زندگی بھر کے اعمالِ حَسَنہ اور  ایک نعمت /مالِ حرام  نرا وبال ہے

اعلٰی حضرت،مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنی تحریر و تقریر سے برعظیم(پاک و ہند) کے مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کی اصلاح فرمائی، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے راہنما تھے،آج بھی مشعل راہ ہیں، دورحاضر میں ان پر عمل کی ضرورت مزید بڑھ چکی ہے۔

(1)آدمی ماں باپ کو  راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔ جب تک باپ کو راضی نہ کرے گا اُس کاکوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عملِ نیک اَصْلاً قبول نہ ہوگا، عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سَخْت بَلا نازِل ہوگی، مرتے وقت مَعَاذَاﷲ کلِمَہ نصیب نہ ہونے کاخوف ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص384)

(2)جسم کے حق میں کبھی کبھی ہلکا بخار، زکام، دردِ سر اور ان کے مِثْل ہلکے امراض بَلا نہیں نعمت ہیں بلکہ ان کا نہ ہونا بَلا ہے مردانِ خدا پر اگر چالیس دن گزریں کہ کوئی عِلّت وقِلّت نہ پہنچے (یعنی بیماری وپریشانی نہ آئے )تو اِستغفارواِنابت فرماتے ہیں (یعنی توبہ کرتے اوررجوع لاتے ہیں)کہ مَبادا باگ ڈھیلی نہ کردی گئی ہو(یعنی جس طرح نافرمانوں کو گناہوں کی وجہ سے ڈھیل دیدی جاتی ہے، کہیں ایسا ہی معاملہ ہمارے ساتھ  نہ ہو)۔(فضائل دعا،ص173)

(3)”شریعت“ تمام اَحکامِ جِسْم وجان و روح وقَلْب وجملہ علومِ الٰہیہ ومعارفِ نامتناہیہ کو جامع ہے جن میں سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت ومعرفت ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21، ص523)(4) طریقت میں جو کچھ مُنْکَشِف ہوتا ہے شریعت ہی کے اِتباع کا صدقہ ہے ورنہ بے اِتباعِ شَرَع بڑے بڑے کَشْف راہبوں، جوگیوں، سنیاسیوں کو ہوتے ہیں، پھر وہ کہاں تک لے جاتے ہیں اسینَارِ جَحِیْم وعَذَابِ اَلِیْم تک پہنچاتے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ،ج21، ص524)

(5)عبادت محض لِوَجْہِاللہ(یعنی صرف اللہ کی رضا کے لئے) ہونا چاہیے، کبھی اپنے اَعمال پر نازاں نہ ہو کہ کسی کے عمر بھر کے اعمالِ حَسَنہ اُس (اللہ عَزَّ  وَجَلَّ)کی کسی ایک(بھی) نعمت کا جواُس نے اپنی رحمت سے عطا فرمائی ہے،  بدلہ نہیں ہوسکتے۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ،ص281)

(6)مالِ حرام قابلِ قبول نہیں، نہ اُسے راہِ خدا میں صَرف (خرچ) کرنا رَوَا(جائز)، نہ اُس پر ثواب ہے بلکہ نِرا وَبال ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص105)

(7)سُنّی مسلمان کو دین پر اِعتِقَاد ایسا چاہئے کہلَاتُشْرِکْ بِاﷲِ وَاِنْ حُرِقْتَ اگر کوئی جلا کر خاک کردے تو دین سے نہ پھرے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص154ملخصاً)

(8)سَاتِرِ عورت(ستر کو چھپانے والے کپڑوں ) کا ایسا چُسْت ہونا کہ عُضْو کا پورا انداز بتائے۔ یہ بھی ایک طرح کی بے سَتْری (بے پردگی ) ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج22،ص163ملخصاً)

(9)کھانا کھاتے وقت نہ بولنے کا اِلْتِزام(لازم)کرلینا مَجُوس (یعنی آتش پرستوں)کی عادت ہے اور مکروہ ہے۔اورلغو باتیں کرنا یہ ہر وقت مکروہ،اور ذکرِ خیر کرنا یہ جائز ہے۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت،ص448 ملخصاً)

(10)جاہل بوجہ جہل اپنی عبادت میں سو(100)گناہ کرلیتا ہے اور مصیبت یہ کہ انہیں گناہ بھی نہیں جانتا اورعالمِ دین اپنے گناہ میں وہ حصہ خوف ونَدامَت کا رکھتاہے کہ اسے جلد نجات بخشتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص687)

(11)نعت شریف ذِکراَقْدَس ہے اور اِس کا خوش اِلحانی سے ہونا مُورِثِ زیادتِ شوق ومحبت۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص754)

(12)اَشرار ( بُرے لوگوں)کے پاس بیٹھنے سے آدمی نقصان اُٹھاتاہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24،ص314)

Share

Articles

Comments


Security Code