مسجد کو مدرسہ بنانا/ مسجد کے صحن میں وضو خانہ وغیرہ بنانا کیسا؟

مسجد کے صحن میں وضو خانہ وغیرہ بنانا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے بارے میں کہ ایک علاقے میں ایک جامع مسجد ہے، جو کئی سالوں سے آباد ہے، اس کے صحن میں جہاں پہلے نماز بھی پڑھی جاتی تھی نئی تعمیر میں بیتُ الخلاء اور وضو خانہ بنا دیا گیا ہے، شرعی راہنمائی درکار ہے کہ

(1)کیا صحنِ مسجد جو عینِ مسجد ہے، اس میں نئی تعمیر کے دوران وضوخانہ یا بیتُ الخلاء بنانا جائز ہے؟

(2)اگر ناجائز ہے تو کیا اب اس کو ختم کرنا لازم ہے؟

(3)اس وضو خانے اور بیتُ الخلاء بنانے کی مکمل رقم مسجد انتظامیہ نے مسجد کے چندے سے استعمال کی ہے، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1)صورتِ مذکورہ میں مسجد کے صحن میں وضوخانہ اور بیتُ الخلاء بنانا، ناجائز وحرام اور مسجد کی سخت بے ادبی ہے کہ مسجد کی جو جگہ ایک مرتبہ نماز پڑھنے کے لئے متعین ہوچکی وہاں کچھ اور بناکر اسے ذکر و نماز سے خالی کرکے ویران کر دینا ظلمِ عظیم اور وقف کو غیر مصرف میں استعمال کرنا ہے اور پھر وضو خانہ اور بیتُ الخلاء بنانے میں تو مسجد کی سخت بےحرمتی بھی ہے۔

(2-3)صحنِ مسجد میں جو وضو خانہ اور بیتُ الخلاء بنائے گئے اب لازم ہے کہ ان کوختم کرکے پہلے کی طرح وہاں نماز کی جگہ بنائی جائے اورجنہوں نے یہ سب ناجائز تعمیر کروائی، اب اس کو ختم کرکے اپنے ذاتی مال سے مسجد کے صحن کو پہلے کی طرح کروائیں، اور اس ملبہ میں سے جو اجزا (مثلاً اینٹیں، C، Wوغیرہ) قابلِ استعمال ہوں ان کو نئی تعمیر میں صرف کریں، اور جو اشیاء قابلِ استعمال نہ رہیں ان کا تاوان، نیز پہلی تعمیر میں سیمنٹ، ریت اور مزدوری وغیرہ کی مَد میں مسجد کا جتنا چندہ صرف کیا تھا، وہ تمام مسجد کو اپنی طرف سے ادا کریں، اور ان پر لازم ہے کہ اس گناہ سے توبہ بھی کریں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مسجد کو مدرسہ بنانا

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک چھوٹی مسجد ہے یہ مسجد نمازیوں پر تنگ پڑ رہی ہے تو اس مسجد سے تھوڑا دورایک شخص اپنی ذاتی زمین مسجد بنانے کے لئے دینے کو تیار ہے وہ جگہ مسجد کے لئے کافی ہے بلکہ زیادہ ہے تو کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں کہ پہلی مسجد کو مدرسہ بنا دیں اور مکمل مسجد اس نئی جگہ پر ہی بنا لیں؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پہلی مسجد کو مدرسہ کرنا ناجائز و حرام ہوگا کہ جو جگہ مسجد ہوچکی وہ ہمیشہ مسجد کے لئے ہی باقی رکھنا لازم ہے اور اسے مدرسہ قرار دینے میں کوشش کرنا مسجد کی ویرانی میں کوشش کرنا ہے اور مسجد کی ویرانی میں کوشش کرنے والوں کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں بڑے عذاب کی وعید شدید ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴)تَرجَمۂ کنز الایمان:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہکی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔ (پ1،البقرۃ:114)

جو جگہ جس مقصد کے لئے وقف کی گئی ہے اس کو اسی پر رکھا جائے گا اس میں تبدیلی کرنا ناجائز و حرام ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:”لا یجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكاناترجمہ:وقف کو اس کی ہیئت سے بدلنا جائز نہیں لہٰذا گھر کو باغ، سرائے کو حمام اور (گھوڑے باندھنے کی جگہ) کو دکان نہیں بنایا جائے گا۔(فتاویٰ ہندیہ،ج2،ص490) فتح القدیر، نھرالفائق اور ردالمحتار میں ہے (واللفظ للاول) الواجب ابقاء الوقف على ما كان عليه ترجمہ:وقف کو اس کی سابقہ حالت پر باقی رکھناواجب ہے۔(فتح القدیر،ج 6،ص228) فتاویٰ رضویہ میں ہے:”ایک وقف جس غرض کے لئے وقف کیا گیا ہے اُسی پر رکھا جائے، اُس میں تو تغیر (تبدیلی) نہ ہو مگر ہیئت بدل دی جائے مثلاً دکان کو رباط (اصطبل) کردیں یا رباط کو دکان، یہ حرام ہے... نہ کہ سرے سے موقوف علیہ بدل دیا جائے، متعلقِ مسجد کو مدرسہ میں شامل کرلیا جائے یہ حرام ہے اور سخت حرام ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،ج16،ص232،231ملتقطاً)

پہلی مسجد اگر ناکافی ہو رہی ہے تو اسے آباد رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسری جگہ بھی مسجد بنالی جائے کوئی حرج نہیں لیکن پہلی کو ویران کرنا حرام ہے۔ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امامِ اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا:”مسجد جب تک مسجد ہے قرآنِ عظیم کی نصِ قطعی، ہمارے ائمۂ کرام کے اجماع سے اسے ویران کرنا سخت حرام و کبیرہ(گناہ) ہے۔۔۔ ہمارے ائمۂ کرام نے بلا خلاف تصریح فرمائی کہ مسجد اگر تنگی کرے اور اس کے قریب اگر کسی شخص کی زمین ہو اور وہ دینے پر راضی نہ ہو تو بحکمِ سلطان بے اس کی مرضی کے لے کر مسجد میں داخل کرلی جائے اور مالک کو بازار کے بھاؤ سے قیمت دے دی جائے کما نص علیہ فی البزازیۃ والفتح والبحر والدر وغیرہا (جیسا کہ اس پر بزازیہ، فتح، بحر اور در وغیرہ میں نص فرمائی گئی) اگر تنگی کی وجہ سے یہ مسجد ویران کرکے دوسری جگہ بنالینا جائز ہوتا تو جبر ہرگز حلال نہ ہوتا اور وہ صورت کہ سوال میں فرض کی گئی اس کی بنا خود ہی متزلزل ہے جب وہ دوسری مسجد اس سے بڑی بنا سکتے ہیں اگرچہ اس میں اس کے عملے سے بھی مدد لینا چاہتے ہیں تو مہربانی فرماکر بڑی نہیں ایک چھوٹی مسجد دوسری بنالیں کہ دونوں مسجدیں مل کر حاجت پوری کردیں، کس نے واجب کیا ہے کہ سب ایک ہی مسجد میں نماز پڑھیں، غرض جو اللہ سے ڈرے اور اس کی حرمتوں کی تعظیم کرے اللہ اس کے لئے آسانی کی راہ نکال دیتا ہے اور جو بے پروائی کرے تو اللہ تمام جہان سے بےپروا ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،ج16،ص401)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

وضاحت

”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ رمضان المبارک1440ھ کے شمارے میں صفحہ18پر سلسلہ دارالافتاء اہلِ سنّت(”فدیہ کون دے سکتا ہے؟“) کے تعلق سے لکھے گئے جواب میں دوسرے کالم کی لائن نمبر6 یوں تھی ”عمر یا مرض کی نوعیت ایسی ہو کہ ظن غالب ہو کہ آئندہ صحت یاب ہو کر روزہ رکھنے کی ہمت نہیں ملے گی تو اس کیفیت پر پہنچے شخص کو شیخ فانی کہتے ہیں“اس لائن میں لفظ ”مرض“ غلطی سے لکھا گیا اس عبارت کو یوں پڑھا جائے۔ ”یہاں تک کہ بڑھاپے میں پہنچ کر ایسی کیفیت ہو جائے کہ روزہ رکھنے کی سکت نہ رہے کہ نہ اب روزہ رکھ سکتا ہے نہ آئندہ روزہ رکھنے کی امید ہوتو اس کیفیت پر پہنچے شخص کو شیخِ فانی کہتے ہیں“

مفتی علی اصغر عطاری مدنی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭۔۔۔دارالافتاءاہل سنّت،مرکزالاولیاء لاہور

Share