بچوں سے زیادہ مذاق نہ کریں/چغل خوری سے بچنا/گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا

(1)ارشادِ سَیِّدُنا سلیمان بن داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِما الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام: جھگڑے سے بچنا! کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ بھائیوں کے درمیان دشمنی کو بھڑکاتا ہے۔)تاریخ دمشق، ج22، ص286)

(2)ارشادِ سَیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِما الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام: اے بیٹے!چُغلخوری سے بچنا!کیونکہ یہ تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے۔(الزھد لاحمد بن حنبل، ص 124، رقم: 467)

(3)ارشادِ سَیِّدُنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: اِس بات سے ڈرو کہ مؤمنین کے دل تم سے نفرت کرنے لگیں اور تمہیں اس کا شُعُور (پتا) بھی نہ ہو۔(الزھد لابی داؤد، ص205، رقم:229)

(4)ارشادِ سَیِّدُنا امام زین العابدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ: (عبادت میں لوگوں کی تین قسمیں ہیں:) کچھ  لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت (جہنّم کے) خوف کی وجہ سے کرتے ہیں، یہ غلاموں کی سی عبادت ہے۔ کچھ لوگ حصولِ جنّت کے لئے کرتے ہیں، یہ تاجروں کی سی عبادت ہے اور کچھ لوگ بطورِشکر عبادت کرتے ہیں، یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص158، رقم: 3540)

(5)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن علی باقِر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَادِر: جس قدر تَکبُّر انسان کے دل میں داخل ہوتا ہے اسی قدر اس کی عقل کم ہو جاتی ہے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،التواضح و الخمول،ج3، ص579، رقم:226)

(6)ارشادِ سَیِّدُنا محمد بن المُنْکَدِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:  بچوں سے زیادہ مذاق نہ کیا کرو! ورنہ ان کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت کم ہوجائے گی۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا، الصمت،ج7، ص238، رقم:393)

(7)ارشادِ سَیِّدُنا یحیٰ بن ابو کثیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر :نیکیاں یاد رکھنا اور گناہوں کو بھول جانا بہت بڑا دھوکا ہے۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص80، رقم:3244)

(8)ارشادِ سَیِّدُنا حِبان بن اَبو جَبَلَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ: دنیا کی وہ عورَتیں جو جنّت میں جائیں گی اپنے نیک کاموں کی وجہ سے جنّت کی حوروں سے افضل ہوں گی۔(تفسیر قرطبی،الدخان:تحت الآیۃ 54،ج8، ص113)

(9)ارشادِ سَیِّدُنا فُضَیْل بن زید رَقّاشی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ: اے بھائی! لوگوں کا ہجوم ہرگز تمہیں تمہارے نفس کی اصلاح سے غافل نہ کرے کیونکہ پوچھ گچھ تم سے ہوگی نہ کہ لوگوں سے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،الورع،ج1، ص220،رقم:134)

 (10)ارشادِ بُدَیْل بن میسرہ عُقَیْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی: جو اپنے عِلم سے صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی چاہتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی رضا سے نوازتا اور بندوں کے دلوں کو اس کی طرف پھیر دیتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء، ج3، ص73، رقم:3213)

(11)ارشادِ سَیِّدُنا منصور بن زَاذَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان: رنج وغم نیکیوں میں اضافے کا باعث جبکہ تکبُّر وبڑائی بُرائیوں میں زیادتی کا سبب بنتے ہیں۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،الھم والحزن،ج3، ص266، رقم:23)

(12)ارشادِ سَیِّدُنا شُمَیْط بن عَجْلَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن: جو شخص موت کو ہر وقت پیشِ نظر رکھتا ہے اسے دنیا کی تنگی و کشادگی کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔(حلیۃ الاولیاء،ج3، ص153، رقم: 3517)

(13)ارشادِ سَیِّدُنا ابو یعقوب فَرْقَد سَبَخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی: پیٹ والے کے لئے پیٹ کی وجہ سے ہلاکت ہے کہ اگر اسے سیر نہ کرے تو کمزور پڑ جاتا ہے اور اگر خوب سیر کرے تو بوجھل ہوجاتا ہے۔(موسوعہ ابن ابی الدنیا،الجوع،ج4، ص117، رقم:224)

Share

Articles

Comments


Security Code