نماز اک نعمت عظمی ہے/حلال کو حرام یا حرام کو حلا ل کہنا کیسا؟/میت کو ثواب پہنچتا ہے

اعلی حضرت،مجدد دین و ملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنی تحریر و تقریر سے برعظیم(پاک و ہند) کے مسلمانوں کے عقیدہ و عمل کی اصلاح فرمائی، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے راہنما تھے،آج بھی مشعل راہ ہیں، دورحاضر میں ان پر عمل کی ضرورت مزید بڑھ چکی ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:

(1)نمازِ پَنْجگَانہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وہ نعمتِ عُظمٰی ہے کہ اس نے اپنے کرمِ عظیم سے خاص ہم کو عطا فرمائی ہم سے پہلے کسی اُمّت کو نہ ملی۔(فتاویٰ رضویہ،ج5، ص43)

(2)حرام وہ ہے جسے خُدا اور رسول(عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ) نے حرام فرمایا اور واجب وہ ہے جسے خدا اور رسول (عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ) نے واجب کہا،حکم دیا، لیکن وہ چیزیں جن کا خدا اور رسول (عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ) نے حکم دیا نہ منع کیا، وہ سب جائز ہیں انہیں حرام کہنے والا خدا اور رسول پر اِفْتِراء کرتا (یعنی بُہتان باندھتا) ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج9، ص135)

(3)اَہلِ سنّت کے عقیدہ میں تمام صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر طَعن حرام (ہے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج29، ص227ملخصاً)

(4)مَحبوبانِ  خُدا کی یادگاری کے لئے دن مُقَرَّر کرنا بیشک جائز ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج29، ص202)

(5)حضور سیدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کو نِدا کرنے (یعنی لفظِ یَا وغیرہ کے ساتھ پُکارنے) کے عُمدہ دلائل سے ”اَلتَّحِیَّات“ ہے جسے ہر نمازی ہر نماز کی دو رکعت پر پڑھتا ہے اور اپنے نبیِّ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم سے عرض کرتا ہے ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہٗ“ سلام حضور پر اے نبی اور اﷲ کی رَحمت اور اس کی برکتیں۔ اگر نِدا (یعنی لفظِ یَا وغیرہ کے ساتھ پُکارنا) مَعَاذَ اﷲ شرک ہے  تو یہ عجب شرک ہے کہ عین نماز میں شریک و داخل ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج29، ص566)

(6)مسلمان مَيّت کو جو ثواب پہنچايا جائے اُسے پہنچتا ہے اور اس (یعنی ثواب پہنچانے) سے زيادہ خوش ہوتا ہے جيسے حيات ميں تحفہ بھيجنے سے (اور) اسے (یعنی ميّت کو) معلوم ہوتا ہے کہ ميرے فلاں عزيز يا دوست يا مسلمان نے بھيجا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج9، ص600)

(7)عورت پر مرد کا حق خاص اُمور مُتعلِّقہ زَوْجِیَت (یعنی میاں بیوی کے ساتھ تعلق رکھنے والے معاملات) میں اﷲ و رسول (عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ)کے بعد تمام حُقُوق حتی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے ان اُمور میں اس کے احکام کی اِطاعت اور اس کے نَامُوس (یعنی عزت) کی نِگہداشت (یعنی حفاظت) عورت پر فرضِ اَہم ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص380)

(8)(باپ بچوں کو)حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے آل واَصحاب واَولیاء وعُلماء کی مَحبّت وعَظَمت تعلیم کرے(یعنی سکھائے) کہ اصلِ سنّت وزیورِ ایمان بلکہ باعثِ بَقائے ایمان (یعنی ایمان باقی رہنے کا سبب) ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج24، ص454)

کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دئیے

علمائے حق کی عقل تو حیراں ہے آج بھی

(مناقب رضا،ص66)

Share

Articles

Comments


Security Code