بسنت میلا

آج ہمارے مُعاشرے میں مسلمانوں کی اخلاقی و عملی حالت خراب ہوتی جارہی ہے، ہم اسلامی تعلیمات چھوڑ کر مغربی تہذیب و تمدّن اور اَغیار کی عادات واَطوار پر چلنے کو اپنے لئے  باعثِ فخر سمجھتے ہیں ان میں وہ  ایّام منانابھی شامل ہیں جن میں شریعت وسُنَّت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی ہےمثلاََ  ’’بسنت میلا‘‘جوکہ غیر مسلموں کے ایجاد کردہ تہواروں میں سے ایک ہے۔ تاریخی پس منظر :پاکستان بننے سے کافی عرصہ پہلےضیاء کوٹ (سیالکوٹ) کے ایک غیر مسلم نے  حضورِانور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اورآپ کی شہزادی بی بی فاطِمہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی شان میں گستاخی کی،بالآخر اُس گستاخ کو پھانسی دے دی گئی۔اُس بدبخت کے’’یومِ ہلاکت‘‘کی یاد تازہ رکھنے کیلئے غیر مسلموں نے ’’بسنت میلا‘‘ نامی تہوار کی بُنیاد رکھی۔ (بسنت میلا، ص2،مفہوماً) فضولیات اور گناہوں کا مجموعہ:اس موقع پر مختلف ہوٹلوں، کوٹھیوں، بنگلوں کی چھتوں اور پارکوں میں بے پردہ عورَتوں اور مَردوں کا مخلوط (Mixed) ماحول بنایا جاتا ہے، بہت سی جگہوں پر شراب نوشی، ناچ گانے، جوئے اور ہوائی فائرنگ جیسے فضول و گناہ کے کام کئے جاتے ہیں، رنگ برنگی پتنگوں کی خرید و فروخت پر لاکھوں کروڑوں روپے ضائع کئےجاتے ہیں نیزاس  موقع پر چھت سے گرنے، پتنگ کی ڈور  سے گلا کٹنے اور ہوائی فائرنگ سے کئی بےقُصور افراد کے فوت ہونے کی اطلاعات عام ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں فضولیات اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مزید معلومات کے لئے شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ رسالہ ’’ بسنت میلا‘‘پڑھئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭شعبہ بیانات دعوت اسلامی،المدینہ العلمیہ باب المدینہ کراچی۔

Share

Articles

Comments


Security Code