بزرگوں کے پیشے

Image
ضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبَیدُاللّٰہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد ہے۔ آپ اُن دس خوش نصیب صحابہ کی فہرست میں شامل ہیں جن کے قطعی جنّتی ہونے کی بِشارت نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کی زندگی ہی میں سُنادی تھی۔
Image
عُلَما کی ایک جماعت اس نسبت کے ساتھ مشہور ہوئی کیونکہ ان کے آباء و اجداد میں سے کوئی اس کا کام کرتا تھا یا اسے بیچتا تھا۔ان علما میں سے ایک  قَاضِیُ الْقُضَاۃ (Chief Justice)ابو الحسن علی بن محمد بصری رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔آپ کی ولادت364
Image
یہ لفظ اس شخص کے لئے کہا جاتا ہے جو بَزّ یعنی ایک قسم کے کپڑوں کو بیچتا ہو۔اس نسبت سے مشہور بزرگوں میں سےایک مُحدِّثِ عراق ،حافظُ الحدیث حضرت ابو عمران موسیٰ
Image
حضرت سیِّدُنا عبدُالرّحمٰن بن عَوْف رضی اللہ عنہ عشرہ ٔ مُبَشِّرہ میں سے عظیم صحابی تھے۔ آپ کا تعلق قریش کے خاندان بنو زُہرہ سے ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ کا نام عَبْد عَمْرو یا عبدُ الکعبہ تھا، سرکارِ دوعالَم،
Image
اسلام اپنے ماننے والوں کو کَسْبِ حلال کی ترغیب دیتا اور رزقِ حلال کے لئے ان کی جِدّو جہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بزرگانِ دین نے  بھی کوئی نہ کوئی حلال ذریعۂ روزگار اپنایا، ان ہی  بزرگوں میں سے ایک خلیفۂ دُوُم، امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم 
Image
حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ زبیر بن عوَّام رضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پھوپھی جان حضرت سیّدَتُنا صفیّہ کے صاحبزادے، اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا خدیجہ کے بھتیجے اور حضرت سیِّدُنا صدیقِ اکبر رضوان اللہ علیہم کے داماد ہیں۔ 
Image
ضرت سیِّدُنا مجاہدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا علیُّ المُرتضیٰ، شیرِ خدا کرّم اللہ وجہَہُ الکریم عِمامہ باندھے ہمارے پاس تشریف لائے اور بتانے لگے کہ ایک مرتبہ مدینۂ مُنوَّرہ میں مجھے سخت بھوک محسوس ہونے لگی تو میں مزدوری کی تلاش میں مدینہ کے گرد و نواح کی طرف نکل گیا،