حضرت زبیر بن عوام کا ذریعۂ معاش

مختصر تعارف حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ زبیر بن عوَّامرضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پھوپھی جان حضرت سیّدَتُنا صفیّہ کے صاحبزادے، اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا خدیجہ کے بھتیجے اور حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رضوان اللہ علیہم کے داماد ہیں۔ اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے یا پانچویں فرد اور عشَرہ مبشّرہ یعنی ان دس خوش نصیب صحابہ میں سے ہیں جن کو حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک ساتھ جنّتی ہونے کی خوشخبری سُنائی۔ 11جُمادَی الاُخریٰ 36ھ کو آپ جنگ سے واپس تشریف لے جارہے تھے کہ عَمرو بن جُرْمُوز نامی ایک شخص نے بمقام سَفَوان آپ کو دھوکا دے کر شہید کردیا۔ وقتِ شہادت آپ کی عمر شریف 64 برس تھی۔ مزار مبارک مدینۃُ الزبیر (صوبہ بصرہ) عراق میں ہے۔[1] ذریعۂ مَعاش آپ جزّار تھے یعنی گوشت کا کام کرتے تھے۔ [2] عہدِ فاروقی میں مدینۂ منورہ کے بازار بقیع  میں صرف ایک ہی مذبح خانہ تھا جو حضرت سیِّدُنا زبیررضی اللہ عنہ کی ملکیت میں تھا جس سے لوگ گوشت خریدتے تھے۔[3] آپ کے صاحبزادے اور   تابِعی بُزرگ حضرت سیِّدُنا عُرْوَہ رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا زُبیر رضی اللہ عنہ کی مِصر، اِسْکَنْدَرِیّہ اور کُوفہ میں زمینیں تھیں اور بصرہ میں گھر تھے (جن سے آپ کو آمدنی آتی تھی) نیز مدینے کی بستیوں سے بھی آپ کو آمدنی حاصل ہوتی تھی۔[4] آپ کے شہزادے حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا زبیر رضی اللہ عنہ نے وِراثت میں زمینیں چھوڑی تھیں جن میں سے ایک غابَہ میں تھی، مدینے میں گیارہ گھر چھوڑے تھے، بصرہ میں دو گھر، کوفہ میں ایک گھر اور ایک گھر مصر میں چھوڑا تھا۔[5] تجارت میں کامیابی کا راز حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوَّام رضی اللہ عنہ کامیاب تاجر تھے، ایک بار آپ سے تجارت میں کامیابی کا راز پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا: میں نے کبھی عیب والی چیز نہیں خریدی اور کم نَفْع کو کبھی رَد نہیں کیا اور ویسے بھی اللہ پاک جسے چاہے بَرَکت سے نواز دیتا ہے۔[6] صدقہ و خیرات حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوَّام رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار غلام تھے جو لوگوں سے زمینوں کی آمدنی وُصول کرکے آپ تک پہنچایا کرتے تھے (جب وہ آمدنی آتی تو) آپ ساری رات اسے تقسیم کرنے میں گزار دیتے پھر جب گھر کو لوٹتے تو اس آمدنی سے کچھ بھی آپ کے پاس نہ ہوتا تھا۔[7] ٭ایک بار اپنا ایک گھر6لاکھ میں فروخت کیا تو آپ سے عرض کی گئی: حضور! آپ کو تو (اس سودے میں) دھوکا ہوا! ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں، خدا کی قسم! تم جان لوگے کہ میں نے نقصان نہیں اُٹھایا کیونکہ میں نے یہ مال راہِ خدا میں دے دیا ہے۔[8] دیانت داری حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوّامرضی اللہ عنہ بہت زیادہ قابلِ اعتماد اور دیانت دار تھے اور یہی وجہ تھی کہ سات جلیلُ القدر صحابۂ کرام جن میں حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی، حضرت سیِّدُنا مِقداد، حضرت سیِّدُنا عبدالرّحمٰن بن عَوف اور حضرت سیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رضوان اللہ علیہم بھی شامل ہیں، نے اپنے بعد اپنی اولاد کے متعلق آپ کو وصیت کی۔ چنانچہ آپ ان حضرات کی اولاد پر اپنے مال سے خرچ کیا کرتے تھے جبکہ ان کے اموال حفاظت سے رکھتے تھے۔[9]

اللہ کریم ہمیں حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭… ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی



1۔۔۔ کرامات صحابہ، ص 120، 121، تہذیب الاسماء واللغات،ج 1،ص192،سیراعلام النبلاء،ج 3،ص26

2۔۔۔ سیرۃ حلبیہ،ج1،ص396

3۔۔۔ مناقب امیر المؤمنین  الخ، ص60

4۔۔۔ طبقات ابن سعد،ج 3،ص81

5۔۔۔ بخاری،ج 2،ص351، حدیث: 3129 ملتقطاً

6۔۔۔الریاض النضرہ، جز4،ج 2،ص286

7۔۔۔ حلیۃ الاولیاء،ج 1،ص133، رقم:284

8۔۔۔ عمدۃ القاری،ج10،ص 464،تحت الحدیث: 3129

9۔۔۔ تاریخ ابن عساکر،ج18،ص 397۔

Share