جمعہ کے دن کی نیکیاں

جمعۃُ المبارک کے دن کی جانے والی نیکیوں میں سے ایک اَہَم نیکی نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرُود و سلام پڑھنا بھی ہے، یوں تو کسی بھی دن یا وقت درودِ پاک پڑھنا اَجْر و ثواب سے خالی نہیں ہے کیونکہ درودِ پاک پڑھنا ایسا عظیمُ الشّان کام ہےکہ اللہ ربّ العزّت  نے ایمان والوں کو اس کا حکم دینے سے پہلے ارشاد فرمایا: ( اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)) تَرجَمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے دُرُود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر۔ پھر فرمایا: ( اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)) تَرجَمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (پ22،الاحزاب:56)

احادیثِ مبارَکہ میں خاص جمعہ کے دن درودِ پاک پڑھنے والے پر خُصوصی انعامات و اعزازات کا بھی بیان ہے، آئیے  6 فرامینِ مصطفےٰ ملاحَظَہ کیجئے:

(1)دُرُودِ پاک کی کثرت کیجئےجمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرو کیونکہ یہ یومِ مَشْہود ہے اس دن فرشتے حاضر  ہوتے ہیں اور جو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے اس کے دُرُودِ پاک سے فارغ ہونے سے پہلے اس کا درودِ پاک مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔(ابن ماجہ،ج2،ص291،حدیث:1637)

(2)قُربِ مصطفےٰپانے کا وظیفہجمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرو کہ میری اُمّت کا دُرُود ہر جمعہ کو مجھ پرپیش کیا جاتا ہے،ان میں سے جو سب سے زیادہ درودِ پاک پڑھنے والا ہوگا وہ میرے زیادہ قریب ہوگا۔(سننِ کبریٰ للبیہقی،ج 3،ص353،حدیث: 5995)

(3)سو بار دُرُود ِ پاک پڑھنے کی والے پر انعامجو مجھ پر شبِِ جمعہ اور روزِ جمعہ ایک سو مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھے اللہ تعالیٰ اُس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا، 70 آخِرت  کی  اور 30  دُنیا کی۔ (شعب الایمان،ج3،ص111، حدیث: 3035)

(4)نُور عطا کئے جانے کی بشارتجوشخص بروزِ جمعہ ایک سو بار دُرُود ِ پاک پڑھے، جب وہ قِیامت کے دن آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا کہ اگر وہ ساری مخلوق میں تقسیم کردیا جائے تو سب کو کفایت کرے۔(حلیۃ الاولیاء،ج8،ص49)

(5)بخشش و مغفرت والا عملجو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اسّی (80) بار درودِ پاک پڑھےگا اس کے اسّی سال کے گُناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (جامع صغیر، ص320، حدیث: 5191) نیز ایک روایت میں سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جمعہ کے روز دوسو بار درودِ پاک پڑھنے والے کے لئے دوسو سال کے گناہوں کی بخشش کی بشارت دی ہے۔(جمع الجوامع،ج 7،ص199، حدیث:22353)

(6)شفاعت کی خوشخبریجو مجھ پر جمعہ کے روز درودِ پاک پڑھے گا میں قِیِامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔(جمع الجوامع،ج 7،ص199،حدیث:22352)

شفاعت کرے حشر میں جو رضاؔکی

سِوا تیرے کس کویہ قُدرت مِلی ہے

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭شعبہ فیضان صحابہ واہل بیت ،المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share

جمعہ کے دن کی نیکیاں

اسلام ایک پُراَمْن اور سَلامتی والا دین ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو اَمن و سکون کا پیغام دیتاہے جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ مسلمان آپَس میں ملاقات کے وقت گفتگو کی ابتدا دِین ودُنیا کی سَلامتی کی دُعا یعنی ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ“سے کرتے ہیں۔ سلام کرنا مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیاری پیاری سنّت ہے نیز آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپس میں سلام کرنے کی خوب تاکید فرمائی ہے چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جب کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے پھر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتّھر حائل ہو جائے اور پھر مُلاقات ہو تو پھر سلام کرے۔(ابو داؤد،ج 4،ص450،حدیث:5200) تین فرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سلام کی سنّت پر عمل کرنے  والوں کیلئے کثیر فضائل و ثَمَرات کی خوشخبریاں ہیں۔ اس سنّت پر عمل کرنے والوں کے فضائل پر مشتمل تین فرامینِ مصطفےٰ ملاحظہ فرمائیے:(1)جب دو مسلمان مَرد ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے رفیق کو سلام کرتا ہے تو ان میں سے اللہ پاک کے نزدیک زیادہ مَحبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے رفیق سے زیادہ گَرْم جوشی سے ملاقات کرتاہے۔ پھر جب وہ مُصافحہ کرتے ہیں تو ان پر100 رحمتیں نازل ہوتی ہیں ان میں سے 90 رحمتیں سلام میں پہل کرنے والے کیلئے اور 10 مصافحہ میں پہل کرنے والے کیلئے ہیں۔ (مسندِ بزّار،ج1،ص437،  حدیث:308) (2)سلام میں پہل کرنے والاتکبُّر سے بَری ہے۔ (شعبُ الایمان،ج 6،ص433، حدیث: 8786) (3)لوگوں میں اللہ پاک کے زیادہ قریب وہی شخص ہے جو اُنہیں پہلے سلام کرے۔ (ابوداؤد،ج 4،ص449، حدیث: 5197)جان پہچان ضَروری نہیں سلام کرنے کے لئے جان پہچان ضَروری نہیں بلکہ کوئی ہمیں جانتا ہو یا نہ جانتا ہو اسے سلام کرناچاہئے، شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سلام عام کرنے کی ترغیب دِلاتے ہوئے مدنی انعام نمبر6 میں ارشاد فرماتے ہیں:کیا آج آپ نے گھر، دفتر، بس ، ٹرین وغیرہ میں آتے جاتے اور گلیوں سے گُزرتے ہوئے راہ میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو سلام کیا؟ آخرت میں کامیابی کا ذریعہ فرمانِ رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو، بھوکوں کو کھانا کھلاؤاور سلام عام کرو، سَلامتی کے ساتھ جنّت ميں داخل ہو جاؤ گے۔

(ترمذی،ج3،ص338، حدیث: 1862)

کاش! ہمارے معاشرے میں سلام کرنے کی یہ پیاری سُنّت عام ہوجائے مگر افسوس کہ اب سلام کی جگہ کئی مسلمان اسلامی طریقے کو چھوڑ کر گُڈ مارننگ، ہیلو اورصبح بخیر وغیرہ کے الفاظ استِعمال کرنے لگے ہیں۔  لہٰذاہمیں ان طریقوں کو چھوڑ کر سلام کرنے کی عادت بنانی چاہئے تاکہ آپَس میں پیار و مَحبت بھی بڑھے اور سنّت پر عمل کا ثواب بھی حاصل ہو۔

دُرُست تَلَفُّظ سلام دُرست تلفّظ  کے ساتھ کیجئے کیونکہ ایک  تعداد ایسی بھی ہے  جو غَلَط تلفّظ مثلاً: ٭ سَامْ اَلَیْکُمْ ٭سَلَامُوْ لِیْکُمْ ٭سَلَا لِیْکُمْ ٭اَلسَّلَامُ اَلَیْکُمْ۔ کہتے ہیں جو لفظی اور معنوی طور پر درست نہیں جبکہ سلام کے درست الفاظ یہ ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔

اللہ پاک ہمیں سلام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭                        

Share