فتاویٰ رضویہ سے مدنی پھول

        اعلیٰ حضرت ،مجددِ دین وملّت شاہ امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی تحریر وتقریر سے برصغیر(پاک و ہند)کے مسلمانوں کے عقیدہ وعمل کی اصلاح فرمائی ، آپ کے ملفوظات جس طرح ایک صدی پہلے راہنماتھے،آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔ دور حاضرمیں ان پر عمل کی ضرورت مزید بڑھ چکی ہے۔ چند فرامین مبارکہ ملاحظہ کیجئے:

اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:

(1)…ماں باپ کی مُمانَعَت کے ساتھ حجِ نَفْل جائز نہیں۔(ملفوظات اعلی حضرت، ص 182)

(2)…والدین کے ساتھ حسن سلوک اعظم واجبات اور اہم عبادات میں سے ہے حتّٰی کہ اللہ سُبْحَانَہُ وَتَعَالیٰ نے ان کی شکر گزاری کو اپنے شکریہ کے ساتھ متصل فرماتے ہوئے یہ حکم دیا :”میرے شکر گزار بنو او راپنے والدین کے۔“(فتاوٰی رضویہ،ج10،ص678)

(3)…اطاعت والدین جائز باتوں میں فرض ہے اگر چہ وہ خود مرتکبِ کبیرہ ہوں۔ (فتاوٰی رضویہ،ج21،ص157)

(4)…والدین کاحق وہ نہیں کہ انسان اس سے کبھی عہدہ بر آ ہو وہ اس کے حیات و وجود کے سبب ہیں تو جو کچھ نعمتیں دینی و دُنیوی پائے گا سب اُنھیں کے طفیل(صدقے) میں ہوئیں کہ ہر نعمت وکمال ، وجود پر موقوف ہے اور وجود کے سبب وہ ہوئے تو صرف ماں باپ ہونا ہی ایسے عظیم حق کا مُوجِب ہے جس سے بری الذمہ کبھی نہیں ہو سکتا ،نہ کہ اس کے ساتھ اس کی پرورش میں ان کی کوششیں، اس کے آرام کے لئے ان کی تکلیفیں خصوصاً پیٹ میں رکھنے، پیدا ہونے ، دودھ پلانے میں ماں کی اذیتیں، ان کا شکر کہاں تک ادا ہو سکتا ہے ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،ج24،ص401)

(5)…بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زور آزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظر آجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جزا اپنے ہاتھ سے چکھیں گے،جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ (فتاوٰی رضویہ،ج24،ص424)

(6)…عقلمند اور سعادت مند اگر استاذ سے بڑھ بھی جائیں تو اسے استاذ کا فیض سمجھتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ استاذ کے پاؤں کی مٹی سر پر ملتے ہیں۔(فتاوٰی رضویہ،ج24،ص424)

(7)…کسی مسلمان بلکہ کافر ذِمّی کو بھی بلاحاجتِ شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو اُسے اِیذاء پہنچے، شرعا ًناجائز وحرام ہے۔(فتاوٰی رضویہ،ج23،ص204)

(8)…:عوام و خواص کے یہ بھی زبان زدہے کہ بخار کی شکایت ہے ،دردِ سر کی شکایت ہے، زکام کی شکایت ہے ،وغیرہ وغیرہ ۔ یہ نہ (کہنا )چاہیے، اس لیے کہ جملہ اَمراض کا ظہور مِنْ جانِبِ اللہ (اللہ تعالٰی کی طرف سے)ہوتا ہے تو شکایت کیسی!(حیات اعلیٰ حضرت ،ج3،ص94)

Share

Articles

Comments


Security Code