خطرناک کھلونے/سبق کیسے یاد کریں

والدین بچّوں کی خوشی اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دن رات محنت کرتے اور اپنے بچوں کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اسی مقصد کے لئے کھلونےبھی دلواتے ہیں مگر جانے انجانے میں والدین اپنے بچّوں کو ایسے کھلونے فراہم کردیتے ہیں جو بظاہر اور وقتی طور پر بچوں کو خوش تو کردیتے ہیں مگر ساتھ ہی وہ کھلونے بچّوں کے لئے خطرناک اور نقصان دہ بھی ہوتے ہیں۔

محترم والدین! نقصان پہنچانے والے کھلونے تو بہت ہیں (مثلاً غیر معیاری لکڑی یا کلر وغیرہ سے تیار کئے ہوئے کھلونے، مخصوص کیمیکل کے سبب پانی میں جاکر پھول جانے والے کھلونے کہ جنہیں بچے منہ میں لیتے ہیں اور الیکٹرانک کھلونے کہ جن میں شارٹ سرکٹ کا امکان رہتا ہے) مگر کھلونا پستول نقصان پہنچانے میں سب سے آگے نظر آتا ہے۔کھلونا پستول کے نقصانات جاننے کے لئے چندواقعات ملاحظہ فرمائیں:

کھلونا پستول کے خطرناک نتائج

٭ضلع ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں عید کی چھٹیوں میں کھلونا پستول اور بندوق کے چَھرّوں سے زخمی ہونے والے32بچوں کو اسپتال لایا گیا جن میں سے 12 بچوں کی آنکھیں بری طرح زخمی تھیں، ان میں سے چھ بچوں کی آپریشن کے بعد بینائی ضائع جبکہ باقی کی بینائی بُری طرح متاثر ہوگئی تھی۔ (23جون 2018 )٭21 جون 2015 کو فیصل آباد میں 2 طالبِ علم پارک میں کھڑے کھلونا پستول کے ساتھ سیلفی بنارہے تھے پولیس نے ڈاکو سمجھ کران پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک طالب علم شدید زخمی ہوگیا اور اَسپتال میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ (سیلفی کے 30 عبرتناک واقعات، ص11) ٭سردار آباد (فیصل آباد) میں ایک 7 سالہ بچے نے پستول سے ماں پر گولی چلا دی۔ بچہ پستول کو کھلونا سمجھ کر کھیل رہا تھا۔گولی لگنے سے 27 سالہ خاتون جاں بحق ہو گئیں۔٭ کھیل کھیل میں دو سگی بہنوں کی جان چلی گئی، بچّے اصلی پستول کو کھلونا پستول سمجھ کر کھیل رہے تھے کہ گولی چل گئی جس کے باعث 6 سالہ ایمن موقع پر دم توڑ گئی۔ دوسری جانب ایمن کی 4 سالہ بہن نور گولی لگنے سے زخمی ہوئی، جو اسپتال کے راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئی۔(میڈیا 92 ویب، 25مارچ2019)

معزّز والدین! جہاں آپ ہر چیز میں حفاظت (Safety)کو مدِّنظر رکھتے ہیں وہیں کھلونوں کے انتخاب میں بھی جان و مال کی حفاظت اور شریعت کی پاسداری کو اپنے اوپر لازم کریں اور اپنے بچّوں کے لئے ایسے کھلونوں کا اہتمام کریں جو ان کو دینی اور دنیوی نقصان سے محفوظ رکھیں۔

اللہ کریم ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی اولاد کو خوشیوں سے نوازنےکی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

خطرناک کھلونے/سبق کیسے یاد کریں

دوستو! اس بار میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں وہ بھی اپنے دو کلاس فیلوز کا۔ جب ہم آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے تو ہماری کلاس میں خالد اور زاہد نام کے دو اچھے دوست بھی تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ زاہد پڑھنے میں اچھا، سبق یاد کرنے والا اور کلاس میں پوزیشن لینے والا تھا جبکہ خالد ایسا نہیں تھا۔ مجھ سمیت کلاس کے بہت سے طلبہ کو اس فرق کی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی کیونکہ ہاسٹل میں دونوں کی رہائش کا کمرہ بھی ایک تھا۔ ایک دن میں نے زاہد سے پوچھ ہی لیا کہ زاہد بھائی! ایک بات تو بتائیں آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کلاس میں سب سے نمایاں ہیں، اچھا پڑھتے ہیں اور آپ کے دوست خالد آپ کے ساتھ رہتے ہیں، ساتھ پڑھتے ہیں مگر آپ جیسے نہیں ہیں؟ مسکرا کر بولے: ندیم بھائی! اس کی وجہ میرے پُرانے اسکول کےایک ٹیچر کی قیمتی باتیں ہیں جو تعلیم کے اعتبار سے بھی کمال تھے اور اخلاقیات کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھے!وہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ تعلیم کے حوالے سے مختلف باتیں سِکھاتے رہتے تھے۔ ایک دن ایک طالبِ علم نے ان سے پوچھا کہ اَسباق یاد کرتے وَقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟ ہمارا خیال تھا کہ جواب ضَرور ملے گا لیکن ٹیچر نے اس کا جواب نہیں دیا۔ ندیم:کیوں! حالانکہ سوال تو بہت اہم تھا۔ زاہد: وجہ تو معلوم نہیں البتہ انہوں نے کہا : کل اس کا جواب تفصیل کے ساتھ دوں گا۔ ندیم: پھر دوسرے دن انہوں نے کیا جواب دیا؟ زاہد: ان کا جواب بڑا زبردست تھا چنانچہ انہوں نے کہا:اَسباق کا مطالَعہ کرتے اور ان کو یاد کرتے وقت ان چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضَروری ہے:(1)سبق کو بغیر سمجھے رَٹنے کی کوشش نہ کریں کہ رَٹا ہوا سبق جلد بھول جاتا ہے (2)سکون کے ساتھ سبق یاد کریں، جلد بازی مت کریں ورنہ سوائے وقت کے ضیاع کے کچھ حاصل نہ ہوگا (3)یاد کرنے میں ترتیب یوں رکھئے کہ پہلے آسان سبق یاد کریں، پھر مشکل، پھر اس سے مشکل (4)اس دوران کسی سے گفتگو نہ کریں (5)نگاہ کو ایک جگہ رکھیں اِدھر اُدھر دیکھتے رہنے سے سبق یاد کرنے میں دشواری ہوگی (6)اگر سبق یاد کرنے میں سُستی ہو رہی ہو تو اس کے لئے کوئی تدْبیر کریں مثلاً کھڑے ہوکر سبق یاد کرنا شروع کردیں یا پھر جب تک سبق یاد نہ ہوجائے اس وقت تک نہ کچھ کھائیں نہ پئیں (7)ذہن کو اِدھر اُدھر نہ بھٹکنے دیں بلکہ توجُّہ کے ساتھ سبق یاد کریں (8)پڑھتے وقت جتنا ہوسکے خانۂ کعبہ کی طرف منہ کرکے بیٹھیں۔ ندیم: واقعی! یہ تو بڑی کام کی باتیں ہیں۔ زاہد: جی بِالکل! میری کوشش ہوتی ہے کہ ان باتوں پر زیادہ سے زیادہ عمل کروں، جس کی وجہ سے اللہ پاک نے یہ عزت دی ہے۔ ندیم: مَا شَآءَ اللہ! میں بھی نیّت کرتا ہوں کہ ان باتوں پر عمل کروں گا اور دوسروں کو بھی ضَرور بتاؤں گا تاکہ وہ بھی ان پر عمل کرکے فائدہ اٹھائیں۔

ہوجایا کرے یاد سبق جلد الٰہی!

                          مولیٰ تو مِرا حافظہ مضبوط بنا دے(وسائلِ بخشش،ص113)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Comments


Security Code