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ایک خاص موقع پر آپ نے یہ منقبت نظم فرمائی جس کا نام برادرِ اعلیٰ حضرت شہنشاہِ سُخن مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن نے ”اِکسیرِ اعظم“ رکھا، پھر اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے فارسی زبان میں ہی اس کلام کی شرح تصنیف فرمائی جس کا نام مُجِیرِ مُعظّمرکھا گیا۔ فارسی کلام اور شرح کا اردو ترجمہ ”تابِ مُنظّمکے نام سے  عُمْدَۃُ الاَذْکِیا استاذُالعلما حضرت علّامہ مولانا محمد احمد مصباحی(استاذجامعۃ الاشرفیہ مبارک پورہند) نے تحریر فرمایا جو منظرِ عام پر آچکا ہے۔اس مبارک قصیدے کا ایک شعر مع ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:

اولیا را گر گُہر باشد تو بحرِ گوہری

در بدستِ شاں زرے دادند زر راکاں توئی

ترجمہ:اولیا کے پاس اگر موتی ہے تو موتی کا سمندر تم ہو اور اگر ان کے ہاتھ میں کوئی سونا دیا گیا ہے تو سونے کی کان تم ہو۔(اکسیر اعظم مترجم ،ص136)

شریعت کی پاسداری: اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی شاعری کا سب سے نمایاں وَصْف احکامِ شریعت کی پاسداری ہے۔ ردِیف و قافیہ کی پابندیاں نبھانے کے لئے شاعر بسا اوقات خلافِ شریعت باتوں  بلکہ مَعَاذَ اللہ کُفریات میں جاپڑتے ہیں۔امامِ اہلِ سنّت کا کلام نہ صرف  شریعت  کی پابندیوں پر پورا اترنے والا بلکہ قراٰن و حدیث کی ترجمانی پر مشتمل ہے نیز آپ نے اپنے کلام میں جا بجا قراٰن و حدیث کے اقتباسات کو شامل کیا ہے۔تحدیثِ نعمت کے طور پرآپ خود فرماتے ہیں:

ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ

بیجا سے ہے اَلْمِنَّۃُ لِلّٰہِ محفوظ

قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی

یعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ

                                      (حدائقِ بخشش،ص442)

حدائقِ بخشش میں  اشعار کی تعداد:ایک قول کے مطابق حدائقِ بخشش میں2781 اشعار ہیں۔(اثر القرآن والسنۃ فی شعر الامام احمد رضا خان،ص49)

کلامِ رضا کا عربی ترجمہ :اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے اردو کلام کا عربی ترجمہ بھی ”صَفْوَۃُ الْمَدِیْح“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔(اثر القرآن والسنۃ فی شعر الامام احمد رضا خان،ص50)

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضا مسلّم: فنِ شاعری میں برادرِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الحنَّان کے استاد اور مشہور شاعر داغ دہلوی نے کسی موقع پر اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا یہ کلام دیکھا:

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسادیے ہیں

اس وقت تک اس کلام کا مقطع نہیں لکھا گیا تھا۔داغ دہلوی اس  کلام کو گُنگُنا  کر جھومتے رہے، روتے رہے اور پھر فرمایا: میں اس کلام کی فن کے اعتبار سے کیا تعریف کروں، بس میری زبان پر یہ آرہا ہے:

ملکِ سخن کی شاہی تم کو رضؔا مسلّم

جس سمت آگئے ہو سکّے بٹھادیے ہیں

چنانچہ اسی شعر کو کلام میں بطورِ مقطع شامل کرلیا گیا۔(تجلیات امام احمد رضا،ص91بتصرفٍ)

حدائقِ بخشش اور دعوتِ اسلامی:اگر یہ کہا جائے کہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن کے ترجَمۂ قراٰن کنزُالایمان کی طرح آپ کی نعتیہ شاعری کو عوامُ النّاس میں عام کرنے میں بھی  دعوتِ اسلامی کا بہت بڑا کردار ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ وقتاً فوقتاً خود بھی ”حدائقِ بخشش“ کے اشعار پڑھتے ہیں اور نعت خوانوں کو بھی اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا کلام پڑھنے کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں۔دعوتِ اسلامی کے علمی وتحقیقی شعبے”اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ“میں کام ہونے  کے بعد ”مکتبۃُ المدینہ“ سے ”حدائقِ بخشش“کی اشاعت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات  اور مدنی چینل پر”حدائقِ بخشش“ سے بھی کلام پڑھے جاتے ہیں اور یوں آج امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی نعتیہ شاعری کی دھوم دھام ہے۔

گونج گونج اٹھے ہیں نغماتِ رضا سے بوستاں

کیوں نہ ہو کس پھول کی مِدحت میں وا مِنْقَار ہے

 

Share

اعلیٰ حضرت کی اردو،عربی اور فارسی شاعری/اعلیٰ حضرت کی بعض منفرد عادتیں/اعلیٰ حضرت کی فنِ حدیث  میں مہارت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناًاوليائے کرام،بزرگانِ دین کے اخلاق وعادات کامطالعہ کرنے سے عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہےلہٰذا اعلیٰ حضرت، امامِ اہل سنّت، امام احمدرضا خان علیہِ رحمۃُ  الرَّحمٰن کی چندعاداتِ کریمانہ پیشِ خدمت  ہیں:

(1)اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ ربِّ العزت غریبوں کی دعوت قبول فرمالیتے تھے اگر وہاں آپ کے مزاج کے مطابق کھانا نہ ہوتاتو میزبان پر اس کا اظہار نہ فرماتے بلکہ خوشی خوشی تناول فرمالیتے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج1،ص 123، ملخصاً)  (2) ہمیشہ غریبوں کی امداد کرتے، انہیں کبھی خالی ہاتھ نہ لوٹاتے بلکہ آخِری وقت بھی عزیزو اقارب کو وصیّت فرمائی کہ غُرَباکاخاص خیال رکھنا،اُن کو خاطِرداری  سے اچھے اچھے اور لذیذ کھانے اپنے گھر سے کِھلایا کرنا اور کسی غریب کو مُطْلق نہ جِھڑکنا۔(تذکرۂ امام احمدرضا، ص 14) (3) کارڈ یا کھلے خط میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یا آیتِ کریمہ یا اسمِ جلالت ’’ اللہ ‘‘ یا   نامِ  اقدس’’محمد‘‘ىا درود شریف بخیالِ بےحرمتی لکھنے سے منع فرماتے۔ اعدادِ ’’بسم اللہ‘‘ دائیں طرف سے لکھتے۔ (4)محفلِ مِیلاد شریف میں شروع سے آخِر تک اَدَباً دو زانو بیٹھے رہتے، فقط صلوٰۃ و سلام پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے۔ یوں ہی وَعظ فرماتےاور چار پانچ گھنٹے تک  کامل دو زانو ہی مِنبر شریف پر رہتے۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت،ج1،ص98) (5)آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہکا سونے  کا انداز بھی انوکھا تھا، عام لوگوں کی طرح نہ سوتے بلکہ سوتے وَقت ہاتھ کے اَنگوٹھے کو شہادت کی اُنگلی پر رکھ لیتے تاکہ اُنگلیوں سے لفظ ’’اللّٰہ‘‘بن جائے اور  پاؤں پھیلا کر کبھی نہ سوتے بلکہ دا  ہنی (یعنی سیدھی) کروٹ لیٹ کر دونوں ہاتھوں کو ملا کر سر کے نیچے رکھ لیتے اور پاؤں مبارَک سمیٹ لیتے، اِس طرح جسم سے لفظ ’’محمّد‘‘ بن جاتا۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت ،ج1،ص 99 مفہوماً)

نامِ خدا ہے ہاتھ میں، نامِ نبی ہے  ذات میں

مہرِ غلامی ہے پڑی ،لکھے ہوئے ہیں   نام  دو

کاش! ہم غلامانِ اعلیٰ حضرت کو بھی آپ کی ان مبارک اداؤں پر عمل کی سعادت نصیب ہو جائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 

 

 

Share

اعلیٰ حضرت کی اردو،عربی اور فارسی شاعری/اعلیٰ حضرت کی بعض منفرد عادتیں/اعلیٰ حضرت کی فنِ حدیث  میں مہارت

علمِ حدیث میں کسی ہستی کے مقام و مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لئے مُحَدِّثِیْن نے مختلف القابات ذکر کئے ہیں، مثلاً حافظ، حُجَّت، مُسْنَد، وغیرہ، جب کسی کے انتہائی بلند درجے کو ظاہر کرنا ہو تو علما اس کے لئے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن فِی الْحَدِیْث کا لقب ذکر کرتے ہیں، اَسلاف (بزرگوں) میں کئی ایسے محدِّثین گزرے ہیں جن کو اس لقب سے پکارا گیا۔ حافظ حسن بن محمد البکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس موضوع پر ایک کتاب تصنیف فرمائی ہے:”اَلتَّبْيِيْنُ لِذِكْرِ مَنْ تسَمّٰى بِاَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ“ اس کتاب میں اُن محدثین اور فقہائے کرام کا تذکرہ کیا ہے جن کو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن فِی الْحَدِیْث یا امیرُ المؤمنین فی الفقہ قرار دیا گیا ۔

اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن فِی الْحَدِیْث کا معنی ہے وہ ہستی جو اپنے زمانہ کے تمام علما پر اس علم میں فوقِیت رکھتی ہو۔ حضرت سیّدنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے امام شُعبہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن فِی الْحَدِیْث کا لقب دیا، اس لقب کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:يعني فَوقَ العُلماء في زَمانِه یعنی سیّدنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مقصود یہ ہے کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے زمانہ کے علما پر فائق ہیں۔(مقدمۃ كتاب الجرح والتعديل،ج1،ص126)

اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلِ سنّت، اِمام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن جس طرح دیگر کئی علوم میں اپنی نظیر آپ تھے یونہی فنِ حدیث میں بھی اپنے زمانہ کے علما پر آپ کو ایسی فوقیت حاصل تھی کہ آپ کے زمانہ کے عظیم عالم، 40سال تک درسِ حدیث دینے والے  شیخُ المحدثین حضرت علّامہ وصی احمد سُورَتی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ  نے آپ کو اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن فِی الْحَدِیْث کا لقب دیا۔ (ماہنامہ المیزان ، بمبئی، امام احمد رضا نمبر ، اپریل، مئی ، جون 1976ء ص247)

فنِ حدیث پر امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت آپ کی عظیم تصنیف ”مُنِیرُ العَین“ ہے اس کتاب کو امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت نے فقط 29 سال کی عمر میں تحریر فرمایا۔ جب اس کا عربی ترجمہ ہوا اور مصر و شام کے علما نے اس کتاب کو دیکھا تو حد درجہ متأثر ہوئے اور گراں قدر تأثرات اس پر تحریر فرمائے۔(ماہنامہ اشرفیہ مبارکپور ، ص 12،نومبر 2014ملخصاً)

آپ کے شاگردِ رشید، ملِکُ العلماحضرتِ علامہ سیّد ظفر الدّین بہاری علیہ رحمۃ اللہ البارِی نے فِقہ حنفی کے مسائل کے دلائل پر ایک کتاب صحیحُ البِہَاری تحریر فرمائی، جس کی صرف ایک جلد کم و بیش 10ہزار احادیثِ کریمہ پر مشتمل ہے، اس  کے مقدمہ میں امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت سے حدیث کے جو فوائد آپ نے حاصل کئے تھے انہیں ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: وَهٰذَا نَهْرٌ أَصْغَرُ مِنَ الْبَحْرِ الاَكْبَرِ مِنْ بِحَارِ عُلُوْمِ سَيِّدِيْ وَشَيْخِيْ نَفَعْنَا بِبَرَكَاتِهٖ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ  یعنی یہ میرے سردار و شیخ کے علوم کے سمندروں سے ایک بڑے سمندر کی چھوٹی سی نہر ہے، اللہ  عَزَّوَجَلَّ ہمیں ان کی برکتیں دنیا اور آخرت میں عطا فرمائے۔

100سے زائد کتب کے مصنف، عظیم محدّث حضرتِ علّامہ حافظ سیّد عبدُالحی الکتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی معروف تصنیف فھرسُ الفھارس میں امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کے یہ القابات ذکر کئے ہیں: الفقيهُ المُسْنَدُ الصوفي الشَّهاب (فہرس الفہارس والأثبات،ج1،ص 86) ان القابات سے حافظ کتانی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا بلند مقام واضح ہوتا ہے کہ امامِ اہلِ سنّت فقہ و حدیث کے بھی امام ہیں اور صاحبِ عمل صوفی بھی ہیں۔

انتہائی اختصار کے ساتھ کچھ باتیں ذکر کی گئی ہیں ورنہ امامِ اہلِ سنّت علیہ رحمۃ ربِّ العزّت کا فنِ حدیث میں مقام ومہارت بیان کرنے کے لئے ضخیم جلدیں درکار ہیں۔

Share

اعلیٰ حضرت کی اردو،عربی اور فارسی شاعری/اعلیٰ حضرت کی بعض منفرد عادتیں/اعلیٰ حضرت کی فنِ حدیث  میں مہارت

مُجَدِّد الفِ ثانی اور مجدد دین و ملت

حضرت سیدنا شیخ احمد سرہِندی فاروقی نقشبندی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی ولادت ہند کے مقام ”سرہِنْد“ میں 971ھ ،1563ء کو ہوئی اور 28صفر المظفر  1034ھ مطابق 1624ء کو  اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔(ماخوذ از تذکرۂ مجدد الفِ ثانی،ص2۔38۔39)اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ  الرَّحمٰن  کی ولادتِ با سعادت بریلی ہند کےمحلّہ”جسولی“ میں  10 شوال المکرّم  1272ھ  مطابق 14 جون 1856ء میں ہوئی اور 25 صفر المظفّر  1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔(ماخوذ از حیاتِ اعلی حضرت ،ج1،ص58۔ج3،ص295) یہ دونوں  بزرگ اپنے  اپنے زمانے کے  مجدد اور عظیم  مذہبی و روحانی پیشوا تھے۔اِن دونوں بزرگوں کی مبارک زندگیوں کے بعض گوشوں میں یکسانِیت نظر آتی ہے جن میں سے چند یہ ہے: (1)دونوں بزرگوں کا نام احمد ہے۔ (2)دونوں نے اپنے اپنے والد سے علمِ دین حاصل کیا۔ (3)دونوں حضرات کی تمام عُمْر اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنوں کی سَرکوبی میں بسَر ہوئی اور کبھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا (4)دونوں کا وِصال  صَفَرُ الْمُظَفَّر میں ہوا۔

اللّٰہ تعالٰی کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 

 

Share