عیدکا دن کونسا؟/ سستی اور تنگ دلی سے بچنا/شیطان عید کے دن چلاچلا کر روتا ہے

(1)ارشادِ امیرالمؤمنین سیّدنا علی المرتضیٰ کرَّم اللہُ تعالٰی وجھَہُ الکرِیم:(عید کے دن فرمایا) ہر وہ دن جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہ کی جائے ہمارے لئے عید کا دن ہے۔(قوت القلوب،ج2،ص38)

(2)ارشادِ سَیِّدُنا ابوحازم رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:دُنیا میں جو زندگی گزر چکی ہے وہ خواب کی طرح ہےاورجو باقی ہے وہ تمنائیں ہیں۔(الثقات لابن حبان،ج3،ص250)

(3)ارشادِ سَیِّدُنا امام محمد بن علی باقر علیہِ رحمۃُ اللہِ الغافِر:”اے بیٹے! سستی اور تنگ دلی سے بچنا کیونکہ یہ ہر برائی کی چابی ہیں کہ  اگر سستی کا شکار ہوگے تو حق ادا نہیں کر پاؤ گے اور اگر تنگ دلی کا شکار ہوگے تو حق پر صبر نہیں کر سکو گے۔“(حلیۃ الاولیاء،ج 3،ص 214)

(4)ارشادِ سَیِّدُنا خیثمہ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:شیطان اس وقت تک انسان پر غالب نہیں آسکتا جب تک انسان یہ تین کام نہ کرے:(1)غیر کا مال ہتھیا لینا (2)غیر کا حق روک لینا اور (3)مال کو غیر حق میں خرچ کرنا۔ (حلیۃ الاولیاء،ج4،ص126)

(5)ارشادِ سَیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی:’’اگر وہ کام نہ ہورہا ہو جس کا تم ارادہ رکھتے ہوتوجو کام ہورہا ہواس کا ارادہ کرلو۔‘‘(صفۃ الصفوة - ابن الجوزی،ج3،ص198)

(6)ارشادِ سَیِّدُنا ابراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی:اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سےبڑا گناہ یہ ہے کہ بندہ وہ ظاہرکرےجس پر اللہ عزَّوَجَلَّ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔(صفۃ الصفوة،ج3،ص58)

 (7)ارشادِ سَیِّدُنا شبیل بن عوف رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:جس نے کسی برائی کو سن کرپھیلا دیا  وہ اسی شخص کی طرح ہے جس نے برائی کی ابتدا کی۔(موسوعہ لابن ابی الدنيا، الصمت ،ج7،ص172)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا  وہب بن منبہ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ: جب بھی عِیْد آتی ہے، شیطان چِلّا چِلّا کر روتا ہے ۔(اِس کی بَدحواسی دیکھ کر) تمام شیاطین اُس کے گِرد جمع ہوکر پُوچھتے ہیں،اے آقا!آپ کیوں غَضَبناک اور اُداس ہیں؟ وہ کہتا ہے ، ہائے افسوس! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آج کے دِن اُمّتِ مُحمّد صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کو بَخش دیا ہے۔لہٰذا تم اِنہیں لذَّات اور نَفْسانی خواہِشات میں مشغُول کردو۔(مکاشفۃ القلوب،ص308)

 (9)ارشادِ سَیِّدُنا  ابو عبیدہ رحمۃُ اللہِ تعالٰی علیہ:جب تک بندے کا دل ذکرکرتا رہے وہ نماز میں ہےاگرچہ وہ بازار میں ہو اوراگر اس کے ساتھ ہونٹ بھی حرکت کر رہے ہوں تو یہ اور اچھا ہے۔(حلیۃ الاولیاء، ج4،ص227)

(10)ارشادِ سَیِّدُنا  میمون بن مہران علیہِ رحمۃُ المَنَّان:عالِم اور جاہل دونوں سے  بحث ومباحثہ نہ کرو کیونکہ اگر عالم سے کروگے تو وہ اپنا علم تم سے روک لے گا اور جاہل سے کروگے تو وہ تم پر غصہ ہو گا۔( نضرة  النعیم،ج9،ص4384)

(11)ارشادِسیّدنا غوثِ اعظم علیہِ رحمۃُ اللہِ الاَکرَم:لوگ کہہ رہے ہیں:”کل عید ہے! کل عید ہے!“ اور سب خوش ہیں لیکن میں تو جِس دِن اِس دنیا سے اپنا اِیمان سلامت لے کر گیا، میرے لئے تو وُہی دِن عِید ہوگا ۔(فیضانِ رمضان،ص309)

Share

Articles

Comments


Security Code