گالیاں دینے کے نقصانات

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

از : شیخِ طریقت ، امیرِ اَہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ

کہتے ہیں کہ ایک لوہار کی بند دکان میں ایک سانپ گھس گیا ، اُس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر ہلکا سا زخمی ہو گیا ، اس سانپ نے پلٹ کر پوری قُوت سے آری کو ڈسا جس کے سبب اس کا مُنہ بھی زخمی ہوگیا ، اس نے غصے میں آ کر خود کو آری کے اِرد گِرد لپیٹ لیا اور اپنا دشمن سمجھ کر اسے دبانے لگا ، جس کی وجہ سے وہ خود ہی مرگیا۔ اے عاشقانِ رسول! اس بے وقوف سانپ کی طرح غُصیلے (یعنی غصے والے) افراد بھی بےوقوفانہ انداز اپناتے ، دوسروں کو تکلیف دیتے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر گالی پر گالی دے رہے ہوتے ہیں ، کئی لوگ تو اس قدر گالیوں کی دَلدَل میں دھنسے ہوتے ہیں کہ ہر چیز مثلاً گدھے ، گھوڑے ، بکرے وغیرہ جانوروں کو بھی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں ، دیوار سے ٹکرا گئے تو اسے گالی ، دروازہ نہ کھلے تو اسے گالی ، گاڑی اسٹارٹ نہ ہو تو اسے گالی ، کال نہ لگے تو نیٹ ورک کو گالی ، الغرض ہر چیز ہی کو اپنی گالیوں کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ بات بات پر غُصے ہوکر گالیاں دینے والا شخص اس بے وقوف سانپ کی طرح عزت کے حوالے سے اپنی موت آپ ہی مرجاتا ہے۔ یاد رکھئے! کسی مسلمان کو گالی دینا ، اُس کی عزّت اچھالنا گناہ کا کام ہے۔ (1)اللہ پاک کے آخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : سود 70گناہوں کا مجموعہ ہے اور ان میں سب سے کم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے بدکاری کرے اور سود سے بڑھ کر گناہ مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا ، 7 / 124 ، حدیث : 173) (2)گالیاں دینے والا شخص اگر سیٹھ ہے تو اس کے ملازم ، شوہر ہے تو اس کی بیوی ، استاد ہے تو اس کے شاگرد اس سے تنگ رہتے ہیں ، اگر عزت بھی کرتے ہیں تو صرف اپنے مقاصد کے حصول کے لئے یا پھر اس کے شر سے بچنے کے لئے ، اور جس کی عزت اس کے شَر سے بچنے کے لئے کی جائے حدیثِ پاک میں اسے بدترین آدمی کہا گیا ہے۔ (دیکھئے بخاری ، 4 / 134 ، حدیث : 6131) (3)گالیاں دینے والا بہت ہی بُرا شخص ہوتا ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ “ سَبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ “ یعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فِسْق ہے۔ (مشکاۃ المصابیح ، 2 / 190 ، حدیث : 4814) (4)جھگڑے کے وقت گالی بکنے کی عادت کو منافقت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا گیا ہے۔ (دیکھئے بخاری ، 1 / 25 ، حدیث : 34) لہٰذا گالیاں بکنے والا ایک طرح سے خود کو منافقوں کی لِسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ یاد رکھئے!مسلمان کو گالی دینا اور اس کا دل دکھانا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ، آج ہی سچّی توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر اس مسلمان سے بھی معافی مانگ لیجئے جسے گالی دی ہے یا ناحق دل دکھایا ہے ، تا کہ دنیا و آخرت کی رسوائیوں سے بچ سکیں۔ اللہ کریم ہمیں اپنی زبان کا اچھا استعمال کرنے اور اسے گالی گلوچ سے بچا کر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  

(نوٹ : یہ مضمون 13ذوالقعدۃ الحرام1441ھ کے مدنی مذاکرے کی مدد سے تیار کرکے امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مزید مشورے لے کر پیش کیا جارہا ہے۔ )

Share