سادات کی تعظیم/ نماز، روزے، وضو، غسل، قراءَت  کا علم سیکھنا فرض/کفارے کا غلط تصور

(1)کسی کو سیّد سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لئے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اُسے سیّد جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سیّد کہلائے جاتے ہیں ہم اُن کی تعظیم کریں گے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص587)

(2)عوام مسلمین کو نماز، روزے، وضو، غسل، قراءَت کی تَصْحِیْح (صحیح کرنا) فرض ہے جس سے روزِ قیامت اُن پر مُطالَبہ و مواخَذَہ ہوگا۔ اپنے مرتبہ سے اونچی باتوں میں کچہریاں جمانا اور کھچڑیاں پکانا (یعنی بحث مباحثہ کرنا) اور رائیں لگانا گمراہی کا پھاٹک (بڑا دروازہ) ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص591)

(3)وہ میزان (یعنی ترازو جو قیامت میں قائم ہوگا) یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نیکیوں کا پلّہ اگر بھاری ہوگا تو اُوپر اُٹھے گا اور بدی کا پلّہ نیچے بیٹھے گا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 29،ص626)

(4)ہِلال (نیاچاند) دیکھ کر اس کی طرف اشارہ نہ کریں کہ افعالِ جاہلیت (جاہلوں کا عمل) ہے۔(فتاویٰ رضویہ، ج10،ص458)

(5)نماز روزے وغیرہ جس قدر ذمۂ میّت (میت کے ذمہ پر باقی) ہوں سب کے کفارے میں خود قراٰن مجید ہی مِسْکین کو دے دیا جائے ایک مُصْحَف (قراٰن) میں سب ادا ہوجائیں گے۔ یہ طریقہ یقیناً قطعاً باطل و مُہْمَل (فضول) ہے۔(فتاویٰ رضویہ، ج10،ص513،514 ملتقطاً)

 (6)شریعت کی حاجت ہر مسلمان کو ایک ایک سانس ایک ایک پل ایک ایک لمحہ پر مرتے دم تک ہے اور طریقت میں قدم رکھنے والوں کو اور زیادہ کہ راہ جس قدر باریک اس قدر ہَادِی (راہنما) کی زیادہ حاجت۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص527)

(7)مذاہبِ اربَعَہ اہلِ سنّت (یعنی حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) سب رُشد و ہدایت (پر) ہیں جو اِن میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اسی کا پیرو (پیرو کار) رہے کبھی کسی مسئلے میں اس کے خلاف نہ چلے وہ ضرور صراطِ مستقیم پر ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج27،ص644)

(8)لڑکیوں کا غیرمَردوں کے سامنے خوش اِلْحَانی سے نَظْم پڑھنا حرام ہے، اور اجنبی نوجوان لڑکوں کے سامنے بے پردہ رہنا بھی حرام۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص690)

(9)ہر مُبَاح (جائز کام) بہ نِیَّتِ مَحْمودَہ (اچھی نیت کے ساتھ) مَحْمود و قُرْبَت (اچھا اور باعثِ ثواب) ہوجاتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج16،ص249)

(10)تفریحِ طَبْع (دل لگی، دل بہلانے) کے لئے جو شکار کیا جاتا ہے وہ خود ناجائز ہے کہ ایک لَہْو ولَعْب، لوگ خود اُسے شکار کھیلنا کہتے ہیں اور کھیل کے لئے بے زبانوں کی جان ہلاک کرنا ظلم و بے دردی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،ج21،ص657)

(11)عِمَامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو نہ چھ گز سے زیادہ، اور اس کی بَنْدِش گنبد نُما ہو۔(فتاویٰ رضویہ،ج22،ص186)

نماز اور روزہ کا فدیہ

ميِّت کی عُمر معلوم کر کے اِس میں سے نو سال عورت کیلئے اور بارہ سال مَرد کیلئے نابالغی کے نکال دیجئے۔  باقی جتنے سال بچے ان ميں حساب لگائیے کہ کتنی مدّت تک وہ (یعنی مرحوم) بے نَمازی رہا یا بے روزہ رہا، یا کتنی نَمازیں یا روزے اس کے ذمّہ قضا کے باقی ہیں۔ زِیادہ سے زِیادہ اندازہ لگا لیجئے۔ بلکہ چاہیں تو  نابالِغی کی عمر کے بعد بَقِیہ تمام عُمر کا حساب لگا لیجئے۔ اب فی نَماز ایک ایک صَدَقۂ فِطر خیرات کیجئے۔ مزید تفصیلات جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نماز کے احکام“ صفحہ 345 پڑھ لیجئے ۔

 

 

 

 

Share

Articles

Comments


Security Code