صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ  کا  ذریعۂ معاش

خلیفۂ اوّل حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ عنہ وہ عظیم صحابیِ رسول ہیں جنہوں نے مَردوں میں سب سے پہلے تاجدارِ رِسالت،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رِسالت کی تصدیق کی اور اِس قدَر جامِعُ الکَمالات اور مَجْمَعُ الفَضائِل ہیں کہ انبیائےکِرام علیہ الصّلوٰۃ والسَّلام کے بعد اگلے اور پچھلے تمام انسانوں میں سب سے افضل واعلیٰ ہیں۔ ذریعۂ معاش حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ عنہ خلیفہ بننے سے پہلے کپڑے کی تجارت کرتے تھے(حدیقہ ندیہ،ج1،ص222) اور ابنِ ماجہ وغیرہ کے مطابق آپ نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکےوِصال کے سال سے پہلےتجارت کے لئے (ملک ِشام کے شہر) بُصرٰی کی جانب سفر کیا تھا۔(ابن ماجہ،ج 4،ص211، حدیث: 3719)خلیفہ بننے کے بعدبیتُ المال سے وظیفہ حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ عنہجب خلیفہ بنے تو صبح کو اپنے کندھوں پر کپڑوں کی گٹھڑی رکھ کر بازار کی طرف تجارت کےلئے نکلے، راستے میں آپ کی ملاقات حضرتِ سیِّدُناعمر اور حضرتِ سیِّدُنا ابو عُبیدہ بن جرّاحرضی اللہ عنہُماسے ہوئی، انہوں نے پوچھا: آپ کہاں جارہے ہیں؟ارشاد فرمایا: بازار ،انہوں نے کہا: یہ آپ کیا کررہے ہیں؟حالانکہ آپ کو مسلمانوں کے معاملات کا والی بنا دیا گیا ہے۔حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:پھر میں اپنے گھر والوں کو کہاں سے کھلاؤں گا؟ ان دونوں نے کہا:ہم آپ کیلئے وظیفہ مقرّر کردیں گے، چنانچہ صحابۂ کرامعلیہِمُ الرِّضوان نے آپ کیلئے ہر روز آدھی بکری کا تقرّر کیا۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص137)یومیہ اور سالانہ وظیفہ آپ کا بیتُ المال سے یومیہ وظیفہ ایک پوری بکری تھا(پہلے پہل آدھی بکری تھا بعد میں بڑھا کر پوری بکری کردیا گیاتھا) اور آپ کا طریقۂ کار یہ تھا کہ روزانہ صبح شام اپنی مجلس کےحاضرین کو دو پھیلے ہوئے بڑے پیالے کھانا کھلاتے تھے۔ (عمدۃ القاری،ج 8،ص 328،تحت الحدیث:2070)آپ کا سالانہ وظیفہ 300 دینار تھا۔ (الریاض النضرۃ،ج1،ص255) نیز آپ کے وظیفے میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ آپ کے لئے دو چادریں ہوں،جب وہ پرانی ہوجائیں تو آپ ان کی مثل اور دو چادریں لے لیں اور سفر کے لئے سواری کا جانور ہواور آپ کے گھر والوں کو اتنا خرچ دیا جائے جتنا خلیفہ بننے سے پہلےآپ ان پر خرچ کرتے تھے۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص137) بیتُ المال سے لیا ہوا مال واپس کردیا حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ عنہ کے وِصال کا وقت جب قریب آیا تواس خرچے کا حساب لگایا گیا جو آپ نے بیت المال سے لیا تھا اورجتنا خرچ لیا تھا اس سے زیادہ مال بیت المال میں جمع کروا دیا۔(عمدۃ القاری،ج 8،ص 328، تحت الحدیث:2070) صدیقِ اکبر کی وصیّت اُمّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبررضی اللہ عنہ جب مرضُ الموت میں مبتلا ہوئے تو آپ نے یہ وصیّت فرمائی کہ میرے خلیفہ بننے کے وقت سے میرے مال میں جس قدر اضافہ ہوا ہے اسے میرے بعد والے خلیفہ کے پاس بھیج دینا، چنانچہ آپ کے وصال کے بعدہم نے غور کیا تو(اضافہ شدہ مال میں) ایک غلام تھا جو بچّوں کو اٹھاتا تھا اور ایک اونٹ تھا جس سے باغ میں پانی دیا جاتا تھا،ہم نے وہ دونوں امیرُالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمررضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے تو حضرتِ سیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:ابو بکر پر اللہ کی رحمت ہو،انہوں نے اپنے بعد والوں کو مَشقّت میں ڈال دیا ہے۔

(عمدۃ القاری،ج 8،ص328، تحت الحدیث:2070)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ ،باب المدینہ کراچی

Share