کچن گارڈن / عورت کے لئےنمازِ عصرکا مستحب وقت کونساہے؟ / قربانی کا گوشت

صحت کی سلامتی سب پسند کرتے ہیں اور اچھی صحت کے لئے مُتوازِن غذا (Balanced Diet)اور  تازہ سبزیوں کا استعمال بہت مفید اور کچھ حد تک ضروری بھی ہے۔

 تازہ سبزیاں حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر میں ہی سبزیاں اُگائی جاسکتی ہیں ، گھر میں سبزیاں  اُگانا کوئی بہت مُشکل کام نہیں نہ ہی اس کے لئے بہت ساری جگہ کی حاجت ہے بلکہ آپ اپنے گھر کی بالکونی ، صحن ، کھڑکیوں اور  کیاریوں میں( جہاں چار سے پانچ گھنٹے تک  دُھوپ رہتی ہو) کچن گارڈن بنا کر گھر کی خوبصورتی میں اضافہ اور کچن کے اخراجات میں کمی کرسکتی ہیں۔

اس کے لئے گملے بھی ضروری نہیں ،  گھریلوناکارہ ٹب ، بالٹیاں ،  پلاسٹک کی بڑی بوتلیں وغیرہ بھی استعمال کی جاسکتی ہیں ،  ان کے نچلے حصے میں دو یا تین چھوٹے سوراخ کرلیجئے تاکہ مزید پانی اس میں نہ ٹھہر سکے کہ زیادہ ٹھہرا پانی  پودوں کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔

 گملوں میں تھوڑی کھاد اور تھوڑی بَھل ریت ملا کر ڈال دیں ، (یہ نرسری سے سستی مل جاتی ہے) اب کسی میں دھنیا کسی میں  ہری مرچ کے بیج تو کسی میں توری ، پھلیوں ، بینگن کے بیج ڈال کر اوپر ہلکی تہہ کھاد کی پھیلا دیں ،  روزانہ صبح کے وقت پانی دیجئے ،  اِنْ شَآءَ اللہ چند دنوں میں ننھے پودے نکل آئیں گے ،  لہسن کا جَوا اور تھوڑی ادرک بھی کسی گملے میں ڈال دیں۔

 پودوں کو کیڑوں سے بچانے اور توانائی پہنچانے کے لئے درج  ذیل اقدامات کریں :  * ایک گملے میں نِیم کا پودا لگا لیجئے(نرسری سے اس کی پنیری آسانی سے مل جائے گی) برسات کے دنوں میں نیم کے چند پتے تھوڑے پانی میں اُبال کر ،  پانی ٹھنڈا ہونے پر  پودوں میں اِسپرے کرلیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ کیڑا نہیں لگے گا۔ *  اگر کیڑا لگ جائے تولہسن ادرک کا پانی نکال کر پودوں میں ڈالیں بہت فائدہ ہو گا۔ * آلو ، چاول ، چھولے اور  دیگراَناج کا  دھووَن پودوں میں پانی کی جگہ ڈالیں ، یونہی سبزیاں اُبالنے کے بعد اس کا پانی مت پھینکیں ، یہ پانی پودوں میں ڈالنے سے پودوں کو  توانائی ملے گی۔ *  لوہے کی کیلوں یا کسی لوہے کے ٹکڑے کو پانی میں بھگو دیں ،  جب پانی خوب زنگ آلود ہو جائے تو یہ پانی  بھی پودوں میں ڈالیں  توانائی بحال ہوگی۔ *  ا گر محسوس ہو کہ کھاد سخت جَمی ہوئی ہےتونرمی کے ساتھ اسے اوپر نیچے کیجئے(یعنی گوڈی کیجئے) مگر اس کام میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ *  نئی کھاد پودوں میں ڈالتی رہیں ، ورنہ پودےبے جان ہو سکتے ہیں۔ * اگر پتےپیلے محسوس ہوں یا کوئی ٹہنی سُوکھ جائے تو اس کو پودے سے الگ کر دیجئے۔ * اچھی پیداوار کے لئے اللہ پاک کا مبارک نام’’یَاحَلِیْمُ‘‘کسی کاغذ پر لکھ کر اس کا دھووَن اپنے پودوں پر چھڑک دیں اِنْ شَآءَ اللہ زراعت ہر آفت سے حفاظت میں رہے گی۔

( مدنی پنج سورہ ، ص 251)

 اللہ پاک ہمیں اپنے گھر کو صاف و سرسبز رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 

Share

کچن گارڈن / عورت کے لئےنمازِ عصرکا مستحب وقت کونساہے؟ / قربانی کا گوشت

(1)عورتوں کے لئے نمازِ عصر  کا مستحب وقت کونسا ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورتوں کے لیے نماز عصر کا مستحب وقت کون سا ہے؟

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

نمازِ فجر کے علاوہ تمام نمازوں میں عورتوں کے لیے افضل یہ ہے کہ مَردوں کی جماعت ختم ہو جانے کا انتظار کریں ، جب مَردوں کی جماعت ختم ہوجائے تو اپنی نماز ادا کریں ، البتہ نمازِ فجر اندھیرے میں پڑھنا افضل ہے۔

 (الدر المختار مع رد المحتار ، 2 / 30 ، بہار شریعت ، 1 / 452)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)کیا بیوہ میکے میں عدت گزار سکتی ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی میت کو اس کے آبائی گاؤں لے جایا گیا جو کہ اس کے گھر سے تقریباً 20 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے اور وہیں زید کا سسرال بھی ہے ، تو زید کی بیوہ بھی دورانِ عدت میت کے ساتھ ہی چلی گئی ، اب زید کی بیوہ اپنی بقیہ عدت میکے میں ہی پوری کرنا چاہتی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے  کہ کیا زید کی بیوہ میکے میں اپنی عدت پوری کرسکتی ہے؟ اس میں شرعاً کوئی حرج تو  نہیں۔ یاد رہے کہ وقتِ انتقال شوہر کا ایک ہی مکان تھا جہاں وہ گھر والوں کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ البتہ آبائی گاؤں میں بھی اس کا ایک مکان تھا جسے اس نے پندرہ سال پہلے فروخت کردیا تھا۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

شوہر نے جس مکان میں بیوی کو رکھا ہوا تھا اس کے انتقال پر اسی مکان میں عدت گزارنا اس پر واجب ہوتا ہے۔ بلاضرورتِ شرعیہ اس مکان سے نکلنا اور کسی دوسرے مکان میں عدت کیلئے جانا ، نا جائز و گناہ ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید کی بیوہ دورانِ عدت بلا ضرورتِ شرعیہ شوہر کے  مکان سے نکلنے کے سبب گنہگار ہوئی اس گناہ سے توبہ کرے اور اپنی بقیہ عدت شوہر کے  مکان میں ہی  پوری کرے۔

(فتاویٰ عالمگیری ، 1 / 535 ، فتاویٰ رضویہ ، 13 / 330 ، فتاویٰ امجدیہ ، 2 / 285)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت نورالعرفان ، کھارادر ، کراچی

 

Share

کچن گارڈن / عورت کے لئےنمازِ عصرکا مستحب وقت کونساہے؟ / قربانی کا گوشت

بھئی جلدو کرو کب بنےگی کلیجی ؟ حاجی امجد صاحب  نے کِچن میں جھانکتے ہوئے صدا لگائی ، بس دَم پَر ہے پانچ دس  منٹ لگیں گے۔ شہناز بیگم نے تسلّی دیتے ہوئے کہا ۔

اچھا تو  میں ذرا ارشد بھائی اور جَمشید چچّا  کو گوشت دے آؤں۔ یہ کہہ کر حاجی امجد بڑا سا شاپر اُٹھائے چل پڑے۔ گوشت کاسارا ڈھیر ابھی چٹائی پر ہی پڑا تھا حاجی صاحب کے جانے کےبعد شہناز بیگم دونوں بیٹوں کوساتھ لگاکر اس ڈھیر کو ڈیپ فریزر میں سیٹ کرنے میں مصروف ہو گئیں۔

حاجی صاحب کی واپسی تک تمام گوشت فریز ہوچکاتھا ، حاجی صاحب نے جونہی لاؤنج میں قدم رکھا گوشت کی چٹائی کانقشہ دیکھ کر  حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں کیونکہ اب وہاں چار مَن گوشت کے بجائے صِرف سری پائے ،  ہڈیاں اور چندکلو چربی و گوشت کی بوٹیاں اپنا ادھورا سا نظارہ پیش کررہی تھیں۔

حاجی صاحب نے سوالیہ نظروں سے شہناز بیگم کی طرف دیکھ کر پوچھا : یہ کیا ہے ؟

شہناز بیگم فاتحانہ انداز میں مسکراکر بتانے لگیں : میں نے اسپیشل گوشت فریج میں save کردیاہے بلکہ پیکٹ بناکر ڈشز کےنام بھی لکھ دئیے ہیں یہ دیکھئے ۔

حاجی امجد جیسے خیرخواہ و نرم دل  شخص جو کہ صدمے کی حالت میں تھےجب انہوں نے ذرا  سی  گردن گھماکر فریج میں جو جھانکا تو فریج بچھڑےکےگوشت سے ناصرف اووَر لوڈ ہوچکاتھا بلکہ شاپرز کے اوپر سے کڑاہی ، پسندے ، بریانی ، نہاری اور نجانے کیاکیا نام جگمگارہے تھے اور ان ناموں کی چمک  شہناز بیگم کی آنکھوں میں بھی نظرآرہی تھی۔

حاجی صاحب نے تأسُّف سے  دیکھتے ہوئے پوچھا : آپ نےسارا گوشت فریز کردیا ؟ غریبوں اور رشتے داروں میں ہم کیا تقسیم کریں گے؟

شہناز  بیگم جو کہ فریج بند کرتے ہوئے داد طلب نظروں سے حاجی صاحب کی طرف مُڑ رہی تھیں  شوہر کے سنجیدہ لہجے اور اچانک سوال سے ہَڑبَڑا گئیں مگر جَلد ہی حَوّاس بحال کرتے ہوئے بتانے لگیں : ارےحاجی صاحب! یہ دیکھئے میں نے بانٹنے کے لئے گوشت سائیڈ پر رکھ لیا ہے ۔

حاجی امجد صاحب جو کہ چٹائی پر بکھرے ہڈیوں اور چربی کے ڈھیرکو پہلے ہی ملاحظہ کرچکے تھے اپنے جذبات پر بمشکل قابو کرتے ہوئے بولے : بہت اچھی بات ہے کہ آپ کو غریبوں کا خیال ہے مگر جس طرح کا گوشت بلکہ ہڈیاں اور چربی آپ نے غریبوں کے لئے بچائی ہے کیا اس طرح کا فریج میں بھی رکھاہے؟ آپ نے ہمارے لئے اچھاسوچا تبھی اسپیشل گوشت فریز کیا مگر نیک بخت! غریبوں کےبچوں کے لئے بھی تو سوچئے!کیاآپ کو پیارے نبی   صلَّی اللہ  علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمان یاد نہیں کہ “ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان) بھائی کے لئے وہی  پسند نہ کرے  جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ “

عام طورپران بےچاروں کو توپورا سال گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا بقر عید پر ایک آس ہوتی ہے کہ قربانی کرنے والوں کے یہاں سے گوشت آئےگا تو اپنے بچوں کو کھلائیں گے ۔

پتا ہے صبح عید گاہ سے واپسی پر ارشد سبزی فروش کا بیٹا حامد بُھولپن سے اپنے باپ سے پوچھ رہاتھا : بابا ! کیا آج بھی ہم سبزی ہی کھائیں گے ؟ارشد نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا : نہیں بیٹا! آج تو بقر عید ہے اِنْ شَآءَ اللہ  آج گوشت کھائیں گے۔

اچھا یہ بتائیے کہ ہم قربانی کیوں کرتے ہیں ؟ شہناز بیگم جوکہ اتنی مَتانَت سے سمجھانے پر نہ صرف قائل ہوچکی تھیں بلکہ دل ہی دل میں شَرمِندہ بھی ہورہی تھیں ، کہنے لگیں : سنّتِ رسول کی ادائیگی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ۔

ماشآءَ اللہ ، اللہ آپ کی  نیّت قبول فرمائے حاجی صاحب نے سراہتے ہوئے  مزید سوال کیا : اچھا تو اپنا ہی جانور قربان کرکے سارا گوشت اسٹور کرلینا تو مقصد نہیں۔

حاجی صاحب نے مزید کہا : نیک بخت!اگر کسی نے قربانی کا سارا گوشت خود ہی رکھ لیا تب بھی کوئی گناہ نہیں لیکن بہتر اور افضل یہ ہے کہ گوشت کے3حصے کرے : ایک حصہ فُقراء کے لئے ، ایک دوست و احبا ب کے لئے اور ایک اپنے گھر والوں کے لئے۔                                    (ابلق گھوڑے سوار ، ص23)

 شہناز بیگم نے تائید میں سَر ہلاتے ہوئے کہا : آپ بالکل صحیح فرمارہے ہیں حاجی صاحب! میں شرمندہ ہوں میں نے صرف اپنے لئے سوچا دوسرےمسلمانوں کو بھول گئی۔ اب سے میں کبھی ایسا نہیں کرونگی۔ یہ کہتے ہوئے  شہناز بیگم اُٹھ کر فریج کی طرف چل پڑیں۔ اب کہاں چلیں آپ؟ حاجی صاحب نے پوچھا۔

فریج سے گوشت نکال رہی ہوں ، آپ تقسیم کرنے کی تیاری کرلیجئے ہم آج شام تک سارا گوشت بانٹ دیں گے۔ اِنْ شَآءَ اللہ

شہناز بیگم کے جواب پر حاجی صاحب  اطمینان سے آنکھیں مُوْنْد کر رَبِّ کریم کا شکر ادا کرنے لگے۔

Share

Articles

Comments


Security Code