جمعِ قراٰنِ پاک

قراٰنِ پاک دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جو سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے۔قراٰنِ کریم کی آیات حالات و واقعات کے مطابق 23 سال کے عرصے میں نازل ہوئیں، نزولِ قراٰن کی کیفیت یہ تھی کہ ایک سورت کی کچھ آیات نازل ہوتیں ،پھر دوسری سورت کی کچھ آیات اُترتیں، آیات نازل ہونے کے بعد نبیِّ اکرم، شفیعِ مُعَظَّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم متعیّن فرماتے کہ کون سی آیات کس سورت کی ہیں،لہٰذا آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکےفرمان کےمطابق آیت یا کئی آیات کو اُس سورتِ مبارکہ میں شامل کردیا جاتا۔ (مستدرک،ج 3،ص63، حدیث:3325) قراٰنِ پاک کِن چیزوں پر تحریر تھا؟ عہدِ رسالت میں قراٰنِ پاک نازل ہونےکا سلسلہ جاری تھا،س لئے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُسے کتابی صورت میں جمع نہیں فرمایا۔ اُس وقت نازل ہونے والی آیات کو صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان اپنے سِینوں میں محفوظ کرتے اور ان پاکیزہ نُفوس میں سے منتخب افراد آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حکم سے مُتَفَرِّق کاغذوں، پتھر کی تختیوں ، بکری، دُنبے کی کھالوں، اُونٹوں کے شانوں اور پسلیوں کی ہڈیوں وغیرہ پرتحریر کرلیتے۔ (بخاری،ج3،ص398،حدیث:4986، اتقان،ج 1،ص181تا185) قراٰنِ پاک کو ایک جگہ جمع کرنے کا سبب نبوت کاجھوٹا دعویٰ کرنے والے مسیلمہ کذّاب سے عہدِصِدّیقی میں جنگِ یمامہ ہوئی، اِس میں حُفّاظ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی کثیر تعداد شہید ہوگئی۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ صدیقی میں عرض کی کہ ”جنگِ یَمامہ میں بہت حفّاظ شہید ہوئے اور میں ڈرتاہوں کہ یوں ہی قراٰن متفرق پرچوں میں رہا اور حُفّاظ شہادت پاگئے تو بہت سا قراٰنِ کریم مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتا رہے گا، میری رائے ہے کہ آپ جمعِ قراٰن کا حکم فرمائیں۔“سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو ابتدا میں اس میں تأمّل ہوا کہ جو فعل حضورِاقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے نہ کیا ہم کیونکرکریں۔ سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اگرچہ حضورِ پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ کیا مگر وَاﷲ وہ کام خیرکا ہے، بِالآخر صدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا بھی ذہن بن گیا اور عظیم قاریِ قراٰن صحابیِ رسول حضرت سیّدنا زیدبن ثابت اَنصاری رضی اللہ عنہ کو بُلا کر کتابُ اللہ کو جمع کرنے کا فرمانِ خلافت صادر فرمایا۔ حضرت سیّدنا زید رضی اللہ عنہ کو بھی وہی شُبہ ہوا کہ جو کام حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ کیا وہ ہم کیسے کریں۔ سیّدنا صدّیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہی جواب دیا کہ اگرچہ حضورِ اَقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ کیا مگر وَاﷲ وہ کام خیرکاہے۔ یہاں تک کہ حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم و زید بن ثابت و جملہ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کے اِجماع سے یہ مسئلہ طے ہوا اور قراٰنِ عظیم مُتفرّق جگہوں سے جمع کرلیا گیا۔ (بخاری،ج 3،ص399،حدیث: 4987، فتاویٰ رضویہ،ج 26،ص 450تا 452 ملخصاً)

تدوینِ قراٰن کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ قراٰن پاک کا کوئی جُز، کوئی فِقْرہ اور کوئی لفظ ایسا نہیں جس کو جمع کرنے والوں نے چھوڑ دیا ہو، آج بھی مُحَقِّقِین اِس بات کا اِقرار کرتے ہیں کہ قراٰن ِ پاک دُنیاکی وہ واحد کتاب ہے کہ جس کا مَتْن آج تک اپنی اصلی حالت میں موجودہے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ذمّہ دار شعبہ فیضان اولیاوعلما،المدینۃ العلمیہ ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code