بزرگانِ دین کے فرامین

]حضرت سیِّدنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ [

مومن کسی سے ملتا ہے توحصولِ علم کے لئے، خاموش رہتا ہے تو سلامتی کے لئے،بولتاہے تو سمجھانے کے لئے اور تنہائی اختیار کرتا ہے توسکون کے لئے۔(سیر اعلام للذہبی،ج5،ص448)

] حضرت سیِّدنا میمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ[

جوبارگاہِ الٰہی میں اپنامرتبہ جاننا چاہے وہ اپنے اعمال کو دیکھے کہ وہ جیسے اعمال کرتاہے ویسا ہی مرتبہ ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج 4،ص87)

]حضرت سیِّدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ[

آپ نقل فرماتے ہیں:اللہ عزوجل جسے اچھی صورت اور اچھے منصب سے نوازے پھر وہاللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کرے تو وہ اُس کا مخلص بندہ ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ،ج8،ص223)

]حضرت سیِّدنا امام حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ[

 جوشخص آپ کے سامنے کسی کی چغلی کھاتا ہے تو وہ آپ کی بھی چغلی کھائے گا۔(الزواجر،ج2،ص47)

]حضرت سیِّدنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ [

فرائض کو ادا کرنا اور حرام سے بچنا افضل عبادت ہے۔  (سیرت ابن جوزی،ص234)

] حضرت سیِّدنا نَجِیح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ[

  خوفِ خدارکھ کر بولنے والا  خوفِ خدا کے سبب خاموش رہنے والے سے بہتر ہے۔(الزھدلابن حنبل،ص136)

Share

Articles

Comments


Security Code