بھلائی کا حکم دو/مخلص کون/راحت پانے کا نسخہ

بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِینکے انمول فرامین جن میں علم وحکمت کے خزانے چُھپےہوتے ہیں ،ثواب کی نیت سے انہیں  زیادہ سے زیادہ عام کیجئے۔

 (1)ارشادِ صدّیقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:اے لوگو!بھلائی کا حکم دو،بُرائی سے منع کرو، تمہاری زندَگی بخیرگزرے گی۔ (تفسیرِ کبیر،ج3، ص316)

(2)ارشادِرَبیع بن خُثَیْم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم :لوگ دوسروں کے گناہوں پر تو اللہعَزَّ  وَجَلَّ کا خوف کرتے ہیں مگر اپنے گناہوں سےبے خوف رہتے ہیں۔(طبقات ابن سعد،ج6، ص222)

(3)ارشادِابومسلم خَولانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی :اے آدمی! گناہ چھوڑنا،تَوبہ کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔(الزھد لاحمد بن حنبل،ص388)

(4)ارشادِحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی:جو اپنی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے، اسے دنیا ملتی ہے نہ آخرت۔(الزھد لاحمد بن حنبل،ص269)

(5)ارشادِمُطَرِّف بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:بہترین بندہ وہ ہےجو بہت زیادہ صبر و شکر والا ہےکہ جب اسے کچھ ملے تو شکر کرے،مصیبت آئے تو صبر کرے۔(الزھد لاحمد بن حنبل،ص253)

(6)ارشادِ خُلَیْد بن عبداللہ عصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی:ہر چیزکی زینت ہوتی ہے اور مسجدوں کی زینت وہ لوگ ہیں جو ذکرُ اللہپر ایک دوسرے کی مدد کرتےہیں۔(الزھد لاحمد بن حنبل،ص 250)

(7)ارشادِمُسلم بن یَسَار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفَّار:جولباس پہن کر تُو خود کو افضل گمان کرے وہ تیرا بُرا لباس ہے۔( الزھد لاحمدبن حنبل،ص259)

(8)ارشادِعامربن عبدِقَیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:اپنے معاملات اللہعَزَّ  وَجَلَّ کے حوالےکر دو، راحت پا لو گے۔(الزھد لاحمد بن حنبل،ص239)

(9)ارشادِ بکربن عبد اللہ مُزَنِّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی:کوئی شخص متقی نہیں ہو سکتا جب تک وہ غصے اورلالچ سے نہ بچے۔(مصنف ابن ابی شیبہ،ج8، ص285)

(10)ارشادِمحمدبن سِیْرِیْن عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِین:بیداری میں اللہعَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرتے رہو،خواب تمہیں نقصان نہیں پہنچا ئیں گے۔(حلیۃ الاولیاء،ج2، ص309)

(11)ارشادِحُمَید بن ہلال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:بازار میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے کی مثال سُوکھے درختوں میں سرسبزو شاداب درخت کی مانند ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج2، ص286)

(12)ارشادِعلاء بن زیادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:عورت کی چادر پر بھی نظر نہ ڈالو کیونکہ نظر دل میں شہوت پیدا کرتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء ،ج2، ص277)

(13)ارشادِذُوالنُّون مِصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی :کسی نے پوچھا:آ دَمی کوکس طرح معلوم ہوکہ وہ مُخلص ہے؟ فرمایا: جب وہ اعمالِ صالحہ(یعنی نیکیوں)میں پوری کوشش صَرف کر دینے کے باوُجوداس بات کو پسند کرے کہ میں مُعَزَّز(یعنی عزّت والا) نہ سمجھا  جاؤں۔ (تنبیہ المغترین،ص23)

(14)ارشادِ حارِث مُحَاسِبِیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی: غیبت سے بچ! بے شک وہ ایساعجیب شر(یعنی برائی)ہے جسے انسان خود آگے بڑھ کرحاصل کرتاہے۔ (عُیونُ الْحِکایات،ص381)

Share

Articles

Comments


Security Code